قومی تحریکوں میں قومی مفادات کے برعکس اگر ہر کوئی اپنی ،اپنی ذاتی خو اہش پوری کرنے لگے تو تحریک
لازمی طور پر ڈی ریل ہونے لگتا ہے کس طرح سے ممکن ہو سکتا ہے کہ ہر کوئی تحریک کو متاثر کیے بغیر اپنی
ذاتی اور گروہی مفادات پوری کر سکیں ،حالانکہ کسی بھی تحریک میں کسی بھی جہدکار کی ناجائز اور غلط طریقہ
سے خواہش کا پورا کرنا تحریکی نظام کو درہم برہم کردیتا ہے ۔کچھ جہدکار اپنے مادی خوشی حاصل کرنے کی
جستجو میں قومی تحریک کو آلہ کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں ،عموماََ دیکھا گیا ہے کہ
ایسے لوگ ہر چیز میں منافقت کا سہارا لیتے ہیں یہ اندر سے کچھ اور، باہر سے کچھ اور ہوتے ہیں کیونکہ منافقت کے معنی ہے کہ دل سے کسی چیز کو نہ مانتے ہوئے بھی عملی طور پر اسی سے ایڈجسٹ کرلیں اسے منافقت کہتے ہیں اور زیادہ تر مشاہدے سے پتہ چلا ہے کہ وقتی طور پر کسی چیز کو نا چاہتے ہوئے ایڈجسٹ کرنے والے لوگوں کو فائدہ ہوتا ہے لیکن لمبی ریس میں منافقت نہ کرنے والے اور حقیقت پسند کو حقیقت پسندی کی وجہ سے اس کے تمام مثبت فوائد ملنا شروع ہوتے ہیں کیونکہ کسی بھی قومی تحریک میں کامیابی کے لیے اعلی معیار اخلاقیات اور مورال اتھارٹی ہے ۔ایمانداری ،مخلصی ، کمٹمنٹ، اخلاقی اور مورال اتھارٹی
، اصول، ڈسپلن، برابری ، مضبوط موقف کسی بھی موومنٹ میں لیڈرشپ اور جہدکاروں کے صفات ہیں۔
دلیل اور منطق کے سامنے مرعوب ہونا ، اپنی غلطیوں کو مان لینا ہٹ دھرمی سے کام نہ لینا ایک حقیقی
جہدکار کی نشانیاں ہوتی ہیں ۔جب دو افراد اور گروہ میں اختلاف رائے اور کشمکش ہو تو اختلافات بڑھ کر
جاہ و عظمت کا مسئلہ بن جاتے ہے اور جب اختلاف رائے اور کشمکش جاہ و عظمت کا رُخ اختیار کریں تو
جاہل اور ناسمجھ اور جہدوجہدکی پیچیدگیوں سے نابلد آدمی کو اپنی باتوں اور اسٹینڈ سے ہٹنا بے عزتی معلوم
ہوتی ہے جو کہ حقیقتاََ کسی بھی باشعور اور قومی سوچ رکھنے والے ریاستی تشکیل کے حامل شخص کا ہر گز شیوا نہیں
ہوسکتا ہے بلوچ قومی تحریک میں بحران کیونکر آیا؟
جدوجہد 2008تک ملاہمت اور ہمواری سے جاری تھالوگوں کی ایک بڑی تعداد قومی کاروان کا ہمسفر تھا لوگوں میں ایک جوش و ولولہ تھا اور تمام پارٹیاں اور تنظیمیں مقصدکی بجائے مقصد کو حاصل کرنے کا وسیلہ اور ذریعہ تھے ، فرنٹ کے اتحاد کے ساتھ مسلح تنظیموں میں ہم آہنگی تھی پھر اچانک کس کی وجہ سے سب کچھ درہم برہم ہوا؟
کیا تمام تنظیموں میں درپردہ لوگ تھے جو ریاستی ایجنڈے کے تحت شروع سے لیکر آخر تک سب کچھ تمام تنظیموں میں پلاننگ کے تحت کروا تے رہے ،یا گروہی سوچ قومی سوچ پر زیادہ اول اور مقدم رہا جس کی وجہ سے پارٹیاں اور تنظیمیں مقصد کو حاصل کرنے کے بجائے خود مقصد بنتے گئے ؟
یا شوق لیڈری نمود ونمائش اور شوشابازی نے نظریہ فکر اور تربیت اور صلاحیت کا گلا گھونٹ کر انکی سانسیں روک لی ، یا جنگی منافع خوروں کی قومی تحریک میں پنپنے اور فخریہ نمائش کی وجہ سے قومی تحریک متوقع نتائج دینے کے بجائے قومی تحریک آپسی چپکلش اور بحران کا نزر ہوا؟
سنگت حیربیار مری کی طرف سے چار سال پہلے انہی مسائل کو حل کرنے کے لیے خلوص نیت کے ساتھ کوشش ہوا اور اس نے بی ایل ایف اور بی این ایم کو فکری سنگت سمجھ کر یو بی اے کا مسئلہ حل کروانے کی کوشش میں انہیں ثالث بنایا اور تحریک کے اندر بھی مسئلے مسائل کو آپسی رابطے کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی لیکن وہاں پر کیا ہوا وہ سنگت حیربیار مری کے بھیجے ہوئے نماہندوں کی طرف سے چار سال کی بحث پر لکھا جاچکا ہے۔ (اب اگر کوئی عامر لیاقت حسین کی طرح 67 ڈگری کا یوٹرن لے چکا ہے وہ زیر بحث نہیں ہے) اس چار سالہ بحث میں تعمیری اور اصلاحی بحث کے ذریعے مسئلہ مسائل کو قوم کے سامنے لانے کی کوشش ہوئی اور اس بحث کو پھر پوتاری کی نظر اور باقی تمام پارٹیوں کو انقلابی فلسفہ کے نظریہ کے تحت ختم کرنے کی کوشش بھی زیر بحث نہیں ،پھر سنجیدہ دوستوں نے دیکھا کہ کچھ مبادل گر اور پلٹاؤ اصلاحی اور تعمیری بحث کو اپنی طفلانہ حرکتوں کی وجہ سے پوتاری میں تبدیل کررہے ہیں جہاں لوگوں کی امید اور آس کو قومی تحریک سے کم کیا جارہا ہے تو دوستوں نے اپنے ہی دوستوں کے خلاف اس مسئلہ پر اختلاف رکھا اور اسی دوران بی ایل ایف نے بیان بھی دیا کہ بی ایل اے کے اندر جو لوگ پوتاری بحث کررہے ہیں انکو باقی لوگوں کو روکنا چاہئے اور یہ قومی تحریک کے نقصان کا سبب بن رہے ہیں جبکہ اسی دوران انکے اپنے لوگ مختلف نام سے فیس بک میں گالی گلوچ کا جو بازار گرم کرچکے تھے وہ زیر بحث نہیں اور پھر حیربیار مری کے حقیقی دوستوں نے اپنے اندر کے مبادل گر ،سبوتاژی اور پلٹاؤں کے خلاف ایکشن لیا اور ان کو من مانی کرنے نہیں دیا اور پھر پارٹی نے ڈسپلن کی خلاف ورزی پر بیان دیا اور انکے خلاف ڈسپلنری ایکشن سے پہلے اگر واجہ رحیم ایڈووکیٹ کو معلوم ہے کہ بی ایل اے نے اتحاد کے لیے ایک کمیٹی بنائی تھی جس کے تین رکن تھے جنھوں نے بی ایل ایف سے رابطہ کیا اوراندرونی مسئلہ مسائل کو حل کرنے کی کوششوں پر سنجیدگی کا دوبارہ مظاہرہ کیا گیا کہ جو اندرونی مسائل ہیں وہ اندرونی طور پر دونوں پارٹیوں کی کمیٹوں کے ذریعے حل ہوں لیکن بی ایل ایف نے اتحاد کے بیان کے بعد بھی لیت ولعل سے کام لیا اور پھر دوستوں کو ایک لسٹ دیا جہاں چار لوگوں کے نام دیئے کہ یہ بی ایل ایف کے مجرم ہیں انھیں انکے حوالے کیا جائے چار میں سے ایک اس وقت واپس ان کے پاس جا چکا تھا جب وہ وہاں گیا تو اسکو اب وزمزم سے نہاتے ہوئے مجرم سے حسب روایت کے تحت پسندیدہ شخص بنایا گیا جبکہ ایک سرنڈر کر گیا باقی دو ابھی تک بچے ہیں جن کو بی ایل ایف اپنا مجرم بناکر اتحادی پراسیس سے بھاگتا رہا لیکن اب وہ دونوں بھی انکے ہاتھ میں بیعت کرچکے ہیں تو وہ بھی مجرم سے دیوتا بنائے گئے ہیں قومی تحریک میں بدقسمتی سے بی ایل ایف میں اختیارات کے ساتھ ساتھ ذمہ داری کا عنصر نہیں ہے حالانکہ اختیارات اور ذمہ داری لازم و ملزوم ہیں اور دنیا میں کسی بھی تنظیم اور پارٹی میں اختیارات کے ساتھ ذمہ داری کا بوجھ نہ ہو تو وہ پارٹی اور تنظیم گینگ نما شکل اختیار کرتے ہیں اور انکا بھروسہ اور باور لوگوں اور جہدکاروں سے ختم ہوجاتا ہے جب ایک بندہ آپ کو چھوڑ کردوسری جگہ جاتا ہے یا کہ آپ کی مخالفت کرتا ہے تو وہ مجرم ،مخبر قوم دشمن اور جوں شخص آپ کی حمایت کرتا ہے تو اسکو پارٹی آب زمزم سے نہاتے ہوئے اسے پاک و صاف کرتا ہے جیسے کہ بچہ پیدا ہوتے ہوئے گناوں سے پاک ہو اس سے کیا ہوتا ہے کہ تنظیم اور لیڈرز کی معتبریت ، قابل اعتباریت اور شہرت باقی نہیں رہتا ہے، تجربہ سے ظاہر ہوا ہے کہ لوگوں اور تنظیموں ،لیڈرشپ کے درمیان پل کا کردار باور اور بھروسہ کا ہوتا ہے، ایک دفع چینی فلسفی کنفیوشس سے پوچھا گیا کہ اگر کسی ریاست یا کہ تنظیم کے پاس انصاف ،دفاع اور معیشت ہو تو بحالت مجبوری ان میں سے کس چیز کو پہلے ترک کر یں اس نے کہا کہ دفاع اور اسکے بعدمعیشت کو ترک کرو مگر انصاف کو آخر تک قائم کرو پھر اس سے پوچھا گیا کہ اگر دفاع اور معیشت کو ترک کیا گیا تو لوگ بھوکوں ا ور دُشمن کے حملہ سے مر جائیں گے کنفیوشس نے کہا کہ ایسا ہر گز نہیں ہوگا بلکہ اگر آپ نے انصاف کیا تو لوگ آپکی حکومت اور پارٹی پر بھروسہ اور اعتماد کرتے ہوئے پیٹ پر پھتر باندھ کر بھی دُشمن پر حملہ کریں گے ۔اسی طرح دوسری جنگ عظیم میں چرچل کو اسکی فوجی سپہ سالار نے پیغام دیا کہ ہم شکست کھانے والے ہیں پھر چرچل نے پوچھا کہ کیا ہماری عدالتیں اب تک انصاف کررہی ہیں اسکو جواب دیا گیا کہ ہاں انصاف کررہی ہیں تو چرچل نے کہا کہ پھر ہمیں کوئی شکست نہیں دے سکتا ۔ اسی طرح بلوچ قومی پارٹیاں اور تنظیمیں ریاست کا نعم البدل ہیں اگر وہاں انصاف کا پیمانہ یہ ہے کہ کوئی آپکی پارٹی چھوڑ کر چلا جائے تو وہ مخبر ،مجرم اور غدار قوم دُشمن جوں ہی واپس پارٹی میں وہی شخص آجائے تو وہ متقی ،پارسا،محب وطن اور پسندیدہ بن جاتا ہے کیا اس طرح کی بچگانہ ،طفلانہ اور غیر ذمہ دارانہ عمل سے ریاست کی تشکیل سے پہلے ہی بلوچستان کو بنانا ریپبلک نہیں بنایا جارہا ہے جہاں مخبری ،مجرمی اور قوم دُشمنی کا جانچ دو یا تین لوگوں کی حکم بجاآوری اور تابعداری کومدنظر رکھ کر کیا جائے تو وہ قوم اور تحریک تباہ و برباد ہوگی حقیقتاََ جدوجہد میں شامل تمام افراد کو قومی تحریک کی صحیح معنوں میں حکم بجاآوری ،تابعداری پر اعزازات ،سزا جزا اور رتبہ دیا جاتا ہے ،جب ایک جہدکار 60 سالوں تک جدوجہد کرتا ہے اسکے لوگ جدوجہد کی خاطر مارے جاتے ہیں وہ خود قربانی دے رہا ہوتا ہے لیکن جب وہ قابض کے سامنے سرنگوں ہوتا ہے تو اس کو کیونکر سزا دیا جاتا ہے جبکہ ایک فرد اگر اپنی بلنڈرز اور غلطیوں کی وجہ سے یہی عمل کریں اور قومی تحریک کو فائدے کے بجائے نقصان دیں تو کیا اسکے خلاف کچھ نہ کہا جائے؟ اس سے اختلافات نہ رکھا جائے کہ اس نے قربانیاں دی ہیں ؟ قربانیاں بھی کس لیے دیے جارہے ہیں اور بلوچ قوم ستر سالوں سے قربانی دیتا آ رہا ہے اور ہزاروں لوگ اب بھی اس قومی تحریک کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں یہ سب کچھ کس لیے ہورہا ہے کہ قومی ریاست کی تشکیل کا عمل مکمل ہو اور جدوجہد کامیاب ہو اگر چند لوگ اپنی قربانیوں کا معاوضہ قومی تحریک کی تباہی کی شکل میں لینا چاہتے ہوں اور انکو کچھ نہ کہا جائے کہ اس نے قربانیاں دی ہیں تو ابھی بلوچ قومی تحریک میں سینکڑوں ایسے سرمچار ہیں جنھوں نے سرنڈر کیا جدوجہد اور قومی تحریک کی وجہ سے انکی فیملی اور خاندان تباہ ہوئے ہیں کیا انکو ان قربانیوں کے بدولت یہ معاوضہ مل سکتا ہے کہ انکی سرنڈری جائز اور لیگل ہے کہ انھوں نے قربانیاں دی اس منطق میں کوئی بھی وزن نہیں ہوسکتا، بلکہ سب سے اہم چیز اگر اس وقت اہمیت کا عامل ہے کہ قومی جدوجہد کو کس نے بند گلی کی جانب موڑ دیا ہے اور جدوجہد کو بند گلی سے کیسے نکالا جائے اور قومی تحریک میں موجود ریاستی لوگوں کا سراغ کیسے لگایا جائے؟ جنگی منافع خور اور پیداگیروں کو حقیقی اور خلوص کی بنیاد پر قومی جہدوجہد کرنے والوں کے استحصال سے کیسے روکا جائے ؟واجہ رحیم بلوچ نے اپنے آرٹیکل میں ایک بہت اچھی پوائنٹ اٹھایا کہ 8 مسلح تنظیمیں قومی تحریک میں خود مسئلہ کا سبب ہیں حالانکہ تین تنظیموں سے ہٹ کر باقی تنظیموں کا بننا اور ہر ایک کی طرف سے انکو سپورٹ کرنا خود قومی تحریک کا آج سب سے بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے ۔ باقی تنظیموں کی الگ شناخت کے لیے کونسامضبوط جواز باقی ہے ؟ کیونکہ جتنی بھی زیادہ تنظیمیں وجود میں آئیں قومی تحریک کے لیے اتنی ہی زیادہ مشکلات پیدا ہوئے ۔ باقی پارٹیوں کو تھوڑ کر الگ سے پارٹیاں بنانا اور دوسری تنظیموں کی طرف سے انکو حمایت کرنا اسکے مستقبل میں تباہ کن اثرات ہونگے ۔ کیا کل کو اور چار لوگ ایک نئی تنظیم بنائے یا کہ باقی تنظیموں میں موجود لوگ وہاں سے ناراض ہوکر دوسری مسلح تنظیموں سے اتحاد کا ڈرامہ رچا کر ڈرامہ بازی کرتے ہوئے الگ الگ شناخت بنائیں تو کیا اس طرح کا عمل کرتے ہوئے بلوچ قومی تحریک کو دانستہ یا غیر دانستہ انگولا کی طرح خانہ جنگی کا شکار نہیں بنایا جارہا ہے؟ پھر اس طرح کی خانہ جنگی کو روکنا کیا کسی بھی تنظیم کے لیے ممکن ہوسکے گا؟ حالانکہ کسی بھی مسلح یا سیاسی تنظیم کو مضبوط قانونی جواز کے بغیر توڑنا خود اتنا بڑا جرم ہے جتنا کسی بھی مضبوط قومی قلعہ کو توڑنا اور مسمار کرنا ،کیا الگ الگ دوکان ،لیڈری اور نمود ونمائش کی خاطر قومی قلعہ نما تنظیموں کو توڑنا جائز عمل ہے؟ اور اس سے تحریک کو فائدہ ہوتا ہے؟ اگر اس سے قومی تحریک کو فائدہ ہواہے تو وہ لوگ جو تقسیم درتقسیم کی کھل کر اتحاد کی ڈرامہ بازی کے نام پر حمایت کررہے ہیں کوئی مضبوط دلیل دیکر قوم کو اور دوستوں کو مطمئن کرسکتے ہیں؟ دُشمن کے بغیر قومی پارٹیوں کو کمزور کرنا اور انکو آپس میں دست وگریبان کرنا کس کا ایجنڈا ہوسکتا ہے؟ کسی بھی حقیقی بلوچ تنظیم کا اس طرح کا ایجنڈہ نہیں ہوسکتا ۔ ایک مضبوط اتحادی پراسیس کو سبوتاژ کرکے قومی تحریک میں ایک نئی چپکلش پیدا کرنا کیا تحریک میں دوستانہ عمل ہے ؟یہ تمام مسائل ہیں جو آج بلوچ قومی تحریک کو درپیش ہیں اس پر حیربیار مری کے دوستوں کی طرف سے بار بار کوشش ہوا کہ یہ مسئلہ و مسائل اتحادی کمیٹیوں کی جانب سے بحث اور گفت وشنیدسے دوست اپنے پوائنٹ دوسرے فریق کے سامنے رکھیں گے جہاں دلیل کے سامنے دوست جھک جائیں گے یا ددوسرے فریق کو قومی تحریک میں موجود مسئلہ مسائل پر قائل کرو یا قائل ہو جاؤ پالیسی کے تحت راضی کریں گے لیکن اتحادی پراسیس پر شب خون کس نے مارا؟ آیا قابض کے بندے مختلف تنظیموں میں تھے ان لوگوں کی وجہ سے قومی طاقت کو منصوبہ بندی کے تحت متاثر کیا گیا تاکہ تمام تنظیموں کو ایک بار پھر ایک دوسرے کے ساتھ دست وگریباں کیا جائے یا گروئیت اور پارٹی بازی کی بدتریں سوچ قومی سوچ پر غالب آیا؟ ،یا جنگی منافع خوروں ،پیداگیروں اور موقع پرستوں کو منتشر بلوچ قومی قوت کی یکجہتی پر اپنی اپنی دکان اور کاروبار بندی کا ڈر ہوا اور ان لوگوں کی سازش سے قومی طاقت یکجا ہونے کی بجائے قوم کومزید منتشر اور اتحاد کے نام پر مورولبریشن کی طرح مزید تقسیم درتقسیم کا شکارکیا گیا واجہ رحیم سمیت اگر سنجیدہ لوگ ان چیزوں پر غور کریں اور تحقیق و ریسرچ کریں اور اگر تعمیری تنقیدی عمل سے ایک صحیح سلسلہ شروع کریں میں دعوی کے ساتھ کہتا ہوں کہ قوم کے سامنے سارے آستین کے سانپ بھی ظاہر ہونگے اور وہ سازشی لوگ بھی ظاہر ہونگے جو مختلف پارٹیوں اور تنظیموں میں ہوتے ہوئے الگ ایجنڈے اور اپنے مخصوص مفادات کی خاطر قومی تحریک کو داؤ پر لگا رہے ہیں ۔کسی کو یہ بات راس آئے یا نہ آئے بلوچ قومی تحریک کے لیے وقت یہی ہے اوراگر اس گولڈن اور قیمتی وقت کو حقیقی آزادی پسندوں نے سازشی ،پیداگیروں اور موقع پرستوں کی وجہ سے ضائع کیا تو تاریخ کا تھپڑ اور طمانچہ حقیقی لوگوں کے منہ پر ہمیشہ لگے گا اور قومی تباہی اور بربادی کا سبب بھی یہی مصلحت پسندی کے شکار حقیقی لوگ ہی ہونگے ،اس چیز میں دو رائے ہی نہیں کہ کسی بھی قومی تحریک کو آج کے دور میں قوم اور دنیا کی حمایت کے بغیر کامیاب کرنا ناممکنات میں شمار ہے ،اگر کوئی سودائی اور فاتر العقل قومی اور دنیا کی حمایت کے بغیر جدوجہد کی کامیابی کا خواب دیکھ رہا ہے تو وہ قوم کا بیڑہ غرق کررہا ہے کیونکہ تامل ،چیچن،فلسطینی جنکے بجٹ ایک ریاست کی بجٹ کے برابر تھی اور ہے وہ دنیا کی حمایت کے بغیر اتنی طاقت و قوت اور وسائل کے باوجود بھی اپنی قوم کو آزادی نہیں دلا سکے جبکہ کوسووو ،مشرقی تیمور اور اریٹیریا جدید دور میں اپنی قوم اور دنیا کی حمایت کے ساتھ کم قربانیوں سے اپنی قومی آزادی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے اور آج آزادی کا طوطا دنیا اور خطے کی مجبوریوں اور ضروریات کے تحت بلوچ قوم کے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور اگر ہم پارٹی بازی ،تقسیم درتقسیم کا شکار رہے تو پھر ان نالائق اور ابن الوقتی جہدکاروں کی موقع پرستی ،شوق لیڈری اور نمود ونمائش کی سزا قوم کو نسل در نسل بھگتنا پڑے گا ،چند لوگوں کی وقتی مفادات کی سزا پوری قوم کو نسل درنسل دینے سے بہتر ہے کہ آج بھی ایمانداری اور قومی اور جدوجہدی خلوص سے دیکھا جائے کہ کہاں سے مسئلہ مسائل شروع ہوئے ہیں اور انکا سدباب کس طرح سے کیا جانا چاہیے کیونکہ چندسال بلوچ قومی تحریک کے لیے زند و مرگ کی مانند ہیں اگر اس دوران قومی تحریک اور مقصد کو چھوڑ کر ہم پارٹی اور تنظیموں اور الگ الگ دکانوں کی رسہ کشی میں لگ گئے تو ہم سے بڑا نالائق اور خود غرض کوئی اور نہیں ہوگا ۔ آج وقت اور قومی تحریک کا تقاضہ ہے کہ ہمیں ندی کی طرح بہتی ہوئی قومی تحریک کو موقع پرستوں ،جنگی منافع خوروں ،پیداگیروں نمود ونمائشی خود غرض لوگوں سے صاف کر تے ہوئے مقام انتشار کا تعین کرتے ہوئے اپنا فوکس مقصد اور مشن پر کرتے ہوئے جدوجہد کو کامیابی کی جانب لے جائیں اور جو کوئی اس مقصد کی راہ میں رکاوٹ ہے انکو تعمیری اور اصلاحی بحث ،دستاویزی ثبوت ،تحریری شہادت اور ثبوت کی بنیاد پر منکشف اور انھیں طشت از بام کریں کیونکہ ہزاروں سال سے آباد بلوچ قوم کی قومی وجود ،شناخت اور آزاد قومی ریاست کی بحالی کا بوجھ آج کی نسل کے کندھوں پر ہے اور آج کی نسل کی تحریکی گاڑی موجودہ جہدکاروں کے ہاتھوں میں ہے اور موجودہ جہدکاروں کی گاڈی کا ڈرائیور تنظمیں ،پارٹیاں اور لیڈرز ہیں ،کیا ایک ڈرائیور جسکے کندھوں پر پوری نسل کی ذمہ داری ہے کیا وہ حقیقی معنوں میں ذمہ داری سے تحریکی گاڑی چلا رہا ہے یا کہ لاپرواہی اور من مانی کررہا ہے اگر کوئی لاپرواہی سے تحریکی گاڑی چلارہا ہے کیا کسی لاپروا اور غیرذمہ دار کو قوم اورپوری نسل کی مستقبل کے ساتھ کھیلنے دیا جائے یا کہ اسکو روکا جائے ۔قومی تحریک ایک کشتی کی مانند ہے جس پر پوری قوم سوار ہے اور اس میں اگر ایک اٹھ کر اس کشتی کو پیاس کی شدت کی وجہ سے سوراخ کرنے کی کوشش کرے کیا باقی اسی طرح اسے چھوڑتے ہیں کہ وہ اس کشتی کوسوراخ کرے؟ یقیناًجب کشتی سراخ ہوگا تو سارے لوگ اس سے متاثر ہونگے اور کشتی ڈھوب جائے گااسی طرح قومی تحریک بھی ایک کی غلطی اور بلنڈر سے پوری قومی تحریک کا نقصان ہو سکتا ہے ،دنیا کی بہت ہی مضبوط سے مضبوط تحریکیں اسی طرح کی غلطیوں اور غلط پالیسیوں کی وجہ سے نقصانات کا شکار ہوکرختم ہوئے ہیں اس لیے بلوچ قومی تحریک کو پارٹی بازی کی عینک سے نہیں بلکہ تحریکی عینک سے دیکھا جائے کہ کس طرح سے تحریک کو فائدہ ہوگا اور قومی تحریک کی کشتی کومنزل تک پہنچایا جائیگا تب جاکر آستین کے سانپوں ،پیداگیروں ،موقع پرستوں اور نمود ونمائشی اور شوشائی لوگوں کا دکان خود بہ خود بند ہوگا ورنہ تنظیموں اور پارٹیوں کے نام پر یہ لوگ حقیقی اور صحیح لوگوں کو آپس میں دست و گریبان کرکے اپنا فائدہ اٹھاتے ہوئے پوری تحریک کا ستیاناس کریں گے.















