تعارف
گزشتہ بیس برسوں میں گوریلا تحریکیں خصوصاً لاطینی امریکہ اور ایشیاء کی حکومتوں کے لیے ایک مسلسل دردِ سر بنی رہیں۔ کیوبا میں فیڈل کاسترو کی کامیابی کے بعد یہ خوف پھیل گیا کہ اسی نوعیت کی تحریکیں پورے خطے میں جنم لے سکتی ہیں۔ کہیں یہ تحریکیں براہِ راست کیوبن اثرات سے ابھریں اور کہیں مقامی مسائل نے انہیں جنم دیا مگر مجموعی طور پر یہ واضح تھا کہ مسلح جدوجہد کا ایک نیا دور شروع ہو چکا ہے۔ روایتی حکمتِ عملی یہ تھی کہ گوریلا گروہ دور دراز دیہی علاقوں میں اپنا مضبوط مرکز بناتے، پہاڑیوں اور جنگلات میں طاقت اکٹھی کرتے اور پھر آہستہ آہستہ شہروں کا گھیراؤ کرتے۔ یہی حکمتِ عملی ویت نام، لاؤس اور کمبوڈیا میں کامیاب نظر آئی مگر دنیا بدل رہی تھی اور اس کے ساتھ جنگ کا انداز بھی۔
ساٹھ کی دہائی کے وسط میں بہت سے ملکوں میں دیہات خالی ہونے لگے اور شہروں کی آبادی بڑھنے لگی۔ ساؤ پاؤلو جیسے شہر چند دہائیوں میں تین گنا بڑھ گئے اور وہ دیہی علاقے جو کبھی انقلابی تحریکوں کی پناہ گاہ ہوتے تھے اب حکومت کی نگرانی، فوجی چوکیوں اور سڑکوں کے جال سے بھرنے لگے۔ ایسے ماحول میں گوریلا گروہوں نے محسوس کیا کہ دیہات اب وہ محفوظ پناہ گاہ نہیں رہے چنانچہ انہوں نے ایک بالکل مختلف راستہ اختیار کیا یعنی شہروں کو ہی اپنا میدانِ جنگ بنانا۔ شہر اپنی بھیڑ , گمنامی، میڈیا اور سیاسی علامتوں کی بھرمار کے باعث ایک نیا اور نہایت موزوں ماحول پیش کرتے تھے۔
دنیا کے کئی ممالک میں یہی رجحان دیکھنے میں آیا۔ الجزائر کی گلیوں سے لے کر آئرلینڈ کے بلفاسٹ تک برازیل کے صنعتی شہروں سے لے کر گواتیمالا اور میکسیکو تک اور پھر ایشیا و یورپ کے مختلف حصوں میں شہری گوریلا اپنے ملکوں کی سیاسی ساخت کو چیلنج کرنے لگے۔ ان تحریکوں کا کوئی ایک عالمی نظریہ موجود نہیں تھاـ ہر جگہ وہ حالات کے مطابق ڈھلتی گئیں۔ برازیلی انقلابی کارلوس مارگیلہ نے شہری گوریلا جنگ کو ایک نظریاتی شکل دینے کی کوشش کی مگر ان کی ناگہانی موت نے اس کوشش کو ادھورا چھوڑ دیا۔ تاہم ان کا بنیادی نقطہ یہی تھا کہ چھوٹے گروہ شہر کے دل میں داخل ہو کر ریاست کے تاثر کو ہلا سکتے ہیں اور کم وسائل کے باوجود بڑا سیاسی دباؤ پیدا کر سکتے ہیں۔
شہری گوریلا جدوجہد کا اصل ہتھیار طاقت نہیں بلکہ تاثر ہوتا ہے۔ ہر حملہ خواہ چھوٹا ہو اپنے اندر ایک علامت رکھتا ہے یعنی یہ دکھانا کہ حکومت کمزور ہے ـ پولیس ناقابلِ اعتماد ہے اور یہ کہ ایک نادیدہ قوت اس کے اندرونی حصوں تک پہنچ سکتی ہے۔ اسی لیے شہری گوریلا جنگ فوری کامیابی کی جدوجہد نہیں ہوتی بلکہ یہ طویل بتدریج اور ذہنی دباؤ پر مبنی جنگ ہے جس کا مقصد پورے معاشرے میں بے چینی، عدم اعتماد اور سیاسی خلل پیدا کرنا ہوتا ہے۔
شہری گوریلا جنگ کا عالمی منظرنامہ
پچھلے برسوں کے دوران دنیا کے کئی بڑے شہر ایسے واقعات کے گواہ بنے جنہوں نے اس خیال کو مضبوط کیا کہ جدوجہد کا میدان اب پہاڑوں اور جنگلات میں نہیں بلکہ شہری فضا میں منتقل ہو رہا ہے۔ الجزائر، آئرلینڈ، برازیل، گواتیمالا، کاراکاس، منیلا، سانتو ڈومنگو، پیرس اور ان سب شہروں نے ایسے مسلح گروہوں کا سامنا کیا جو تعداد میں بہت کم مگر اپنی جسارت اور طریقۂ کار میں انتہائی پیچیدہ تھے۔ ان تحریکوں نے دنیا کو یہ احساس دلایا کہ شہری گوریلا جنگ کوئی وقتی رجحان نہیں بلکہ ایک باقاعدہ سیاسی اور سماجی مظہر بن چکا ہے۔ اس نئی جنگ کی کوئی عالمی رہنمائی موجود نہیں ہے کوئی ایسا نظریہ نہیں جسے دنیا بھر کے گوریلا یکساں طور پر اپناتے ہوں۔ ہر ملک میں یہ جنگ اپنے ماحول اور اپنے سیاسی زخموں اور اپنی معاشرتی کمزوریوں سے جنم لیتی ہے۔
برازیل کے کارلوس مارگیلہ ان چند لوگوں میں سے تھے جنہوں نے شہری گوریلا جنگ کے اصولوں کو لفظوں میں ڈھالنے کی کوشش کی مگر ان کی موت نے وہ سلسلہ ادھورا چھوڑ دیا۔ تاہم ان کا بنیادی مؤقف یہ تھا کہ شہر میں لڑنے والا گوریلا کسی دیہی جنگجو سے کمزور نہیں ہوتا بلکہ بعض لحاظ سے وہ زیادہ خطرناک ہوتا ہے کیونکہ وہ دشمن کے بالکل دل میں داخل ہو کر سرگرم ہوتا ہے وہاں جہاں ریاست اپنے آپ کو سب سے محفوظ اور طاقتور سمجھتی ہے۔ شہر کے اندر ہونے والی ہر کارروائی نہ صرف پولیس اور حکومت کے لیے پریشانی کا باعث بنتی ہے بلکہ میڈیا کی موجودگی اس کے اثر کو کئی گنا بڑھا دیتی ہے۔
شہری گوریلا جنگ کا اصل نکتہ یہ ہے کہ اس کی ہر کارروائی محض ایک حملہ نہیں ہوتی بلکہ ایک پیغام ہوتی ہے۔ ایسا پیغام جو اخبارات کی سرخیوں میں جگہ پاتا ہے عوام کے ذہن میں سوال پیدا کرتا ہے اور حکومت کے رعب کو دھندلا دیتا ہے۔ کبھی ایک بینک پر حملہ حکومت کی مالیاتی طاقت پر سوال اٹھاتا ہے کبھی ایک فوجی چوکی پر چھوٹا سا دھماکہ ریاست کی کمزوری کو بے نقاب کرتا ہے اور کبھی کسی سرکاری عمارت کے باہر فائرنگ کا واقعہ یہ بتا دیتا ہے کہ جو قوت حکومت کو چیلنج کر رہی ہے وہ کہیں نہ کہیں معاشرے کے اندر جڑیں رکھتی ہے۔ اس طرح گوریلا جنگ ایک مخصوص مقام پر ہونے والی کارروائی سے کہیں بڑھ کر ایک نفسیاتی جنگ بن جاتی ہے جو پورے شہر کی فضا پر اثر انداز ہوتی ہے۔
یہ حقیقت بھی اہم ہے کہ شہری گوریلا تحریکیں فوری کامیابی کے لیے نہیں لڑتیں۔ ان کا مقصد فوجی فتح نہیں بلکہ سیاسی تاثر پیدا کرنا ہوتا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ حکومتوں کو طاقت سے شکست دینا ممکن نہیں مگر انہیں کمزور دکھانا ہمیشہ ممکن ہے۔ اسی کمزوری کی تصویر جب بار بار عوام کے سامنے آئے تو ایک ایسا شک پیدا کرتی ہے جو پورے سیاسی نظام کی بنیاد ہلا دیتا ہے۔ یہی وہ نقطہ ہے جہاں شہری گوریلا جنگ اپنی اصل قوت دکھاتی ہےـ
دنیا کے مختلف شہروں میں اس جنگ کا انداز مختلف ہوتا ہے۔ کہیں یہ لڑائی پولیس اور حکومت کے درمیان گلی کوچوں میں جاری رہتی ہے کہیں یونیورسٹیوں، لیبر یونینوں اور سیاسی کارکنوں کے درمیان پھیلتی ہے اور کہیں صرف چند علامتی حملے پورے معاشرے میں خوف اور بے یقینی پیدا کر دیتے ہیں۔ گواتیمالا، یورگوائے، برازیل اور کئی یورپی ملکوں میں شہری گوریلا گروہوں کی کارروائیاں اس قدر متنوع تھیں کہ انہیں ایک ہی اصول میں قید کرنا ممکن نہ رہا۔ مصنف اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہوئے بتاتا ہے کہ شہری گوریلا جنگ ہمیشہ اپنے ملک کی صورتحال کا عکس ہوتی ہے اور اس کا ہر قدم اسی مخصوص ماحول میں جنم لیتا ہے جس میں وہ پروان چڑھتی ہے۔
یہ پورا منظرنامہ ہمیں بتاتا ہے کہ شہری گوریلا جنگ کسی ایک نظریے یا ایک ہی صورت تک محدود نہیں۔ یہ ایک ایسی شکل ہے جو جہاں بھی جنم لے اپنے ماحول کے مطابق ڈھل جاتی ہے۔ مگر اس کا بنیادی مقصد ہمیشہ ایک ہی رہتا ہے یعنی حکومت پر نفسیاتی دباؤ ڈالنا، اس کے کنٹرول کو چیلنج کرنا اور عوام کو یہ احساس دلانا کہ ریاست ناقابلِ شکست نہیں۔ یوں یہ جنگ بندوق سے کم، ذہن اور تاثر سے زیادہ لڑی جاتی ہے اور اس کا اثر گولہ بارود سے کہیں زیادہ دیرپا ہوتا ہے۔
پہلا مرحلہ: تشہیری تشدد
شہری گوریلا جنگ کا پہلا مرحلہ ایک بہت نازک مگر نہایت فیصلہ کن مرحلہ ہوتا ہے کیونکہ یہ وہ وقت ہے جب ایک ابھرتا ہوا گروہ پہلی مرتبہ اپنے وجود کا اعلان کرتا ہے۔ اس مرحلے میں گوریلا کی اصل طاقت اس کے حملوں میں نہیں ہوتی بلکہ اس تاثر میں ہوتی ہے جو وہ ان حملوں کے ذریعے پیدا کرتا ہے۔ چونکہ تنظیم چھوٹی ہوتی ہے، وسائل محدود ہوتے ہیں اور خطرات بے شمار اس لیے وہ ایسی کارروائیاں اختیار کرتی ہے جو بظاہر کمزور نظر آتی ہیں لیکن اپنی علامتی قوت سے حکومت کے اختیار کو چیلنج کرتی ہیں۔ یہ وہ لمحہ ہے جب گوریلا کسی بڑے ٹکراؤ کا ارادہ نہیں رکھتا بلکہ شہر کے اندر ایسی لہر پیدا کرنا چاہتا ہے جو سب کی توجہ اس کی جانب مبذول کر دے۔
اس مرحلے میں ہونے والی کارروائیاں معمولی دکھائی دیتی ہیں یعنی کہیں کوئی چھوٹا دھماکہ، کہیں کسی سرکاری عمارت کی دیوار پر فائرنگ کے چند نشان، کہیں کوئی بینک یا دفتر اچانک ہدف بن جانا۔ مگر ان سب کا مقصد ایک ہی ہوتا ہے: یہ بتانا کہ ایک نئی قوت شہر میں داخل ہو چکی ہے ایک ایسی قوت جو کمزور ہونے کے باوجود نڈر ہے جو تعداد میں کم ہے مگر دلیر اتنی کہ دشمن کے پہرے میں بھی اپنی موجودگی ثابت کر سکتی ہے۔ گوریلا گروہ جانتا ہے کہ اسے ابھی حمایت نہیں ملی، عوام اسے ابھی صرف ایک خبر کے طور پر دیکھتے ہیں اور حکومت اسے محض چند غیرمنظم افراد کا معاملہ سمجھتی ہے لیکن وہ اسی غلط فہمی کو اپنا سب سے بڑا ہتھیار بنا لیتا ہے۔
شہری گوریلا کی کارروائیوں کا پہلا مقصد یہ نہیں ہوتا کہ حکومت کو نقصان پہنچایا جائے یا اس کے کسی بڑے حصے کو مفلوج کر دیا جائے۔ اس کا مقصد ایک ہلچل پیدا کرنا ہوتا ہے یعنی ایک ایسا سوال اٹھانا جس کا جواب حکومت کے پاس نہیں ہوتا۔ ایک علامتی حملہ جب اخبار کے صفحے پر آتا ہے تو اس کا اثر حقیقت سے کہیں زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ یوں ایک چھوٹا سا واقعہ پورے شہر کے احساسِ تحفظ کو ہلا دیتا ہے۔ یہی وہ ذہنی جنگ ہے جس کی بنیاد اس مرحلے میں رکھی جاتی ہے۔ گوریلا یہ جانتا ہے کہ ابھی وہ ریاست کو کمزور نہیں کر سکتا مگر وہ ریاست کے تصورِ طاقت پر پہلی ضرب ضرور لگا سکتا ہے۔
دنیا کے مختلف ملکوں میں اسی مرحلے کی مثالیں ملتی ہیں۔ یورگوائے کے ٹوپاماروس ہوں یا گواتیمالا کے شہری جنگجو سب نے اپنی جدوجہد کا آغاز چھوٹے مگر بےحد علامتی حملوں سے کیا جیسا کہ بینکوں سے رقم لے کر اسے ’’عوام‘‘ کا مال قرار دینا، سفارتخانوں کے قریب ایسے دھماکے کرنا جن سے زیادہ نقصان نہ ہو مگر دنیا بھر کی توجہ کھینچ لی جائے یا کسی فوجی عمارت کی دیوار پر ایسے وقت گولی چلانا جب پہرہ سخت ہو تاکہ اپنی جرأت کا پیغام دیا جا سکے۔ ان کارروائیوں میں خونریزی کم ہوتی ہے مگر ان کا مقصد خون بہانا نہیں صرف پیغام بھیجنا ہوتا ہے۔
گوریلا تحریکیں اس مرحلے میں ایک اور بات کو بھی خوب سمجھتی ہیں کہ عوام ابھی ان کے ساتھ نہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اگر وہ زیادہ تشدد کریں گے تو شہر کی ہمدردی کھو بیٹھیں گے اور اگر وہ بالکل خاموش رہیں گے تو وہ کبھی نظر ہی نہیں آئیں گے۔ اس لیے وہ ایسی کارروائی اختیار کرتے ہیں جو ایک طرف ریاست کو بے نقاب کرے اور دوسری طرف عوام کو یہ احساس دلائے کہ یہ تحریک ان کے خلاف نہیں بلکہ ان کے ماحول میں پنپنے والی ناانصافی کے خلاف وجود میں آئی ہے۔ اس ابتدائی مرحلے میں گوریلا کی طرف سے کیا جانے والا ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھایا جاتا ہے ہر حملہ اپنے اندر ایک مخصوص علامت رکھتا ہے اور ہر خبر ان کے مستقبل کی بنیاد بن جاتی ہے۔
مصنف کے مطابق یہ مرحلہ دراصل شہری گوریلا جنگ کا وہ دَر ہے جس سے گزر کر ہی کوئی تحریک آگے بڑھ سکتی ہے۔ اگر اس مرحلے کے حملے بے ربط ہوں، بہت زیادہ پرتشدد ہوں یا عوام کو خوفزدہ کر دیں تو تحریک آگے بڑھنے سے پہلے ہی ختم ہو سکتی ہے۔ اسی لیے گوریلا چھوٹے وار کرتا ہے مگر ان میں نفسیاتی وزن اس قدر رکھتا ہے کہ وہ شہر کی فضا میں ایک مستقل بے چینی کو جنم دے دیتے ہیں۔ حکومت کے لیے یہی سب سے خطرناک بات ہوتی ہے کیونکہ وہ محسوس کرتی ہے کہ کوئی دشمن اس کے بلکل قریب اس کی نظروں کے سامنے اور اس کے مرکز میں داخل ہو کر سرگرم ہے اور وہ اس دشمن کی پہنچ یا تعداد کا اندازہ بھی نہیں لگا سکتی۔
یوں شہری گوریلا جنگ کا پہلا مرحلہ اپنے اندر ایک عجیب سا تضاد رکھتا ہے یعنی گوریلا کمزور بھی ہوتا ہے اور طاقتور بھی۔ کمزور اس لیے کہ اس کے پاس وسائل نہیں اور طاقتور اس لیے کہ اس کی گمنامی اسے تقریباً ناقابلِ گرفت بنا دیتی ہے۔ اسی گمنامی کے سہارے وہ ایک ایسی جنگ شروع کرتا ہے جس میں پہلا وار چھوٹا ہوتا ہے مگر اس کا اثر پورے شہر میں گونجتا ہے ایک ایسی گونج جس میں آگے آنے والے تمام مراحل کی بنیاد پوشیدہ ہوتی ہے۔
دوسرا مرحلہ: تنظیمی تعمیر اور پھیلاؤ
جیسے ہی شہری گوریلا اپنے ابتدائی مرحلے کی چند کارروائیوں کے ذریعے شہر کے اندر اپنی موجودگی کا احساس دلا دیتا ہے وہ ایک نئے اور زیادہ پیچیدہ دور میں داخل ہوتا ہے ـ ایک ایسا دور جس میں صرف حملے اہم نہیں رہتے بلکہ اس تحریک کی بقا، اس کی تنظیمی ساخت اور اس کی اندرونی طاقت وہ بنیادی ستون بن جاتے ہیں جن پر مستقبل کی پوری جدوجہد کھڑی ہوتی ہے۔ یہ مرحلہ دراصل ایک خام خیال سے ایک حقیقت بنتی ہوئی تحریک کا سفر ہے جس میں جوش سے زیادہ صبر کی ضرورت ہوتی ہے اور نعرے سے زیادہ حکمت کا وزن ہوتا ہے۔
گوریلا گروہ اس مرحلے میں اچانک بڑا نہیں ہو جاتا نہ ہی وہ اپنے عزائم کو یکدم ظاہر کرتا ہے بلکہ وہ خاموشی کے ساتھ شہر کی رگوں میں سرایت کرنے لگتا ہے۔ ایسے گھر جن کی کھڑکیوں سے عام روشنی جھلکتی ہے کبھی پناہ گاہ بن جاتے ہیں ایسے لوگ جو دیکھنے میں عام شہری نظر آتے ہیں کبھی رابطوں کی کڑیاں ثابت ہوتے ہیں اور ایسی جگہیں جو روزمرہ کی ہنگامہ خیزی میں گم رہتی ہیں کبھی گروہ کے محفوظ راستے بن جاتی ہیں۔ اس مرحلے کی اصل خوبی یہی ہے کہ گوریلا اپنے وجود کو پھیلانے کے باوجود اپنی گمنامی کو قائم رکھتا ہے وہ بڑھتا ہے مگر دکھائی نہیں دیتا، اس کی جڑیں پھیلتی ہیں مگر سطح پرسکون رہتی ہے۔
یہ وہ وقت ہے جب تحریک کے دروازے نئے لوگوں کے لیے کھلنے لگتے ہیں۔ کچھ لوگ اس کے نام سے متاثر ہو کر آتے ہیں، کچھ ریاست سے مایوس ہو کر، کچھ انصاف کی تلاش میں اور کچھ محض اس خواہش سے کہ وہ کسی بڑے مقصد کا حصہ بن سکیں۔ تنظیم انہیں پرکھتی ہے، آزماتی ہے اور پھر آہستہ آہستہ اپنے اندر سمیٹ لیتی ہے۔ ہر نیا فرد ایک نئی قوت بنتا ہے مگر ہر نئے فرد کا خطرہ بھی ہوتا ہے کیونکہ شہر میں سرگرم رہنے والی ہر تحریک کے لیے بھید کھل جانا سب سے بڑا خطرہ ہوتا ہے۔ اس لیے گوریلا تنظیم بھرتی کو محض تعداد کا اضافہ نہیں سمجھتی بلکہ اسے ایک ذمہ داری سمجھتی ہے یعنی ایسی ذمہ داری جس میں غلط قدم پوری تحریک کو بکھیر سکتا ہے۔
تنظیم بڑھتے ہوئے صرف افراد نہیں حاصل کرتی بلکہ تعلقات بناتی ہے ایسے تعلقات جو کبھی کسی ڈاکٹر تک جاتے ہیں، کبھی کسی محنت کش تک، کبھی کسی اخبار فروش تک اور کبھی کسی سرکاری محکمے کے ملازم تک۔ یہ وہ خاموش باطن ہے جس پر ہر شہری گوریلا تحریک قائم ہوتی ہے۔ اسی باطن میں خفیہ پیغام رسانی کے طریقے جنم لیتے ہیں، راستے طے ہوتے ہیں وقت کا انتخاب کیا جاتا ہے اور شہر کے اندر وہ نقاب تیار ہوتا ہے جس کے پیچھے رہ کر سارا کھیل کھیلا جاتا ہے۔
اسی مرحلے میں تنظیم مالی وسائل بھی پیدا کرنے لگتی ہے۔ شہر کے اندر رہنے والی تحریک کو زندہ رہنے کے لیے خوراک، اسلحہ، پناہ گاہیں، دوائیں، نقل و حرکت اور ہر اس چیز کی ضرورت ہوتی ہے جو ایک خفیہ زندگی کا لازمی حصہ ہے۔ یہ سب کچھ پیسے کے بغیر ممکن نہیں۔ چنانچہ تنظیم شہر کی کمزوریوں کا مطالعہ کرتی ہے اور وہ راستے تلاش کرتی ہے جن کے ذریعے وہ اپنی سرگرمیوں کو جاری رکھ سکے۔ کہیں کوئی علامتی بینک ڈکیتی ہوتی ہے کہیں تاوان لیا جاتا ہے اور کہیں کوئی چھوٹی واردات بڑے مقصد کا ذریعہ بنتی ہے۔ یہ سب کچھ تنظیم کو طاقتور نہیں بناتا مگر اسے قائم رکھتا ہے اور یہی بقا اس مرحلے کی اصل کامیابی ہوتی ہے۔
اس دور میں گوریلا گروہ ایک اور گہری تبدیلی سے گزرتا ہے۔ اب وہ صرف حکومت کو چیلنج کرنے والا رجمنٹ نہیں رہتا بلکہ وہ خود ایک منظم قوت بنتا ہے۔ اس قوت کا اپنا نظم و ضبط ہوتا ہے اپنے اصول ہوتے ہیں اپنے فیصلے اور اپنے اندرونی اختلافات۔ ہر رکن اپنے آپ کو کسی بڑے مقصد کا حصہ محسوس کرتا ہے اور یہی احساس اسے جان ہتھیلی پر رکھنے کی ہمت دیتا ہے۔ لیکن اسی مقام پر یہ حقیقت بھی واضح ہونے لگتی ہے کہ شہر میں لڑنا دیہات میں لڑنے سے کہیں زیادہ مشکل ہے۔ دیہات میں فاصلہ تحفظ دیتا ہے مگر شہر میں ہر گلی، ہر سڑک، ہر عمارت اور ہر شخص ممکنہ خطرہ بھی ہے اور ممکنہ سہارا بھی۔ یہ وہ پیچیدگی ہے جو شہری گوریلا جنگ کو اتنا منفرد اور اتنا خطرناک بناتی ہے۔
اس مرحلے میں تحریک صرف چھپتی نہیں بلکہ سیکھتی ہے۔ وہ حکومت کے ردعمل کا جائزہ لیتی ہے پولیس کی کمزوریوں کو سمجھتی ہے ان علاقوں کی نشاندہی کرتی ہے جہاں کارروائی ممکن ہے اور ان راستوں سے واقف ہو جاتی ہے جہاں سے اسے ہر حال میں بچ کر نکلنا ہوتا ہے۔ اس کی نگاہ صرف دشمن پر نہیں رہتی بلکہ پورے شہر کی نبض پر ہوتی ہے کہاں بے چینی بڑھ رہی ہے، کہاں احتجاج کے امکان ہیں، کہاں مایوسی پھیل رہی ہے اور کہاں وہ جگہ ہے جہاں ایک چھوٹا سا واقعہ بھی بڑے ردعمل کو جنم دے سکتا ہے۔
یوں یہ مرحلہ شہری گوریلا جنگ کا وہ حصہ ہے جس میں تحریک اپنے آپ کو تشکیل دیتی ہے۔ وہ نہ تو ابھی لڑائی کے لیے تیار ہوتی ہے نہ ہی وہ اپنے مقصد سے پیچھے ہٹتی ہے وہ صرف اپنی بنیاد مضبوط کرتی ہے اپنے قدم جمانے کی کوشش کرتی ہے اور اس شہر کو سمجھنے لگتی ہے جس کے اندر اسے جنگ لڑنی ہے۔ یہ مرحلہ خاموش ہوتا ہے مگر فیصلہ کن، غیرنمایاں مگر بنیاد ساز۔ اسی مرحلے کی مضبوطی سے یہ طے ہوتا ہے کہ تحریک آگے بڑھ سکے گی یا کسی ابتدائی جھٹکے سے بکھر جائے گی۔
شہری گوریلا جنگ میں بقا خود ایک جنگ ہوتی ہے اور اس مرحلے میں تحریک اسی بقا کے لیے اپنے آپ کو تیار کرتی ہے یعنی بغیر شور اور بغیر اعلان مگر ایک ایسی گہری حکمت کے ساتھ جو آنے والے تمام مراحل کی تقدیر کا تعین کرتی ہے۔















