ہمگام کالم : میڈیکل اسٹوڈنٹ شہید اسلم بلوچ کوئٹہ میں میڈیکل فرسٹ ائیر کا طالب علم تھا اپنے ہاسٹل کے سامنے اس وقت شہید ہوا جب بی ایس او یسین اور بی ایس او کہور کے کارکنوں کے درمیان فائرنگ کاتبادلہ ہو رہا تھا بی ایس او یسین نے اسے اپنا شہید قرار دے دیا ، جبکہ دوسری طرف کہور گروپ بھی اسے اپنا ممبر کہہ رہا تھا۔ کچھ مخصوص سیاسی سوداگروں کی وجہ سے بلوچ طلباء کا ایک دوسرے کے خلاف لٹ کاری فائرنگ اور گالم گلوچ ہر طرف جاری تھا، اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بلوچ دشمن نے فدا احمد کو معلوم ہاتھوں سے شہید کروایا۔ لیکن اختلافات تھے ہی کیا کہ جس سے کشت و خون کی نوبت آئی؟ مجھے اچھی طرح یاد ہے تنظیمی اور تحریکی لحاظ سے اُس وقت کی متحدہ بی ایس او جو ایوب جتک سے ڈاکٹر یسین بلوچ تک منتقل ہوئی آج کی تحریک سے بہت زیادہ منظم تھی۔اس وقت کے زیرک رہنماؤں جن میں سے ایک سرکردہ رہنما شہید فدا احمد اور انکے دوسرے ساتھی تھے جنھوں نے غور وفکراور مشوروں کے بعد پس پردہ بی ایس او کی عوامی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے اسے ایک جامع قومی تحریک میں تبدیل کرنے کیلئے اس وقت کی بی ایس او کے چیئرمین ڈاکٹر یسین بلوچ کو تین بنیادی نقاط پر مشتمل ایک مختصر مگر جامع قومی پروگرام دیا کہ وہ اسے پریس کانفرنس کے زریعے عوام کے سامنے لائے۔ اس کانفرنس میں ڈاکٹر یسین بلوچ نے تینوں نقاط پیش کیے:
1. غیرطبقاتی جدوجہد برائے حق خود ارادیت، بشمول حق علیحدگی
2. جمہوری نظام پر مبنی آزاد و خودمختار ریاست کی تشکیل
3.ترقی کا غیرسرمایہ دارانہ نظام
اس کانفرنس کے بعد غیر طبقاتی جہد کے اصول پر کہور گروپ نے یہ کہہ کر اختلاف کیا کہ اگر جہد غیر طبقاتی ہو تو اس میں سردار ،جاگیردار اور سرمایہ دار شامل ہونگے، اس سے سوشلسٹ تصور یا نظام کا نفی ہوگا۔ جبکہ یسین گروپ کے دلائل یہ تھے کہ چونکہ بلوچستان میں صنعتی مزدور وجود نہیں رکھتا لہذا قومی آزادی کیلئے ضروری ہے کہ تحریک قومی ہو جس میں سارے اسٹیک ہولڈرز شامل ہوسکتے ہیں اس قومی پروگرام کا بنیادی مقصد بھی یہی تھا تاکہ اس تحریک میں نواب خیربخش مری، سردار عطااللہ مینگل نواب اکبرخان بگٹی اور غوث بخش بزنجو جیسے بڑے اسٹیک ہولڈرز کا شمولیت یقینی ہو۔ مگربدقسمتی سے غیرضروری اختلافات کی وجہ سے مضبوط بی ایس او بکھر گئی ۔ یاد رہے اس بی ایس او کو کسی سردار یا سرمایہ دار نے نہیں تھوڑا۔ بلکہ متوسطوں کے اعلی علمی ہنرمندوں نے اسے ختم کردیا، اب پس پردہ کرادر کون لوگ تھے ؟ مجھے اسکی اتنی علم نہیں، لیکن خارجی عوامل کو خارج از امکان کرار نہیں دے سکتے، اس وقت افغان حکومت کا نام بھی لیاگیاتھا۔ پھر جنرل ضیاء کی آسمانی مرگ نے طبقاتیوں اور غیرطبقاتیوں کیلئے اسلام آباد کی پارلیمانی راہ صاف کردی، کہتے تھے پارلیمانی سیاست کو بھی ہم آزمائیں گے اگر کچھ نہ ہوا تو پھر اپنے عوام کے پاس لوٹ آئینگے۔ جب وہاں پہنچے تو پھر واپس آنے کا راستہ بھول گئے کیونکہ سب کرپٹ کیئے گئے تاکہ ان میں کوئی سر اٹھا کر جی نہ سکے۔ یعنی ۱۹۸۸ سے لیکر ۱۹۹۹ تک بلوچ سیاست پاکستانی سیاست کی کرپشن کے دلدل میں مکمل پھنس گئی۔
متوسط طبقے کی اس لاحاصل سیاست نے قومی تحریک کو کیا گل کھلائے ،وہ کھلی کتاب کی مانند ہمارے سامنے آج موجود ہے آج پھر ہماری موجودہ تحریک کو اسی متوسط سیاست کا سامنا ہے۔
1999 میں سنگت حیربیارمری نے مکران کے خودساختہ غیرقبائلیوں کو دعوت دی کہ آئیں تحریک آزادی میں شامل ہو، انہوں نے شروع میں تو حامی تو بھر لی، لیکن موقع پانے کے بعد جامع قومی مسجدبنانے کے بجائے اپنے ڈیڑھ انچ کا مسجد الگ سے بنایا۔ یہ کہتے ہوئے کہ آپ تو سردار ہو، تمھارا کیا بھروسہ کل پاکستان کی سیاست کا راہ لوگے، ہم تعلیم یافتہ غیرقبائلی لوگ ہیں اپنا جہد جاری رکھیں گے۔ ان لوگوں کی اکثریت کا سیاسی تربیت اور سوچ کا تعلق بھی اس گروہ سے تھا جو کہورخان کی بی ایس او کے پیروکار تھے۔ یہ طبقاتی نحوست آج بھی بڑی شان سے ہمارے فیصلوں پر اثر انداز ہے۔ یہ متوسطی طبقہ سیاسی گھروندے بنانے پر یقین رکھتی ہے، کوئی قومی کلات بنانے میں اسے سخت تحفظات ہیں ۔سماجی لحاظ سے نفسیاتی طور پر یہ تعلیم یافتہ غیرقبائلی مخلوق انتہائی احساس محرومی و کمتری کے شکار ہیں اور بی ایس او کے سیاسی پلیٹ فارم سے یہ انتہائی احساس برتری کے شکار ہیں۔ عجیب نفسیات ہے اسکی یہی پیچیدہ طبقاتی سوچ تھی جس نے نہ صرف اُس وقت کی تحریک کے ایک بہترین عوامی حمایت کو کھو دیا بلکہ ہمارے خطے میں عالمی قوتوں کے درمیان سرد جنگ کا میدان سج جانے کے نادر موقع کو بھی کھودیا۔ شہید فدا احمد کے جامع قومی آزادی کی پروگرام کے سامنے اگر طبقاتی رکاوٹ نہ بنتے تو یقین جانیے تحریک سویت یونین کی حمایت ضرور حاصل کرلیتا جسے پاکستان ،امریکہ اور افغانستان میں چیلنج کر رہے تھے۔ اگر کچھ نہ ہوتا لیکن تحریک internationalized تو ہوجاتا۔
آج پھر طبقاتی نظریہ کے بنیاد پر تحریک کے کچھ اجزاء تحریک کو قومی بننے نہیں دے رہے ہیں۔ انہی طبقاتی سوچ کی وجہ سے تحریک اپنی بنیادی لوازمات essential components سے محروم ہے، اس لیے دنیا کی سپورٹ کجا، ہم روز بروز اندرونی طور پر عوامی سپورٹ سے بھی محروم ہوتے جار رہے ہیں۔ خارجی اور بیرونی حالات بذات خود پیدا نہیں ہوتے، بلکہ خود پیدا کیے جاتے ہیں۔ خارجی عوامل گوکہ دسترس سے باہر ہیں مگر درست سمت سیاست سے ان پر اثرانداز ہوا جا سکتا ہے، بلوچ مزاحمتی تحریک سیاسی قیادت کے تابع نہ ہونے کے سبب نہ صرف اندرونی طور پر عوام کو مسلسل فیڈبیک دینے سے قاصر ہے بلکہ بیرونی طور پر بھی موثر سفارت کاری کرنے سے ناکام دکھائی دے رہا ہے۔بی ایل اے پر امریکی پابندیاں اس کی ایک زندہ مثال ہے۔ اب تک کا 20 سالہ مسلح مزاحمت کا تجربہ یہ بتاتی ہے کہ قومی سیاسی قیادت کے بغیر تحریک نہ صرف منفی خارجی عوامل کے شکار رہا ہے بلکہ اندرونی لاپروائی اور بے راہروی کا شکار رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی رہنما واجہ ایڈوکیٹ کچکول صاحب نے فیس بک میں کمنٹ لکھا تھا کہ
“Unto now Baloch polity is directionless in practice”
کچکول صاحب کی بات بلکل سچ ہے کیونکہ تحریک کے اندر بہت negativities آچکی ہے۔ان کو ختم کرنے کی ضرورت ہے ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ گوریلا مسلح مزاحمت کی بنیاد پراس لیے رکھا گیا تھا تاکہ اس میں دشمن کی طاقت کوattrition warfare کے تباہ کن پروسیس کے زریعے کمزور کیا جاسکے ناکہ خود آپس میں الجھ کر اپنی توانائیاں ختم کریں۔ دشمن کی جنگی قوت کو تباہ کرنے کیلئے اس پر مسلسل وار کرنے کے پروسیس کو اٹریشن کہتے ہیں۔ آج دشمن ہمیں بھی اسی پروسیس کے تحت مسلسل رگڑا دے رہا ہے۔ مینورنگ maneuvering کی اس جنگ سے ہمیں چاہیے تھا کہ ہم دشمن کی لڑنے کی قوت فیصلہ کو ختم کردیتے لیکن اس نے ہمارے لڑنے کی قوت کو کمزور کردیا، ہم ان جنگی طریقوں کے تحت دشمن کی سپورٹ اسٹرکچر پر وار کرتے جس سے دشمن کی سپاہی کی جنگی قوت فیصلہ کمزور پڑجاتی۔ لیکن ہماری لاپروائی اور کمزوریوں سے الٹا دشمن کو سپورٹ ملی۔ اب اسی تناظرمیں موجودہ بلوچ مزاحمت کو دیکھیں تو یہ جنگ بلوچ بھی لڑ رہی ہے یعنی گوریلا جنگ کے موڈ کے تحت دشمن پر وار کر رہی ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ اٹریشن کی اس جنگی موڈ کو بلوچ مزاحمت کار کس موثر انداز میں استعمال کر رہا ہے۔ گزشتہ ۲۰ سالوں کی جنگی حاصل کو دیکھا جائے، تو اس کی عوامی سپورٹ کی گراف اوپر جانے کے بجائے نیچھے گر چکی ہے موجودہ کامیابیوں اور ناکامیابیوں پر بہت لکھنے کی ضرورت ہے اس پر دوست کافی لکھ چکے ہیں ممکن ہے کچھ لوگوں کو یہ باتیں ناگوار گزریں رونا دھونا شروع کردیں کہ مفت کی تنقید کی جا رہی ہے۔ لیکن اس کے باوجود ہمیں اپنی کمزوریوں پر بات کرنی ہوگی۔ بنیادی اہمیت کا ایک سوال یہ ہے کہ دشمن اپنی دفاع اور بچاؤ کیلئے کیا کر رہی ہے؟
1۔دشمن نے بلوچ انسرجنسی کو کاؤنٹر کرنےکی خاطر اپنی فوجی طاقت کی نفری تعداد کو بلوچستان میں troop surge strategy کے تحت تین گنا بڑھا دیا ہے، اس کی وجہ سے بلوچ سرمچاروں کیلئے اسپیسspace تنگ ہوچکی ہے۔ 2۔ سرمچاروں کو سماج سےمکمل الگ تلگ رکھنے کیلئے عام عوام کو اجتماعی سزا collective punishment کے لائےعمل کو اپنایا گیا ہے.3. بلوچ آزادی کی جنگ کی اھمیت کو کم کرنے کیلیئے اس نے مزہبی جنگ کو بھی اس بیج میں متعارف کروایا ہے تاکہ دنیا کی دلچسپی و نظر اس مزاحمت پر نہ رہے۔ 4۔ دشمن نے بڑی کامیابی سے دنیا کی میڈیا کو بلوچستان جانے سے روکھ دیا ہے۔ کوئی انٹرنیشنل میڈیا بلوچ رہنماؤں کو انٹرویو کرنے کیلئے تیار نہیں۔
۵۔ اسٹریٹجک اھمیت کے حامل ہونے کے باوجود دنیا بلوچستان اور بلوچ قومی تحریک میں دلچسپی نہیں لے رہی ۔ اس کی وجہ شاید پاکستان دنیا کو باور کرانے پر کامیاب ہوچکا ہے کہ بلوچستان کی شورش انڈیا کی پیدا کردہ ایک irritant proxy war جنگ ہے ۔
آپ کی دفاعی قوت کہاں ہے ؟ اپنی نوعیت کے لحاظ سے گوریلا لڑائی ایک دفاعی جنگ نہیں، کیونکہ یہ ایک offensive force حملہ آور قوت ہے دشمن کی کمزور پوزیشنوں پر حملہ آور ہوکر اپنے طاقت کو بڑھاتی ہے۔ تو ردعمل میں دشمن بھی آپ پر حملہ آور ہوگا ۔ اب دشمن کی اٹیک کو کنٹرول یا پسپا کرنے کیلئے آپ کا دفاعی قوت کہاں ہے ؟ جواب یہ ہے کہ نہ دارد ۔جتنے بھی مزاحمتی تظیمیں ہیں، ان میں سے کسی بھی طرح کی دفاعی قوت موجود نہیں۔
اب جزباتی دوستوں نے عوام کو تحریک کی طرف راغب کرنے کیلئے کچھ فدائین کاروائی کی سوجھی ہے۔محض اسلیے اپنے نوجوانوں کا فدائی حملوں سے نقصان کروانا تا کہ دنیا اس سے دیہان دے اور عوامی تحریک میں پھر سے دلچسپی لے، بہت بڑا بے وقوفی ہوگی۔ دنیا کے اپنے الگ الگ ترجیحات ہیں، وہ ہمارے ایسے معروضی حرکتوں سے متاثر ہوکر ہمیں سپورٹ نہیں دیتے۔ یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ فدائی کاروائی اس وقت کیے جاتے ہیں جب آپ کے پاس کوئی دوسرا چارہ یا آپشن نہ بچا ہو۔ انگریزی میں ایک کہاوت ہے کہ Desperate Times Call for Desperate Measures ہماری تحریک ایسی کسی صورتحال سے بلکل دوچار نہیں جہاں فدائی کاروائیوں کا سہارا لینا پڑے، کیونکہ آپ کے پاس تحریک کے بہت سے options اپشنز ابھی تک باقی ہیں جنھیں بروئے کار لاکر تحریک کو بہترین انداز میں تشکیل دے سکتے ہیں۔فدائی کاروائی کا آپشن ایک انفرادی اور معدود فیصلہ ہے۔قومی تحریک کے arsenal سلح خانے میں ابھی تک ناآزمائے ہوئےاپشنز کے موجودگی میں ایسا سخت فیصلہ تحریک کے باقی اسٹیک ہولڈروں کو قبول نہیں ہے۔
بدبختی یہی ہے کہ نہ صرف مزاحمتی تحریک منقسم انفرادی تنظیموں پر لڑا جا رہاہے بلکہ اس تحریک کے اندر روشن فکر اور مقبول آزادی پسند لیڈروں کی کمی نہ ہونے کے باوجود تحریک ایک اجتماعی سیاسی قیادت سے محروم کیا گیاہے۔ کج بحثی الگ بات ہے لیکن ہم سب کو یہ ماننا پڑے گا کہ سنگت حیربیار مری، براھمدغ بگٹی ڈاکٹر اللہ نظر ، خان آف قلات جاوید مینگل مہران مری قومی لیڈر ہیں۔ انکی اتحاد قومی تحریک کے سیاسی قیادت کی ضرورت کو پورا کرتی ہے لیکن مشکل یہ ہے بلا وجہ و دانستہ طور پر آپس میں ایسی طبقاتی دوریاں پیدا کی گئی ہیں جسے ہم فضولیات کے سوا اور کوئی نام نہیں دے سکتے۔
تحریک کو کامیاب کرانے کیلئے ہمیں اعلی سیاست high politics کے سطح پر آنا ہوگا۔ لوکل سیاست تقسیم کنندہ رویہ ہے۔ اس سے ہمیں اجتناب کرنا چاہیے۔ لوکل اور اعلی سیاست کی فرق اور وضاحت کچھ یوں ہے کہ اعلی سیاست قومی سطح کی ہے جس کے تعلق اور معیارات عالمی سیاست کے پیمانے پر قومی پالیسی تشکیل دینے سے ہے جس سے ہمارے خطے کی جیوپالیٹکس میں ہماری قومی تحریک کی اھمیت کا reflection انعکاس ہو، ہمیں عملا یہ ثابت کرنا ہوگاکہ ہم مثبت عالمی قوتوں کی پالیسیوں کے ہم آہنگ اقتصادی، سیکورٹی اور سفارت کاری کے میدان میں سرگرم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔جس طرح ہمارے برادر قوم کردوں نے اپنی نادر صلاحتیوں کے ساتھ اپنی قومی اھمیت کو منوایا ہے۔ جبکہ لوکل سیاست کا تعلق اندرونی سیاست سے ہے جہاں ایک آزاد ملک کے حکومتی اقتدار کو حاصل کرنے کیلئے الزام تراشیاں کی جاتی ہیں ، ایک دوسرے کو زک پہنچایا جاتا ہے۔ ٹانگیں کینچھی جاتی ہیں، جیسا کہ پاکستان اور ہندوستان میں ہو رہا ہیں ۔
تحریک کے بنیادی لوازمات کو پورا نہ کرنے اور لاپروائی کے سبب عوام نے تحریک کے ساتھ چلنے سے اپنے قدموں کو اسلیے روکے رکھا ہے تاکہ تحریک میں لاپروائی نہ ہو۔ سرفہرست تحریک کے تمام اسٹیک ہولڈروں کو ریاست کی نعم البدل کے تصور کے تحت سوچھنا ہوگا کہ اب انکے پاس کوئی دوسرا خیال نہیں سواء اس بات کے کہ ایک مشترکہ سیاسی قیادت کے زیر انتظام تحریک کے تمام اجزاء کو ضم کرتے ہوئے قومی ادارے تشکیل دینے ہونگے۔ اس سے بتدریج عوامی حمایت بحال ہوگا،تحریک مضبوط ہوگی، عالمی طاقتوں کی حمایت حاصل کرنے میں آسانی ہوگی قومی نجات کی منزل کا راستہ بہت آسان ہوگا۔















