ہمگام کالم تحریر : مہراب مہر یوم آزادی کسی قوم کی عظمت کا وہ دن ہے جہاں سے وہ پھر سے ظہور پذیر ہوتا ہے اور اس یوم تک پہنچنے میں انھیں قربانیوں کے لامتناہی سلسلے سے گزرنے کے بعد ہی ہاتھ آتا ہے جہاں نوجوان بزرگ کماش ،بوڑھے ،بچے و عورتیں سب ہی اس دن کے لیے قربان ہو جاتے ہیں تاکہ اس غلامی، جبر و بربریت سے اپنے آنے والے نسلوں کو ایک پرامن و خوشگوار زندگی دے سکیں یہ وہی لوگ ہوتے ہیں جو تاریخ بناتے ہیں قوموں کی تاریخ ایسے ہی لوگوں کی مرحوم منت ہوتی ہیں جو اپنی زندگی کی تمام خواہشات و اپنی زندگی کے ہر حسین لمحوں کو وطن کی خاطر قربان کرکے اپنی جان دے دیتے ہیں جو آئندہ نسلوں کے لیے علامت بن کر امر ہو جاتے ہیں اور آزادی کے منزل تک کی اس سفر میں ہزاروں لوگ گمنامی کی موت سے بھی بغل گیر ہوتے ہیں جو ریاستی عقوبت خانوں سمیت حادثاتی واقعات و دشمن کے جبر و بربریت کا شکار بن کر موت کو گلے لگا لیتے ہیں یہ سبھی وطن کی شان بن کر امر ہو جاتے ہیں دنیا کی آزاد اقوام اپنی یوم آزادی کے ساتھ یوم شہداء مناتے ہیں کیونکہ آزادی کی نعمت انھی شہداء کی قربانیوں کی بدولت انھیں نصیب ہوتی ہے 20 جنوری آزربائیجان کے آزادی کا دن ہے جب سوویت یونین نے آزربائیجان میں قتل عام کرکے سینکڑوں لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا ،جو کہ خونی دن و قومی صبح کے نام سے جانا جاتا ہے اسی طرح تنزانیہ میں شہدائے وطن کے لیے 9 اپریل کا دن مقرر ہے جب 1881 سے 1956 تک تنزانیہ کے لوگوں نے فرانس کے خلاف اپنی جدوجہد کرتے رہے اور بہ آخر آزاد ملک کے مالک بن بیٹھے اور دنیا کے دیگر ممالک ایک مخصوص شہید کی یاد آوری کے ساتھ وطن کے لیے ان تمام شہیدوں و گمنام سپاہیوں کی یاد میں غمگسار ہوتے ہیں جو وطن کی دفاع و آزادی کے لیے موت سے بغل گیر ہوتے ہیں اسی طرح بلوچ قوم جو کہ کئی عشروں سے آزادی کے لیے دیوانہ وار لڑ رہے ہیں لیکن قومی آزادی انھیں نصیب نہیں ہوئی اور سات مہینے و کچھ دنوں کی آزادی و پھر غلامی کا طوق ان کے گلے کا ہار بن گیا اس غلامی کے خلاف بلوچ قوم اپنے وطن کی دفاع و آزادی کے لیے جنگ لڑ رہے ہیں 11اگست روز آزادی و 27 مارچ کو روز قبضہ گیریت کے خلاف بغاوت کے طور پر اس دن کو یاد کرتے ہیں اسی طرح 28 مئی کو یوم آسروخ کے نام پر، بلوچ تاریخ کے سیاہ ابواب میں شامل ہیں اور پاکستانی غلامی کے خلاف بلوچ قوم کی جہد 1948 سے لیکر اب تک جاری و ساری ہے انگریز غلامی کے خلاف خان مہراب خان نے تلوار اٹھا کر ان کے مدمقابل کھڑے رہے اور بلوچ وطن کے بادشاہ کی حیثیت سے وطن کی دفاع پر اپنے ساتھیوں سمیت شہید ہوئے اور تیرہ نومبر کی وہ خون آلود صبح تاریخ میں رقم ہوئی وہ بلوچ وطن کی آزادی کی دفاع اپنے خون سے کرتے رہے ، وہی روایت آج تک جاری ہے کہ بلوچ سماج کے ہر طبقہ کے لوگوں نے وطن کی دفاع کے لیے اپنی جان نثار کر رہے ہیں تاکہ اپنے وطن کی آزادی کو بحال کر سکیں ڈیڈھ سو سال کے اس سفر میں ہزاروں بلوچوں نے وطن کی دفاع میں اپنی جان قربان کر چکے ہیں تیرہ نومبر وہ مقرر دن جب غلامی کے خلاف بلوچ نے بغاوت کی اس دن کو قومی شہداء کے دن کی مناسب سے قوم کے تمام شہداء کو وطن کی راہ پر قربان ہونے پر خراج عقیدت پیش کیا جاسکے اور انکے روحوں کے ساتھ یہ سوگند کیا جاسکے کہ انکے نقش قدم پر چل کر وطن کی دفاع کرینگے وہ اپنا فرض نبھا کر چلے اور اپنی بندوق ہمیں تھما کر چلے گئے ہمیں بھی انکی طرح اپنی وطن کی دفاع کرتے ہوئے ثابت کرنا ہوگا شہداء کے دن کی مناسبت پر آشکبار ہونا نہیں بلکہ انکے قربانیوں و انکی بے غرضانہ کردار کے مختلف پہلوؤں سے قوم کو روشناس کرانا ہے انھیں اس عزت و احترام سے نوازنا ہے جسکے وہ لائق ہے سر خم کرکے انکی بہادری و شجاعت کی داد دینی ہے جو اپنے حال کو قوم کے مستقبل کے لیے اس سوچ کے تحت قربان کر گئے کہ آنے والی پیڑی ایک پرامن و آزاد وطن میں سانس لے سکے. شہید مرتے نہیں بلکہ زندہ رہتے ہیں وہ ایک صدی تک نہیں بلکہ رہتی دنیا تک اس وجہ سے زندہ رہتے ہیں کہ وہ حق کے راستے پر چل کر بے غرض ہو کر اپنی جان وطن کے لیے قربان کرتے ہیں وہ دنیاوی عیش و عشرت کی زندگی کو اپنے مٹی کے لیے قربان کرتے ہیں وہ اپنی خواہشات کو زنجیروں سے باندھ کر تکلیف و خواری کی زندگی کو اپناتے ہیں وہ اپنے بھال بچوں کی پرواہ کیے بغیر وطن کے لاکھوں بچوں کی بہتر زندگی کے لیے آزادی کے فکر سے خود کو جوڑ کر وطن کیلئے قربان ہونے پر فخر کرتے ہیں آزادی کی امنگ ان دلوں میں پنھپتی ہے جو آزادی کی قدر و اہمیت سے واقف ہوتے ہیں جو اپنی قومی پہچان کے زیر سایہ جینا چاہتے ہیں جو اپنے قوم کو دیگر اقوام کے برابر دیکھنے کے خواہاں ہوتے ہیں جو غریبی بزگی سے اپنے قوم کو نکالنا چاہتے ہیں قومی مفاد کے لیے ہی وہ میدان جنگ و جہد کا حصہ بن کر بے غرض ہونے کا کچکول ہاتھ سے گرنے نہیں دیتے وہ بس ایک ہی منزل کی طرف نظریں لگا کر مستقیم چلتے رہتے ہیں وہ منزل آزادی کی ہوتی ہے وہ منزل پر پہنچنے سے پہلے ہی شہادت کا رتبہ حاصل کرتے ہیں اور اس جہد میں اپنا فرض نبھا کر امر ہوجاتے ہیں جو پیر ،کماش و جوان ہوتے ہیں اور وطن کی آبیاری اپنے خون سے کرتے رہتے ہیں شہید ہی کسی قوم کی پہچان ہوتے ہیں جو قوم کو غلامی کی زندگی سے نکالنے و آزادی کے ڈگر پر لے جانے میں اپنے خون کی آخری قطرہ تک بہا دیتے ہیں اور زمین اپنے ان سورماؤں پر فخر کرتی ہے کہ انھوں نے اس زمین پر چل کر بندوق اٹھا کے اپنی دھرتی ماں کی لاج رکھنے میں اپنی جان نچھاور کر دی یہ دن انھی سورماؤں کی یاد میں منایا جاتا ہے تاکہ دنیا کے سامنے ہم اپنے زندہ ہونے کا ثبوت دے سکیں اپنی زندہ جہد کا ثبوت دے سکیں جو لوگ مرتے ہیں وہ اپنی زندہ ہونے کا ثبوت دیتے ہیں جو زندہ ہیں وہ غلامی کی زنجیروں میں اسطرح جھکڑے ہوئے ہیں کہ انھیں اپنے وطن کی غلامی کا احساس ہی نہیں ہوتا وہ ریاست کے آلہ کار بن کر اپنے قوم سے کوسوں دور اجنبی بن جاتے ہیں اور قوم کے لیے ہمیشہ کے لیے مر جاتے ہیں اور ایسے قوم کے ہاتھوں مارے جانے کے بعد غداری و بدنامی کا کلنک انکی تقدیر بنتی ہے لیکن جو جہد کا حصہ بن کر وطن کی خاطر مرتے ہیں وہ موت کو زندگی بنا دیتے ہیں وہ موت کی قدر اس حد تک کرتے ہیں کہ وہ زندگی بن جاتی ہیں وہ زندگی کی قدر اس حد تک بڑھا کر اسے دنیا کے لیے ایک عظیم مقصد کے سامنے بے معنی کر دیتے ہیں کہ آزادی کے لیے مرنا ہی اصل زندگی ہیں کسی عظیم مقصد کے لیے موت کو قبول کرنا ہی زندگی ہے جس طرح شہید مجید، شہید درویش،شہید شیہک،شہید صدام،شہید ریحان،شہید حق نواز،شہید شاکر و دیگر بلوچ شہداء نے کی ،آج شہیدوں کی وجہ سے دنیا میں بلوچ کی وہ پہچان باقی رہ گئی ہیں کہ وہ کھبی آزاد رہے ہیں ایک ملک کے مالک رہے ہیں آج دنیا بلوچ و بلوچ کے ان شہیدوں و جہد کاروں کو فخر کی نگاہ سے دیکھتی ہے جو اپنے حق کے لیے ظالم کے سامنے جھکنے کی بجائے اپنا سر قلم کرنے سے بھی نہیں کتراتے. یہ دن انھی سورماؤں کو عقیدت مندانہ یادآوری کا دن ہے ان کی روح سے سوگند کا دن ہے کہ ان کے فکر و نظریے کی دفاع کا دن ہے ان کے کردار و عمل کو آشکار کرنے کا دن ہے ان سے عہد کا دن ہے یہ دن ہماری یکجہتی و اتحاد کا دن ہے کہ ہم اپنے شہیدوں سے عقیدت کے دن ایک ساتھ مل کر انکے نقش قدم پر چلنے کا عہد کریں کہ ان کے خون کے ہر قطرے کا حساب وطن کی آزادی کی مد میں لیں۔