ہلسینکی (ہمگام نیوز) پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کی جانب سے شہید محمد ابراہیم ارمان لونی کی ساتویں برسی کے موقع پر فن لینڈ کے دارالحکومت ہلسینکی میں ایک تعزیتی و مزاحمتی ریفرنس منعقد کیا گیا، جس میں فری بلوچستان موومنٹ (ایف بی ایم) کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

ریفرنس کو صرف ایک تعزیتی اجتماع کے بجائے پاکستان اور ایران کی مبینہ ریاستی دہشت گردی، قبضے اور قومی جبر کے خلاف پشتون اور بلوچ اقوام کی مشترکہ مزاحمت کے اظہار کے طور پر پیش کیا گیا۔ تقریب سے پی ٹی ایم کے رہنماؤں شفیع اللہ یوسفزئی، عبدالباری بڑیچ، بنارس خان، جاوید خان اور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ ارمان لونی کا قتل ایک فرد کا نہیں بلکہ پشتون قوم کی اجتماعی آواز کو خاموش کرنے کی ناکام کوشش تھا۔ مقررین کے مطابق ارمان لونی پشتونخوا میں فوجی جبر، چیک پوسٹوں، ماورائے عدالت قتل اور جبری گمشدگیوں کے خلاف توانا آواز تھے، اسی لیے انہیں نشانہ بنایا گیا۔

فری بلوچستان موومنٹ کی جانب سے صادق رئیسانی ایڈووکیٹ اور ایم بی مری بلوچ نے اپنے خطابات میں کہا کہ بلوچستان اور پشتونخوا ایک ہی نوآبادیاتی ریاستی ڈھانچے کے تحت شدید جبر کا شکار ہیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ پاکستان اور ایران اپنی فوجی طاقت کے ذریعے بلوچ سرزمین اور پشتونخوا پر مسلط ہیں، جہاں بلوچ نسل کشی اور پشتون قوم کی اجتماعی تذلیل روزمرہ کا معمول بن چکی ہے۔

مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ متحدہ بلوچستان کی آزادی اور پشتونخوا کی سرزمین کی نجات اب محض مطالبات نہیں بلکہ ایک تاریخی حقیقت کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ ان کے مطابق ریاستی تشدد، آئینی حربوں اور نام نہاد جمہوری ڈھانچے کے ذریعے نہ بلوچ قوم کی آواز دبائی جا سکتی ہے اور نہ ہی پشتون قوم کو مزید غلام رکھا جا سکتا ہے۔

ریفرنس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ارمان لونی، نقیب اللہ محسود، عارف خان مسعود، غلام محمد، کریمہ بلوچ، بالاچ مری سمیت ہزاروں پشتون اور بلوچ شہداء کا خون اس جدوجہد کی بنیاد ہے اور یہ قربانیاں کبھی فراموش نہیں کی جائیں گی۔ شرکاء نے کہا کہ جبری گمشدگیاں، اجتماعی قبریں اور فوجی جارحیت اس خطے میں ریاستی کردار پر سنگین سوالات کھڑے کر چکی ہیں۔

مقررین نے عالمی برادری، یورپی یونین، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان اور ایران کی مبینہ ریاستی دہشت گردی، بلوچ نسل کشی اور پشتون قوم پر ہونے والے منظم مظالم کا نوٹس لیں اور ذمہ دار قوتوں کا عالمی سطح پر محاسبہ کیا جائے۔

تقریب کے اختتام پر شہید ارمان لونی سمیت تمام پشتون اور بلوچ شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ آزادی، وقار اور قومی خودمختاری کا مشن ہر قیمت پر جاری رکھا جائے گا۔