لندن (ہمگام نیوز) فری بلوچستان موومنٹ کے ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ “شگان” بلوچ روایات کے اندر اپنی طویل اور پیچیدہ تاریخ رکھتی ہے۔ بلوچ اقدار و روایات میں “شگان” بیرگری اور مزاحمت کی علامت کے طور پر بھی مستعمل رہا ہے۔ بلوچ قومی تاریخ غیرت، حمیت، بہادری، باہمی عزت و توقیر کے حوالے سے ایک درخشاں پس منظر کی حامل ہے، لیکن قبضے کے اثرات نے آج “شگان” کے مثبت پہلوؤں کو دھندلا دیا ہے، اور اب یہ تصور محض عورت اور عورت ذات کی سماجی کوتاہیوں تک محدود ہوچکا ہے۔ دراصل آج بلوچ جس وسیع پیمانے پر قومی نسل کشی کا سامنا کر رہے ہیں، ایسے میں بلوچ سرزمین سے غداری اور دشمن کے سامنے سلامی ہونے سے بڑھ کر کوئی “شگان” نہیں ہو سکتا۔ سماجی طعنوں اور “شگان” کے ڈر سے عورتوں اور بیٹیوں کا قتل کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔ بلوچ روایات میں شامل عزت اور غیرت کے حوالے سے سزا و جزا اپنی جگہ لیکن سماجی غلطیوں کی تلافی ایک انسان کے قتل سےہرگز نہیں ہو سکتی، بلکہ ہمیں سماجی ارتقا کے ساتھ سفر کرتے ہوئے اپنی عزت و وقار کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے خواتین کو مردوں کے شانہ بشانہ کھڑا ہونے کی ترغیب دینی چاہیے۔ بلوچ عورت بشمول مجموعی بلوچ معاشرے کی پسماندگی اور اس پر ہونے والے جبر و تشدد کے تمام دھاگے پاکستانی و ایرانی قبضہ گیریت سے جا ملتے ہیں۔ وگرنہ بلوچ کی تاریخ میں میر چاکر کی بہن بانڑی بلوچ نے جنگوں کی قیادت کی ہے، اور جدید دور میں گل بی بی کی برطانوی سامراج کے خلاف مزاحمت بلوچ تاریخ کا حصہ ہے۔ کچھ ہفتے قبل بلوچستان کے علاقے ڈغاری میں ایک بلوچ خاتون کو مبینہ طور پر خاندان کے افراد نے “غیرت” کے نام پر قتل کر دیا۔ فری بلوچستان موومنٹ اس وحشیانہ اور غیر انسانی عمل کی سخت الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔ مرد یا عورت کی کسی بھی کوتاہی، سماجی جرم یا سنگین غلطی کے باوجود، ہجوم اکٹھا کرکے کسی کو قتل کرنا کسی طور قابلِ قبول نہیں۔ فری بلوچستان موومنٹ اس بات کو خارج از امکان نہیں سمجھتی کہ ایسے بیشتر واقعات میں ریاستی مشینری کی مذموم سازشیں کارفرما ہوتی ہیں تاکہ ایسے واقعات کو بنیاد بنا کر بلوچ قوم کے خلاف عالمی سطح پر منفی بیانیہ قائم کیا جا سکے کہ گویا بلوچ روایات ایسے غیر انسانی افعال کی تائید کرتی ہیں۔

کیونکہ ڈغاری واقعے کے فوراً بعد بلوچستان اور کراچی میں بلوچ مرد و عورتوں کو عزت کے نام پر قتل کرنے کے مزید واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ مزید برآں، 2008 میں نصیرآباد میں خواتین کو زندہ دفنائے جانے کے واقعے پر بلوچستان اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہو کر ایک کٹھ پتلی پارلیمنٹ ممبر نے کہا تھا کہ یہ ہماری روایات کا حصہ ہے لیکن وہ کوئی جامع اور تاریخی حوالہ اور بلوچ روایات سے جڑے ایک مثال بھی پیش نہ کرسکے۔ یہ تمام شواہد ریاستی سازش اور پشت پناہی کے امکان کو تقویت دیتے ہیں۔ گوکہ بلوچ روایات میں ہر کوتاہی اور جرم کا سزا متعین ہے مگرسماجی برائیوں کی بنیاد پر کسی انسان کو قتل کرنا بلوچ روایات کا حصہ ہرگز نہیں ہے۔

ہم واضح کرتے ہیں کہ بلوچ کوڈ آف ایتھکس اور روایتی انصاف کے اصولوں میں ایسے معاملات کو عزت، گفت و شنید اور عدل کے دائرے میں حل کیا جاتا ہے۔ کسی کو “خیر” کے نام پر دھوکے سے بلا کر قتل کرنا بلوچ روایات کی مکمل نفی ہے۔ یہ عمل سراسر بربریت ہے جس کی نہ اسلام میں گنجائش ہے ناں ہی بلوچ روایات میں، ایسے افعال و کوتاہیوں پر کسی کا قتل کرنا موجودہ ترقی یافتہ سماج میں شاز و نادر ہی ہوتا ہے لیکن یہ سب پاکستانی و ایرانی تسلط کے ثمرات ہیں، کیونکہ قبضہ گیریت نے ہمیں آج کے ترقی یافتہ دور سے سو سال پیچھےدھکیلا ہے۔ اسکے باوجود بلوچ روایات میں ہر جرم کے لیے سزا و جزا کا منصفانہ طریقہ کار موجود ہیں جو انصاف کے تقاضوں کو ہمیشہ ملحوظِ خاطر رکھتے ہیں۔

تاہم اس افسوسناک واقعے کو جس انداز سے پاکستانی ریاست، پنجابی وزیراعظم، پنجابی ٹولہ اور خاص طور پر پکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف نے استعمال کرنے کی کوشش کی ہے، وہ ناقابلِ قبول ہے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی جیسا کہ یہ صرف بلوچستان میں ہورہاہے لیکن اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان بالخصوص پنجاب میں ایسے واقعات بلوچستان سے کئی گنا زیادہ ہیں۔ ایک انفرادی مجرمانہ واقعے کو پوری بلوچ قوم کے خلاف پروپیگنڈا کے لیے استعمال کرنا بد نیتی پر مبنی ہے۔ پاکستان ایک بار پھر انسانی المیے کو سیاسی مفادات کے لیے استعمال کر رہا ہے تاکہ بلوچ کو بحیثیت قوم بدنام کیا جا سکے۔

فری بلوچستان موومنٹ سمجھتی ہے کہ پاکستانی ریاست اس واقعے کو بنیاد بنا کر عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنا چاہتی ہے اور بلوچ قوم کو “شدت پسند” کے طور پر پیش کرنے کی ناکام کوشش کر رہی ہے۔ اگر پاکستانی حکام واقعی انسانی حقوق کے اتنے ہی علمبردار ہیں، تو انہیں بلوچستان میں جبری گمشدگی، ماورائے عدالت قتل، اور عورتوں، بچوں سمیت عام شہریوں پر مظالم بند کرنے چاہئیں۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق صرف 2024 میں غیرت کے نام پر قتل کے 346 واقعات ہوئے، جن میں اکثریت کا تعلق پنجاب سے تھا، مگر ان پر خاموشی اختیار کی گئی۔ جبکہ سسٹینبل سوشل ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کے مطابق 2024 میں 547 افراد غیرت کے نام پر قتل کیے گئے، لیکن اس پر سارے پاکستان میں کوئی بات نہیں کرتا مگر بلوچستان میں ہونے والے واقعے کے بارے میں مقتدر حلقوں سے لے کر کٹھ پتلی انتظامیہ اور میڈیا کی طرف سے شدید واویلا کیا جارہا ہے تاکہ اس بدنصیب واقعے کو بنیاد بنا کر بلوچ قوم کو بدنام کیا جا سکے۔ ترجمان نے کہا کہ بلوچ قوم اس وقت اپنی سرزمین کی آزادی و واگزاری کے لیے پاکستانی و ایرانی ریاستوں کے خلاف برسرِ پیکار ہے، اور مابعد آزادی ایک ایسی قومی ریاست تشکیل دی جائے گی جہاں سماج اور انسان دشمن نظام کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی، اور جرم و سزا کا تعین خالصتاً آئینی اور قانونی بنیاد پر ہوگا۔ جہاں اجتماعی طور پر بلوچ عوام کے حقیقی نمائندے یہ فیصلہ کریں گے کہ کس طریقہ سے سماجی قوانین کو تشکیل دینی ہے جہاں انسان کی عزت ہو اور وہاں رہنے والے بلوچ قومی غیرت اور باہمی عزت و رواداری کے مفہوم سے بھی بھرپور واقف ہوں موجودہ صورتحال میں پاکستان اپنے مفادات کے لیے نام نہاد سرداروں کو ہر قسم کی جوابدہی سے آزاد رکھتا ہے تو اب سوال یہ ہے کہ کیا ڈغاری کے واقعے میں ملوث افراد کو سزا ہوگی یا انہیںقابض پاکستان مقبوضہ بلوچستان کے اندر اپنے مفادات کی تکمیل کے لئیے چپ چھاپ رہا کردیا جائے گا؟ ترجمان نے مزید کہا کہ ہر قومی آزادی کی تحریک ارتقائی مراحل سے گزرتی ہے اور ممکنہ طور پر ایک عبوری ریاست کے مانند کام کرتی ہے جہاں آزادی سے قبل سیاسی، سماجی اور معاشی پالیسیاں تشکیل دی جاتی ہیں۔ بدقسمتی سے بلوچ تحریک تاحال اس مرحلے تک نہیں پہنچ سکی۔ سب سے بڑی رکاوٹ قابض ریاستوں کی مداخلت، داخلی بے اصولیاں اور گروہی مفادات ہیں۔ اگر آج ان داخلی مسائل پر قابو پالیا جائے، تو یقیناً بلوچ تحریک ایسی سیاسی و سماجی بنیادیں رکھ سکتی ہے جہاں ہر جرم کی سزا اور اس پر عملدرآمد کے ضوابط بڑی حد تک نافذ کیے جا سکیں۔ اگرچہ بلوچ روایات میں بعض ازکار رفتہ طریقہ کار موجود رہے ہیں، لیکن انہیں جدید سائنسی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ایک مؤثر تعلیمی نظام درکار ہے، جو نئی نسل کو ان روایات کے مختلف پہلووں سے روشناس کرسکیں کہ ننگ و ناموس کیا ہے اور انفرادی آزادی سمیت انفرادی حق اور اس میں شامل حدود و قیود کیا ہیں ۔ لیکن یہ سب کچھ تبھی ممکن ہے جب بلوچ قوم غلامی کی زنجیریں توڑ کر اپنے انتظامی و سیاسی فیصلوں کی مالک خود بن جائے۔

مزید برآں یہ بھی حقیقت ہے کہ بلوچ قوم ایران و پاکستان کے قبضے اور معاشی استحصال کے بدترین دور سے گزر رہی ہے۔ معاشی وسائل کو ترقی دینا نہ ایران کے مفاد میں ہے نہ پاکستان کے، کیونکہ دونوں نے بلوچ سماجی ترقی کو طاقت اور تسلط کے زور پر روک رکھا ہے۔ لہذا سماجی ارتقا قومی آزادی اور معاشی وسائل پر کامل اختیار پر منحصر ہے اور معاشی وسائل کی ترقی بلوچ قومی آزادی اور بااختیار فیصلہ سازی پر منحصر ہے۔ بلوچ عوام کو چاہیے کہ وہ ریاستی پروپیگنڈے کو پہچانیں اور ایک انفرادی واقعے کو مجموعی قوم سے جوڑنے سازش کو رد کریں۔ ہمارا یقین غیر متزلزل ہے کہ جب بلوچ قوم اپنی آزادی حاصل کرے گی، تو ایک سائنسی، ترقی پسند اور مساوات پر مبنی سماج کی بنیاد رکھی جائے گی، جہاں ہر قسم کی سماجی جبر، استحصال اور بربریت کا مکمل خاتمہ ہوگا۔