بلوچ قومی مزاحمت کی تاریخ میں کچھ نام صرف رہنما نہیں ہوتے، وہ ایک فکری روشنی اور مسلسل چلتی ہوئی سانس کی طرح قوم کو راستہ دکھاتے ہیں

 کمانڈر انچیف بالاچ بھی ایسا ہی نام ہے وہ محض ایک کمانڈر نہیں تھے، نہ ہی صرف ایک پہاڑی محاذ کے قائد وہ مزاحمت کا چلتا پھرتا نظریہ تھے آزادی صرف نعرہ نہیں بلکہ ایک مسلسل قربانی، شعور اور عزم کا نام ہے

بالاچ اس دور میں اٹھے جب بلوچ نوجوانوں کے سامنے دو راستے تھے: یا خاموش غلامی، یا مشکل مگر باوقار آزادی کا سفر انہوں نے دوسرا راستہ چُنا، انہوں نے بندوق کو افراتفری کے لئے نہیں، اپنی قوم کی بقا اور شناخت کے دفاع کے لیے اٹھایا ان کے نزدیک جنگ کا مرکز “زمین کا کنٹرول” نہیں بلکہ “سوچ کی آزادی” تھی اسی لئے آج بھی جب بلوچ نوجوان ان کا نام لیتے ہیں، تو صرف ان کی شہادت یاد نہیں کرتے بلکہ ان کی فکری وراثت کو اپنے اندر زندہ محسوس کرتے ہیں۔

بالاچ کی مزاحمت ہتھیار سے پہلے شعور کی مزاحمت تھی انہوں نے اپنی جدوجہد کو قبائلی دشمنی یا ذاتی اقتدار سے الگ رکھا، ان کا سارا وزن آزادی کے نظریے پر تھا یہی وجہ ہے کہ انہیں صرف ایک سردار طور پر نہیں دیکھا جاتا بلکہ ایک ایسے باشعور سپاہی کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جس نے اپنی پوری جوانی قوم کے نام وقف کردی وہ نہ کرسی کے خواہش مند تھے، نہ شہرت کے، ان کا واحد مقصد یہی تھا کہ آنے والی نسلیں سر اٹھا کر جی سکیں، اور ان کا وطن باہر سے مسلط کردہ طاقتوں کی گرفت سے آزاد ہو سکے

وہ پہاڑوں کے کمانڈر ضرور تھے مگر ان کا وژن پہاڑوں سے آگے تھا وہ جانتے تھے کہ جنگیں صرف بندوق سے نہیں جیتی جاتیں، بلکہ نظریے کی طاقت سے جیتی جاتی ہیں انہوں نے نوجوانوں کو یہ احساس دلایا کہ جو کوئی غلام قوم اپنی آزادی کی بات پر ڈٹ جائے اسے کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی ان کے کردار کی سب سے بڑی طاقت یہی تھی کہ انہوں نے خود کو مثال بنایا وہ آگے چلتے تھے، قوم ان کے پیچھے وہ حکم دینے والے نہیں، راستہ دکھانے والے تھے قوم پرستی اگر کتابوں میں رہتی تو شاید ختم ہو جاتی، مگر بالاچ بنے اسے عمل اور قربانی سے ہمیشہ کیلئے زندہ کر دیا

ان کی زندگی ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ آزادی کا مطلب صرف ریاست سے علیحدگی نہیں بلکہ اپنی شناخت، زبان، ثقافت اور تاریخ کو خود اپنے اختیار کے ساتھ زندہ رکھنا ہے بالاچ نے اپنی مسلح مزاحمت کے ساتھ ساتھ سوچ کی مزاحمت بھی کی وہ کبھی ایک لمحے کیلئے بھی اس گمان میں نہیں آئے کہ دشمن کے پاس طاقت زیادہ ہے، کیونکہ انہیں یقین تھا کہ طاقت کا اصل ماخذ ہتھیار نہیں بلکہ نظریہ ہوتا ہے ہتھیار زنگ آلود ہو جاتے ہیں، مگر نظریہ نسلوں کے خون میں منتقل ہوتا ہے

پہاڑوں میں جنگ لڑنا صرف گولی چلانا نہیں، یہ صبر، محرومی، بھوک، سردی، تنہائی اور ہر لمحہ موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑے رہنے کا نام ہے۔ جو شخص یہ سب کچھ ایک مقصد کیلئے برداشت کرتا ہے، وہ صرف لڑاکا نہیں رہتا، وہ تاریخ کا حصہ بن جاتا ہے بالاچ نے اپنے دور کے نوجوانوں کو یہی سبق دیا کہ آزادی کا سفر آسان نہیں، مگر مشکل راستہ ہی عزت کی راہ بنتا ہے ان کی شہادت نے جسم ختم کیا، مگر نظریہ اور سوچ کو اور زیادہ مضبوط کر دیا

آج اگر بلوچ نوجوان اپنے حق کیلئے کھڑے ہیں، تو اس کے پیچھے بالاچ جیسے رہنماؤں کی فکری بنیاد ہے وہ دوراندیش تھے، وہ آنے والی نسلوں کے ذہنوں میں سوال پیدا کرنا چاہتے تھے: “اگر ہم اپنی زمین کے مالک نہیں تو ہم کون ہیں؟” اس ایک سوال نے پوری نئی نسل کا شعور تبدیل کر دیا

بالاچ کی زندگی ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ قوموں کی تقدیر کتابوں میں نہیں، قربانیوں میں لکھی جاتی ہے

 وہ شہید ہوئے مگر شکست نہیں کھائی، کیونکہ شکست تب ہوتی ہے جب نظریہ ختم ہو جائےبالاچ کا نظریہ آج بھی زندہ ہے آج بھی پہاڑوں میں جدوجہد کرنے والا ہر نوجوان ان کی وراثت کا تسلسل ہے

 بالاچ صرف ایک فرد نہیں تھے، وہ ایک سمت تھے، وہ ایک فکری مشعل تھے انہوں نے ہمیں یہ سکھایا کہ جنگ اس وقت تک ختم نہیں ہوتی جب تک آخری سپاہی آخری سانس نہ لے لے، اور جب تک قوم میں ایک بھی شخص اپنے وطن کیلئے زندہ ہے، آزادی کا سفر چلتا رہتا ہے

یہی کمانڈر انچیف بالاچ کی حقیقی کامیابی ہے جسم مٹ گیا، مگر نظریہ ناقابلِ شکست ہوگیا.