کچھ خواب ایسے ہوتے ہیں جو وقت کے ساتھ ماند نہیں پڑتے، بلکہ ہر دھڑکن کے ساتھ اور گہرے ہوتے جاتے ہیں بلوچ عوام کے دل میں متحدہ بلوچستان کا خواب ایسا ہی ایک خواب ہے جو محض تصور نہیں، بلکہ ایک اٹل یقین اور جدوجہد کا سنگ میل ہے یہ وہ خواب ہے جس کی بنیاد شہیدوں کے لہو سے رکھی گئی، اور جس کی آبیاری قربانیوں اور مسلسل مزاحمت سے ہو رہی ہے یہ جغرافیہ کا صرف ایک نقشہ نہیں، بلکہ ایک ایسی ریاست کا تصور ہے جہاں بلوچ عوام اپنی تقدیر کے خود مالک ہوں، اپنے وسائل پر مکمل اختیار رکھتے ہوں، اور اپنی ثقافت، زبان اور شناخت کو کسی جبر کے سائے کے بغیر پروان چڑھا سکیں بلوچ قوم صدیوں سے اپنی دھرتی پر آزادی کے ساتھ جیتی رہی ہے جب بھی کسی طاقت نے اس سرزمین پر قبضہ کرنے کی کوشش کی، بلوچ عوام نے مزاحمت کے ساتھ اس کا جواب دیا چاہے وہ برطانوی سامراج ہو یا آج کا ریاستی جبر، بلوچ نے اپنی شناخت اور زمین پر سمجھوتہ کبھی قبول نہیں کیا یہ خواب کسی ایک نسل کا نہیں، بلکہ نسل در نسل منتقل ہونے والا عزم ہے مائیں اپنے بچوں کو لوری میں آزادی کی داستانیں سناتی ہیں، بزرگ جوانوں کو مزاحمت کے واقعات سناتے ہیں، اور نوجوان میدان میں اتر کر اس مشن کو آگے بڑھاتے ہیں۔ یہ جذبہ نہ خوف سے ختم ہوتا ہے، نہ جبر سے، کیونکہ یہ بلوچ کے خون میں شامل ہے متحدہ بلوچستان کا مطلب ہے ایک ایسا وطن جہاں بلوچ عوام اپنے ساحلوں، پہاڑوں، اور معدنی وسائل پر بلاشرکتِ غیرے اختیار رکھتے ہوں جہاں فیصلے بلوچ عوام کریں، نہ کہ کوئی بیرونی قوت۔ جہاں تعلیم، صحت اور روزگار کا نظام ان کی ضروریات کے مطابق ہو، نہ کہ کسی قابض طاقت کے مفاد میں یہ خواب کتابوں کے صفحات میں قید نہیں، بلکہ پہاڑوں کی گونج، ریگستانوں کی ہوا، اور سمندروں کی موجوں میں سنائی دیتا ہے ہر شہید کی مٹی سے یہ پیغام اٹھتا ہے کہ آزادی کا سورج ایک دن ضرور طلوع ہوگا۔ یہ پیغام صرف ماضی کا نہیں بلکہ آج اور کل کا بھی ہے آج کا بلوچ نوجوان اس بات سے باخبر ہے کہ آزادی کا راستہ قربانیوں سے بھرا ہے وہ جانتا ہے کہ تاریخ میں کوئی قوم بغیر جدوجہد کے آزاد نہیں ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ جان کی پروا کیے بغیر اس راہ پر گامزن ہے متحدہ بلوچستان کا قیام اس خطے میں امن، انصاف اور ترقی کی ضمانت ہوگا یہ صرف بلوچ عوام کے لیے نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے طاقت کے توازن میں ایک نیا باب کھولے گا۔ یہ خواب اب زیادہ دور نہیں، کیونکہ ایک باشعور اور متحد بلوچ قوم اپنی منزل کی طرف بڑھ رہی ہے یہی وہ ولولہ ہے جو ہر بلوچ کو نعرہ بلند کرنے پر مجبور کرتا ہے: ہم آزاد تھے، ہم آزاد ہیں، اور ہم آزاد رہیں گے •