کیچ (ہمگام نیوز) بلوچ سماجی و سیاسی کارکن کامریڈ وسیم سفر نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں کہنا تھا، یہاں قانون کو بطورِ ہتھیار استعمال کرتے ہوئے آزادیِ اظہارِ رائے پر پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں، اور سیاسی آوازوں کو خاموش کرنے کی منظم و وحشیانہ کوششیں جاری ہیں پُرامن سیاسی جدوجہد کرنے والے رہنماؤں اور کارکنان کے خلاف دہشتگردی کے جھوٹے مقدمات قائم کر کے انہیں انسدادِ دہشتگردی عدالتوں میں گھسیٹا جا رہا ہے وہ عدالتیں جو دراصل حقیقی دہشتگرد عناصر اور سنگین جرائم کے ملزمان کے لیے بنائی گئی تھیں۔ فورتھ شیڈول، نیکٹا اور دیگر فہرستوں میں پُرامن سیاسی کارکنوں کے نام شامل کر کے ان کی سیاسی و سماجی سرگرمیوں کو مستقل طور پر محدود کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ ریاستی طاقت اور پشت پناہی سے منسلک حکومتی و عسکری اتحاد اب کسی سے ڈھکا چھپا نہیں رہا۔ یہ سب کچھ سیاسی مقابلے کو طاقت کے زور پر ختم کرنے کی منصوبہ بند حکمتِ عملی کا حصہ ہے بلوچ قوم اپنی تاریخ کے تناظر میں جبر و تشدد سے دبنے والی قوم نہیں۔ ہزاروں سالہ تہذیب و ثقافت کی حامل قوم کو بندوقوں، فوجی آپریشنز یا بلیک لسٹوں کے ذریعے زیر نہیں کیا جا سکتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ 1971 میں جب عدم مساوات اور جبر کو پالیسی کا حصہ بنایا گیا، تو انجام کیا نکلا بنگال بنگلہ دیش کی صورت میں سامنے آیا۔ آج بھی وہی روش دہرائی جا رہی ہے، جو مستقبل کے لیے انتہائی خطرناک اشارہ ہے بلوچستان میں فوجی چھاؤنیاں، آپریشنز اور فورسز کی تعیناتی ہر گوشے تک پھیل چکی ہے۔ کوئی ایسی جگہ باقی نہیں جہاں سیکیورٹی اداروں کا سایہ نہ ہو۔ انہی اداروں کے لوگ بلوچ فرزندوں کی جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل، اور جعلی مقابلوں کے میں قتل عام انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں میں ملوث ہیں۔ بالاچ مولا بخش کا واقعہ اس کی واضح مثال ہے: 28 اکتوبر 2023 کو گرفتاری، 20 نومبر کو جھوٹے الزامات کے تحت انسدادِ دہشتگردی عدالت میں پیشی، اور 23 و 24 نومبر کی درمیانی شب بالاچ اور تین دیگر نوجوانوں کا جعلی مقابلے میں قتل۔ یہ محض ایک واقعہ نہیں بلکہ سینکڑوں، اسی نوعیت کے واقعات کا تسلسل ہے۔ عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ لوگ اپنی جان و مال کے تحفظ، انصاف اور آئینی ضمانتوں سے محروم ہو چکے ہیں۔ یہاں جمہوریت محض ایک رسمی ڈھانچہ رہ گئی ہے۔ گزشتہ 78 برسوں میں بار بار مارشل لاء یا اس کے طرز کی پالیسیاں نافذ کی گئیں، جنہوں نے عوامی شراکت اور عوامی مینڈیٹ کی حرمت کو مجروح کیا۔ وفاقی مرکز کی چند ایلیٹ طبقات اور مخصوص جرنیلوں کی تسلط پسندانہ سوچ نے ملک کو غیر مساوی اور غیر جمہوری راستے پر ڈال دیا ہے، جس کے نتیجے میں بلوچستان کی سیاسی، معاشی اور ثقافتی خودمختاری مسلسل پامال کی جا رہی ہے۔ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) جیسی وفاقی جماعتیں اگرچہ ریاستی سرپرستی میں مقامی سطح پر سرگرم کی جا سکتی ہیں، مگر بلوچستان کی حقیقی قومی سوچ اور مزاحمتی شعور کو ختم کرنا ناممکن ہے۔ تاریخ کا سبق ہے کہ جب سیاسی آوازیں دبائی جاتی ہیں تو وہ خاموشی نہیں بلکہ بغاوت کو جنم دیتی ہیں۔ جبر و انتقامی پالیسیاں کسی ریاست کے لیے دیرپا امن و استحکام نہیں بلکہ انتشار و بداعتمادی پیدا کرتی ہیں۔ اگر سیاست کو بند کیا گیا، حقوق کا گلا گھونٹا گیا، اور سماجی ناانصافی کو برقرار رکھا گیا تو نتائج 1971 سے بھی سنگین ہو سکتے ہیں۔ اس لیے لازم ہے کہ عسکری اور سیاسی پالیسیوں میں توازن، شفافیت اور مساوات کو بنیاد بنایا جائے تمام سیاسی قیدیوں اور پُرامن کارکنوں کے خلاف انسدادِ دہشتگردی کے نام پر درج جھوٹے مقدمات کو ختم کر لیا جائے۔ جبری لاپتہ افراد کے مقدمات کی شفاف تحقیقات کر کے متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جائے۔ فورتھ شیڈول اور دیگر فہرستوں میں بے بنیاد شمولیت کے عمل کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔ بلوچستان میں عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے خالص سیاسی مکالمہ شروع کیا جائے کیونکہ عسکری حل نہیں، صرف سیاسی حل ہی پائیدار ہے۔ وفاقی سطح پر مساوات، وسائل کی منصفانہ تقسیم، اور بلوچ قوم کے سیاسی و ثقافتی حقوق کو تسلیم کیا جائے بلوچستان کے مسائل کو بندوق اور بندش سے حل نہیں کیا جا سکتا۔ جب تک سیاسی عمل بحال نہیں ہوگا، اور آزادیِ اظہار و بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت نہیں دی جائے گی، اس سرزمین پر حقیقی امن قائم نہیں ہو سکتا۔ بلوچ قوم اپنی آزادی، وقار اور حقوق کے تحفظ کے لیے ہمیشہ پُرعزم رہی ہے۔ آپ طاقت کے ذریعے ان کے عزم و جذبے کو کچل نہیں سکتے۔ انصاف، مساوات اور سیاسی شمولیت ہی مستقل امن اور حقیقی قومی یکجہتی کا واحد راستہ ہے۔















