دنیا جہان میں موجود تمام تر اقوام کا ان کے قومی تشخص، قومی وقار، قومی نفسیات، سرزمین و زمینی ساخت اور تہذیب و تاریخ کے مطابق اپنا ایک مخصوص قومی و اجتماعی شعور ہوتا ہے اور اسی اجتماعی شعور کے گرد ان کے خیالات و نفسیات اور رویے ترتیب پا رہے ہوتے ہیں۔ اسی طرح اس مخصوص قوم کے اجتماعی ”قومی شعور“ کی نمائندگی پھر مخصوص لوگ اپنے خیالات اور عمل و کردار میں ادا کر رہے ہوتے ہیں۔ قومی شعور کے یہ ”نمائندہ کردار“ مختلف عہد اور ادوار میں اپنی دھرتی پر موجود ہوتے ہیں۔ اور وہ ”عہد“ پھر ان ہی مخصوص کرداروں کا عہد ہوتا اور کہلاتا ہے۔ یہ عہد دھائیوں اور کبھی کبھار تو صدیوں پر بھی مشتمل ہوتا ہے۔
اس قومی و اجتماعی شعور کا اظہار مختلف اقوام میں مختلف شخصیتوں نے اپنے خیال و عمل اور کردار سے کیا ہے۔ روسی شعور کا اظہار اگر لینن کے خیال و کردار میں ہوا تو وہیں پر گھانا نے تھامس سنکارا کی صورت میں اپنے شعور کو نمائندگی دی۔ چیئرمین ماؤ نے چینی قومی شعور کو ایک اظہار دیا اور ہوچی منہ، کم ال سنگ، فیڈل کاسترو، ھیوگو شاویز، غسان کنفانی، امبیڈکر، کوامے نکرومہ، کیبرال، جیسے لوگ اپنے اپنے وطن و قومیتوں کے شعور کا نمائندہ بنے۔ جس طرح جس انداز میں انہوں نے اپنے قوم کی نمائندگی کی، وطن پر قابض قوتوں یا پھر استحصالی لشکروں کے خلاف مزاحمت کیا اور مستقبل بعید کےلیے مزاحمت کی بنیادیں ڈالیں وہ آگے چل کر اپنی قوم سمیت دیگر کئی محکوم اقوام و طبقات کےلیے روشن مینار بن گئے اور ہر آنے والا نسل قومی آزادی کی جنگ میں ان میناروں سے روشنی لیتی رہی ہے۔
ایسے عَہد ساز کردار بلوچ قوم میں بھی ہو گزرے ہیں۔ جنہوں نے پورے کا پورا ایک زمانہ اپنے خیال و کردار کی لپیٹ میں لے کر مسلسل اپنے قومی شعور کی نمائندگی کی ہے۔ تاریخ میں ان کرداروں کو ہم نوری نصیر خان، لالیں شہید، شہید محراب خان، حمل جیئند، میر عبدالعزیز کرد، شہید فدا احمد بلوچ اور شہید بالاچ خان مری کے نام سے جانتے ہیں۔ وہ مخصوص زمانہ ان ہی مخصوص کرداروں کا زمانہ کہلاتا ہے۔
اور پھر آج جس عَہد میں ہم جی رہے ہیں یہ عہد یہ زمانہ شہید بالاچ مری کا عَہد ہے شہید بالاچ مری کا زمانہ ہے۔ جس نے دو دہائی قبل بلوچ قومی تحریک کی بنیادیں سائنسی و انقلابی بنیاد پر رکھا اور قابض کے خلاف ایک نئے عہد نئے جنگ کا آغاز کر دیا۔
موجودہ بلوچ قومی تحریک جسے اب دو دہائی سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے اور اس تحریک نے پورے خطے میں اپنا ایک نمایاں اور الگ مزاحمتی و انقلابی مقام و معیار منوایا ہے۔ اس سے قبل بلوچ مزاحمتی تحاریک مقامی سطح پر ابھرتے اور پھر وقت کے ساتھ ساتھ سکوت اختیار کرتے تھے اور ان کا مزاحمتی عمل مخصوص علاقوں میں محدود سطح پر فعال ہوا کرتا تھا۔
مگر حالیہ قومی آزادی کی تحریک سیستان سے لے کر کراچی تک بلوچ وطن پر قابض قوتوں کے خلاف باقاعدہ طور پر ایک انقلابی و عملی للکار بن چکا ہے۔ وطن کے چپے چپے پر بلوچ دشمن کو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ آج وطن کی آزادی میں برسر پیکار بلوچ قومی تحریک فکری و نظریاتی اور ادارہ جاتی طور پر اتنا پختہ اور مضبوط ہو چکا ہے کہ دشمن کی تمام تر طاقت، درندگی و وحشت اور ہٹلری جارحیت اسے ختم نہیں کر پا رہی ہے۔
اب ایسا نہیں ہے کہ پچھلی تحاریک کی بنیاد رکھنے والوں یا پھر اسے چلانے والوں کی نیتیں خراب تھیں اس لیے وہ جلد تھک جاتے تھے، نہیں بالکل بھی نہیں۔ وہاں بھی وطن پرستی اور آزادی کی جستجو یہی تھی، فکری بالیدگی کسی حد تک واضح تھی اگر کسی چیز کی کمی تھی تو وہ اپنے قبضہ گیر دشمن اور اپنے سماج کی مجموعی حالت و کیفیت، نفسیات، اپنی کمزوری و طاقت کو سمجھنے اور کمزوری کو دشمن کے خلاف طاقت میں بدلنے کے ”حکمت عملی“ اور طویل المدت ”ادارہ جاتی منصوبہ بندی “ کی کمی تھی۔
اس کمی و کوتاہی اور کمزوری کو شہید وطن شہید بالاچ مری نے نہ صرف سَہا اور سمجھا، بلکہ اس کی مداوا کےلیے باقاعدہ کمر بستہ ہوا۔ بالاچ نے موجودہ تحریک کے آغاز سے قبل بلوچ وطن کے ہر گھر ہر گدان کا دورہ کیا، وہ جھلاوان و سراوان سے لے کر کوہ سلیمان و مکران سمیت تمام بلوچ وطن کی خاک چھانی، وطن و قوم کو دیکھا اس کی کمزوریوں اور طاقت کا مشاہدہ کیا اور پھر کمزوریوں کا ایسا سدباب کیا کہ آج اس کی اپنی شہادت و بلوچ قوم سے جسمانی جُدائی کو دو دہائی کا عرصہ بیتنے کو ہے مگر قومی آزادی کی تحریک نہ صرف جاری ہے بلکہ ہر گزرتے دن اور ماہ و سال کے ساتھ مزید طاقتور و توانا ہوتی جا رہی ہے۔
شہید بالاچ مری نے ہر اس بلوچ کے دروازے پر دستک دی اور اسے ساتھ ملایا جس کے دل میں بلوچ قومی غلامی کا معمولی سا بھی احساس تھا۔ مکران و سراوان، جھلاوان و کوہ سلیمان کو نہ صرف قومی آزادی کی جنگ کےلیے راضی کیا بلکہ انہیں باقاعدہ انقلابی ادارہ و تنظیم کی لڑی میں پُرو کر دشمن کے خلاف صف بندی کی اور ایک نئی جنگ اور عہد کا آغاز کیا۔
بالاچ نے فردی و شخصی بھروسے کی بجائے بلوچ کو نظریہ، فکر اور تنظیم کا بھروسہ دیا، سب سے بڑھ کر اس نے تنظیم کی صورت میں انہیں اُس آزادی کو دکھایا جسے وہ دشمن سےلینے کےلیے نکلے ہیں۔ اور پھر یہ بھروسہ سیاسی جہد کار سے لے کر ایک جنگجو سرمچار تک، ایک عام بلوچ شُوان سے لے کر بزگر و کسان تک، سارے بلوچ راج میں پھیل گیا۔ ایک طرف اس نے بلوچ مزاحمت پر بلوچ وطن کی آزادی پر بلوچ کا ایمان پُختہ کیا تو دوسری طرف قابض کے خلاف بلوچ نفرت کو شعوری طور پر پروان چڑھایا۔ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ بلوچ زن و مرد، جوان و بوڑھے حتٰی کہ وطن کے چرند پرند ان قابضین سے شعوری طور پر متنفر اور مزاحم ہیں۔
الغرض تنظیم ساز و عہد ساز بالاچ نے بلوچ قوم کو غلامی سے آزادی کی جانب شعوری طور پر محو سفر کیا۔ اس نے قومی تحریک کی ایسی بنیادیں ڈالیں کہ دشمن ان بنیادوں کو آج تک بکھیر نہیں پایا۔ آج ہر بلوچ جہد کار کا پختہ ایمان ہے کہ شہید بالاچ کا یہ مزاحمتی لشکر آزادی کی منزل پر ہی پڑاؤ ڈالے گا۔
اب جب تک بلوچ اپنی سرزمین کا والی و وارث نہیں بنتا، جب تک غلامی کی تذلیل سے نجات نہیں پاتا، جب تک بلوچ کا قومی عزت و وقار مجروح رہتا ہے، جب تک بلوچ اپنی سرزمین سے قابض کو نہیں بھگاتا تب تک بلوچ کو عہد ساز بالاچ کے فکر و فلسفے سے جُڑے رہنا ہوگا، ادارہ جاتی انقلابی مزاحمت کو جاری رکھنا ہوگا، دشمن کے خلاف عقلی و عملی سطح پر جنگ جاری رکھنا ہوگا، بالاچی فکر و فلسفے کو زندہ رکھتے ہوئے مزید مضبوط و توانا کرنا ہوگا۔ ہر بلوچ کو عہد ساز بالاچ کے عہد میں قومی جیرت و جرات کے ساتھ جینا اور مسلسل مزاحمت کرنا ہوگا۔ قومی آزادی و منزل کی سرسوبی کی خاطر بالاچ بننا ہوگا۔ بالاچ کے عہد کے معیار پر پورا اترنا ہوگا۔ سرزمین کی آزادی کےلیے لڑتے رہنا ہوگا۔















