آپ طاقت اور بندوق کے زور پر کسی قوم کا وطن تو چھین سکتے ہیں، لیکن ان کے دلوں سے محبت، جذبہ اور آزادی کی تڑپ نہیں چھین سکتے۔ یہ ایک ایسی اٹل حقیقت ہے جسے دنیا کی کوئی فوجی طاقت نہیں جھٹلا سکتی۔ بلوچ قومی تحریک کی تاریخ میں یہ حقیقت ہر دور میں بار بار ثابت ہوئی ہے۔ پاکستان اور ایران، دونوں نے اپنی تمام تر فوجی طاقت، جبر، معاشی لوٹ مار اور ریاستی دہشت گردی کے ہتھکنڈے آزما لیے، لیکن وہ بلوچ عوام کے ذہنوں سے اپنے وطن کی محبت کو مٹا نہ سکے۔ وہ لوگ جو سمجھتے ہیں کہ ٹینک، توپ اور گولی کے زور پر قوموں کو ہمیشہ غلام رکھا جا سکتا ہے، وہ تاریخ کے سب سے بڑے دھوکے میں ہیں۔ بلوچستان میں قابض قوتوں نے وسائل پر قبضہ کیا، زبان اور ثقافت کو مٹانے کی کوشش کی، قومی شناخت کو مسخ کرنے کے لیے تعلیمی نظام کو اپنے پروپیگنڈے کا ہتھیار بنایا، مگر اس سب کے باوجود بلوچ عوام نے ہر نسل میں اپنی سرزمین اور شناخت کے لیے قربانی دی۔ ایران کی حکومت نے مغربی بلوچستان میں عوام پر ظلم کے پہاڑ توڑے، جبری گمشدگیاں، پھانسیاں، اور ثقافتی جبر کا سلسلہ آج بھی جاری ہے، جبکہ پاکستان نے مشرقی بلوچستان میں فوجی آپریشنز، اجتماعی قبروں، میڈیا بلیک آؤٹ اور ریاستی اداروں کے ذریعے دہشت کو عام کیا، مگر دونوں ریاستیں اس بات میں ناکام رہیں کہ بلوچ عوام کے نظریے اور شعور کو ختم کر سکیں۔ فری بلوچستان موومنٹ (FBM) اور اس کے رہنما ہیربیار مری اس جدوجہد کی زندہ علامت ہیں۔ انہوں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ جنگ صرف پہاڑوں میں نہیں لڑی جاتی بلکہ دلوں اور دماغوں میں لڑی جاتی ہے، اور یہی وہ محاذ ہے جہاں بلوچ قوم ناقابل شکست ہے۔ ہیربیار مری ہمیشہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ آزادی کا اصل ہتھیار شعور ہے، جو نہ صرف نوجوان نسل کو بیدار کرتا ہے بلکہ دشمن کی ہر سازش کو ناکام بناتا ہے۔ پاکستان اور ایران نے طاقت کا سہارا لے کر بلوچستان کو غلام رکھنے کی کوشش کی، مگر وہ یہ بھول گئے کہ زمین پر قبضہ ممکن ہے مگر نظریات پر نہیں۔ آج بلوچ نوجوان، چاہے وہ عالمی یونیورسٹیوں میں پڑھ رہے ہوں، جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہوں یا محاذ پر لڑ رہے ہوں، سب ایک ہی آواز بلند کر رہے ہیں کہ آزادی ہمارا حق ہے اور اس سے کم کسی بات پر سمجھوتہ ممکن نہیں۔ تاریخ نے یہ بھی دکھایا ہے کہ جو قوم اپنے وطن اور شناخت کے لیے بیدار ہو جائے، اس کو بندوق کی گولی سے نہیں روکا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بلوچ تحریک پہلے سے زیادہ مضبوط ہے، ہر شہادت ایک نئے عزم میں بدل رہی ہے، ہر گمشدگی ایک نئے مزاحمت کار کو جنم دے رہی ہے، اور ہر ظلم دنیا کے سامنے قابض قوتوں کا چہرہ بے نقاب کر رہا ہے۔ فری بلوچستان موومنٹ اور ہیربیار مری اس جدوجہد کو صرف ایک سیاسی تحریک نہیں بلکہ ایک فکری اور نظریاتی انقلاب بنا چکے ہیں، جو نہ وقت کی قید میں آ سکتا ہے نہ طاقت کے زور پر ختم ہو سکتا ہے، کیونکہ وطن شاید طاقت سے چھینا جا سکتا ہے، مگر شعور اور آزادی کی تڑپ کو کوئی طاقت نہیں مار سکتی۔