بلوچ قوم نے ہمیشہ قابض ریاست کی غلامی کے خلاف بغاوت کی ہںے بلوچ قوم نے ہر محاذ میں اپنے خون کے قطروں سے تاریخ میں گواہی دی ہںے کہ ہم کسی بھی ظالم اور کی ظلمت کو قبول نہیں کرئے گئے بلوچ قوم نے ہر ظالم ہر زوراور کو اس کے منطقی انجام تک پہنچایا بلوچستان کی سرزمین نے ہزاروں نوجوان کو جنم دیا جو اپنے مادرئے وطن بلوچستان کی حفاظت کےلئے ہر محاذ ہر وقت اپنے جان کا پرواہ کئے بغیر دشمن کو ان کے ہی زبان میں سبق سکھاتے ہیں
غلامی کا احساس جب انسان کو ھوتا ہںے تو وہ غلامی کے خلاف بغاوت کرتا ہںے (چی گویرا کہتا ہے بغاوت ہمیشہ اصول پسند اور ایمان دار لوگ کرتے ہیں چالاک لوگ چمچا گیری اور چاپلوسی میں ماہر ھوتے ہیں) بلوچستان کو جب سے پنجابی ریاست نے قبضہ کیا ہںے اس دن سے بلوچ قوم نے بغاوت کی ہںے اور بلوچ قوم کے بہادر سپوتوں نے ہر شہر ہر میدان ہر صحرا میں دشمن کو شکست دی ہںے نواب خیر بخش مری کہتے ہںے جنگ ہاری نہیں جاری ہںے اس دن تک کہ بلوچ قوم اپنا ایک منزل ایک آزاد بلوچستان کی شکل اختیار کرئے گا
یہ ناپاک پنجابی ریاست جو ہمیں ہر شکل میں غلامی کی زنجیروں میں جگڑ رہا ہںے کسی کو سردار کا باڈی گارڈ کسی کو میر کا باڈی گارڈ کسی کو لالچ دے کر کسی کو بندوق کے زور پر لاپتہ کر کئے ذہنی اور جسمانی ٹارچر کر کئے پاگل بنا دیتا ہںے تو کسی کے ماورائے عدالت قتل کر کئے بلوچ قوم کے اندر خوف ہراس پیدا کررہا ہںے لیکن بلوچ قوم نے ہر ظُلم ہر ستم سے ایک سبق سیکھ کر دشمن کو سبق سکھانے چل پڑے ہیں ہر میدان میں ہر گلی میں ہر اس کلئے میں جو بلوچ نوجوانوں کےلئے قید خانہ بنا ھو
شہید زاہد جان ایک بہادر جنگجو
آپ نے 2022 میں بی ایل اے کے پلیٹ فارم سے غلامی کے خلاف جنگ میں حصہ لیا جو کہ آپ ایک دلیر بہادر سرمچار تھے آپ نے بولان میں اپنے ہم فکر ساتھیوں کے ساتھ ٹرینگ حاصل کیا ایک دن جب ہم اوتاک میں آ گئے تو کوئی ساتھی اپنا بندوق صفا کر رہا تو کوئی جنگ میں جانے کےلئے پرجوش انداز میں انتظار کر رہا تھا اور میں نے دیکھا شہید جمال اور زاہد مصروف ہںے میں وہاں پہنچا تو دیکھا شہید زاہد اور شہید جمال دو گولی کا سر نکال کر اپنے لئے لاکٹ بنا رہے ہیں میں نے پوچھا آپ اس کا مطلب جانتے ھو شہید زاہد نے مسکراتے ھوئے کہا جی ہاں اس کا مطلب جانتے ہیں یہ وہ فلسفہ ہںے جو شہید پلین امیر المک نے آخری گولی کا فلسفہ اپنایا تھا ہم لاکٹ بنا رہے ہںے اپنے لیے لیکن میرے جیب میں دو گولی بھی ہںے شاید آپ کو پتا نہیں اور ہاں ہمیں معلوم ہںے کے جب دشمن کے ساتھ ہم جب جنگ لڑئے گئے اور ہمارے گولی جب ختم ھو جائے ہم دشمن کے سامنے سرینڈر نہیں کرئے گئے اپنے آخری گولی خود اپنے سینے میں اترئے گئے تاکہ دشمن ہمیں گرفتار نہ کر سکے
آپ ایک مخلص ایماندار ساتھی اور اچھے دوست بھی تھے آپ نے ایک سال سے زیادہ عرصہ بولان کے پہاڑوں میں گزارے اور جب پارٹی کا فیصلہ ھوا تو آپ پنجگور کے پہاڑوں میں چلئےگئے وہاں جہد کیا دشمن کے خلاف اور ایک دن جب ہم رابطہ کرنے کیلئے پہاڑ کے اوپر چلئےگئے تو احوال مل گیا کہ پنجگور چتکان بازار میں پوری رات دھماکوں اور فائرنگ چل رہے فوج کے بہت سے سپاہی مردار ھو گئے ہںے اور گچھ زخمی ھو کر پڑئے ہیں تھوڑی دیر بعد ایک ساتھی سے حال حوال ھو اس نے کہا شہید حافظ ممتاز اور شہید زاہد کسی میشن کےلئے پنجگور چلئےگئے تھے ایک کوارٹر میں شام ھوا تو تھوڑی دیر بعد دشمن نے اپنے دلالوں کہ ساتھ مل کر اس کوارٹر کو گھیرے میں لیا تو پوری رات جنگ جاری رہا دشمن کے ساتھ اور فوج نے اپنے دو ہیلی کاپٹر بھی پورے پنجگور شہر میں گوما ئے اور ساتھیوں نے شیدت کے ساتھ دشمن سے جنگ لڑئی شہید حافظ ممتاز اس جنگ میں دشمن کی گولہ باری میں شہید ھوا شہید زاہد نے آخری گولی تک لڑائی لڑی اور آخری گولی کا فلسفہ اپنایا
شہید زاہد اور شہید حافظ ممتاز بلوچ نے دشمن کو وہ سبق سکھایا جو اپنے نسل در نسل کو سنائے گا کہ بلوچ سرمچار کبھی بھی اپنے دشمن کو معاف نہیں کرتے اور نہ ہی لشکروں کے تعداد دیکھ کر اپنا مقصد بھول جاتے ہیں















