ایک ماں جو اپنی ذندگی سے زیادہ اپنے بیٹے سے محبت کرتی ہے۔ وہ خود بھوکی رہ لیتی ہے لیکن اپنے بیٹے کو اپنا اکھلوتا نوالا دینے سے ذرا بھی نہیں ہچکچاتی، رات کو جب بیٹا گھر آ نے میں تھوڑا سا دیر کردے تو ماں ہزار خیالوں میں کوہ جاتی ہے کہ رات ہو گئی ہے، بیٹا ابھی تک گھر نہیں آیا ہے، وہ ٹھیک تو ہے، کہی اُسے کچھ ہوا تو نہیں ہے۔ بیٹے کا جب تھوڑا سا طبیعت خراب ہو جائے تو پوری رات پریشان رہتی ہے کہ آج میرے بیٹے کی طبیعت خراب ہے، اور پوری رات ماں بھوکی رہتی ہے، انتظار کرتی ہے کہ بیٹا آ جائے تو ساتھ میں کھانا کھائیں گے۔ اتنے پیار و لاڈ سے پالنے والے اُس بیٹے کو اگر لاپتہ کیا جائے تو پتہ ہے اُس ماں کی کیا حالت ہوگی؟ اُس ماں کی زندگی میں جیسے اندھیرا چھا جاتاہے، دن رات اُس کی نظریں دروازے پر ٹکی رہتی ہے کے کب میرا بیٹا واپس آئے گا، وہ جب بھی کھانا کھاتی ہے تو اسے اپنے بیٹے کی یاد آتی ہے کہ اُس نے کچھ کھایا ہوگا کہ نہیں، راتوں کو جب وہ سو تی ہے تو اس کے موتی جیسے آ نسوں سے بستر تک گیلی ہوتی ہے۔ اپنے بیٹے کی یاد میں سردی گرمی بھوک پیاس ہر درد و تکلیف برداشت کر کے وہ پر امن احتجاج میں اپنے بیٹے کی تصویر ساتھ لے کر حصہ لیتی ہے اور چیخ و پکار کر کہتی ہے کے میرا بیٹا بے گناہ ہے، میرے بیٹے کو بازیاب کرو! مگر یہ ظالم فوج اُس ماں کے جگر گوشے کو بازیاب کرنے کے بجائے اُلٹا اس ماں پر ظُلم و تشدد کرتی ہے۔ پاکستان اور اُس کی قابض فوج آزادی پسند تنظیموں سے مات کھاتی ہیں تو مظلوم و نہتے لاپتہ افراد کوشہید کر کے ان کو جھوٹ کی بنیادپر سرمچاروں کا نام دے کر اُن کی لاشیں جب ہسپتال میں لائی جاتی ہیں تو ایک ماں کے جسم سے جیسے روح نکل جاتی ہے۔ اس ماں کی دل سے جو خدا سے انصاف کی پکار نکلتی ہے، وہی پکار ایک دن پاکستان اور اُس کی ظالم فوج کو زوال تک پہنچادے گا کیونکہ اس ریاست نے ایسی ہزاروں ماوں کو بے سہارا کیا ہے۔