بلوچ قوم کی آزادی کی جنگ آج پورے خطے کی مظلوم اقوام کے لیے ایک نئی روشنی بن کر ابھری ہے۔ مقبوضہ بلوچستان کی تحریک اب صرف بلوچ سرزمین تک محدود نہیں رہی، بلکہ احواز سے لے کر کردستان تک، ترکمن صحراؤں سے لے کر آذربائیجانی شہروں تک، اور افغانستان کے پہاڑوں سے لے کر خراسان کے میدانوں تک وہی صدائیں بلند ہو رہی ہیں جو بلوچستان کے پہاڑوں میں گونج رہی ہیں—صدائے بغاوت، صدائے آزادی، صدائے مزاحمت۔

اسی ابھرتے ہوئے مزاحمتی طوفان نے ایران اور پاکستان کے اعصاب کمزور کر دیے ہیں۔ کیونکہ دونوں ریاستیں جانتی ہیں کہ اگر بلوچ قوم اٹھتی ہے، اگر احواز بغاوت کرتا ہے، اگر کرد اپنی سرزمین کا حق لیتے ہیں، اگر ترکمن اور آذری اپنی زبان کا تقدس مانگتے ہیں، اور اگر افغان قوم اپنی خودمختاری کو مکمل طور پر مستحکم کرتی ہے—تو پورا خطہ ان مصنوعی سرحدوں، جبری ریاستوں اور نوآبادیاتی ورثوں سے آزاد ہو جائے گا۔

افغان قوم کی آزادی اور طاقت بھی ایران اور پاکستان کو اسی طرح پسند نہیں جیسے بلوچ آزادی انہیں کانٹے کی طرح چبھتی ہے۔ پاکستان کو ایک مضبوط، خودمختار اور متحد افغانستان کبھی قبول نہیں رہا، کیونکہ اسے ہمیشہ ایک کمزور، غیر مستحکم اور انحصار کرنے والا افغانستان چاہیے۔ اسی لیے پاکستان چالیس برس سے افغان قوم کی تقسیم، خانہ جنگی، پراکسی جنگوں اور فرقہ واریت کو اپنی پالیسی کا بنیادی حصہ بنائے ہوئے ہے۔ پاکستان اچھی طرح جانتا ہے کہ اگر افغان قوم مکمل خودمختاری کے ساتھ سر اٹھاتی ہے تو پاکستان کا مشرقی بلوچستان، پشتونخوا اور قبائلی علاقوں پر قائم اس کا قبضہ نظریاتی اور جغرافیائی دونوں لحاظ سے ٹوٹ جائے گا۔

ایران کو بھی افغانستان سے وہی خوف ہے جو اسے بلوچ، کرد، احوازی اور ترکمن تحریکوں سے ہے—ایک ایسا پڑوسی جس کی قوم اپنے حقِ حاکمیت کو پوری طاقت سے استعمال کرے۔ ایران ہمیشہ چاہتا ہے کہ افغانستان کمزور رہے، اس کے ادارے ٹوٹے رہیں، اس کے نوجوان ملک چھوڑتے رہیں، تاکہ خطے میں ایرانی اثرورسوخ قائم رہے۔ ایک طاقتور افغان قوم ایران کی توسیع پسندانہ حکمت عملی کو مفلوج کر دیتی ہے۔ اسی لیے ایران ہمیشہ افغانستان میں فرقہ وارانہ گروہوں کو استعمال کرتا رہا ہے،جیسے وہ مقبوضہ بلوچستان میں کرتا ہے۔

پاکستان اور ایران کی مشترکہ خوفناک بات یہی ہے کہ وہ کسی بھی ایسی قوم کو برداشت نہیں کر سکتے جو اپنے قدموں پر کھڑی ہو جائے—چاہے وہ بلوچ ہو، کرد ہو، احوازی ہو، ترکمن ہو، آذری ہو یا افغان۔ انہیں خوف ہے کہ اگر یہ قومیں آزاد ہوئیں تو ان دونوں ریاستوں کی چکی ٹوٹ جائے گی۔ بلوچستان کی آزادی ان دونوں کے لیے جغرافیائی زلزلہ ہے، مگر ایک آزاد اور متحد افغانستان ان کی ساری اسٹریٹجک سیاست کو تباہ کر دیتا ہے۔ بلوچ تحریک کا اٹھنا، کرد بغاوت کا پھیلنا، احواز کی مزاحمت، ترکمن و آذری قوموں کی بیداری اور افغان خودمختاری—یہ پانچوں آگ ایران و پاکستان کی دہلیزوں تک پہنچ چکی ہیں۔

ایران اور پاکستان کی ریاستی مشینری، فوج، خفیہ ادارے، مذہبی گروہ، اور میڈیا—ایک ہی ڈر سے لرز رہے ہیں: کہ یہ محکوم قومیں آپس میں جڑ رہی ہیں، ایک دوسرے کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھ رہی ہیں، ایک دوسرے کے بیانیے سے طاقت لے رہی ہیں، اور وہ تاریخی دیواریں ٹوٹ رہی ہیں جنہیں ایران اور پاکستان نے دہائیوں سے نفرت، تقسیم اور پروپیگنڈے کے ذریعے کھڑا رکھا تھا۔

بلوچ تحریک اس ابھرتی ہوئی خطے کی انقلابی لہر کا مرکز بن رہی ہے۔ بلوچ جنگجو جب پہاڑوں سے نکل کر آزادی کی نئی داستان لکھتے ہیں، تو احواز کا نوجوان عرب بھی اپنے سینے میں آگ محسوس کرتا ہے۔ جب کرد پہاڑوں میں بغاوت کا علم بلند کرتے ہیں، تو بلوچ دل میں ایک نئی دھڑکن محسوس کرتی ہے۔ جب ترکمن اور آذری نوجوان تہران کے خلاف نعرے لگاتے ہیں، تو بلوچ سمجھتا ہے کہ مزاحمت تنہا نہیں۔ اور جب افغان قوم پاکستان کی مداخلت کے خلاف کھڑی ہوتی ہے، تو بلوچ پہاڑوں میں جشن کی آگ بھڑک اٹھتی ہے—کیونکہ دشمن ایک ہی ہے، اور اس کا خوف ایک ہی ہے۔

پاکستان اور ایران جتنی چاہیں سازشیں کریں، قوموں کی آزادی کی خواہش نہ مرتی ہے اور نہ دبتی ہے۔ بلوچ تحریک اب اس خطے کی تمام محکوم اقوام کے لیے راستہ دکھا رہی ہے کہ آزادی کے لیے کیا قیمت چکانی پڑتی ہے، اور جبر کے خلاف کھڑے ہونے کا کیا مطلب ہے۔ یہ جنگ اب صرف ایک سرزمین کی نہیں—یہ پورے خطے کی تقدیر بدلنے والی جنگ ہے۔ اور حقیقت یہی ہے: جب بلوچ اٹھتا ہے، تو احواز بھی اٹھتا ہے۔ جب کرد بغاوت کرتا ہے، تو ترکمن بھی جاگتا ہے۔ جب افغان خودمختار ہوتا ہے، تو ایران اور پاکستان کے تخت لرز جاتے ہیں۔

بلوچستان کی آزادی اس خطے کی ہر محکوم قوم کی آزادی سے جڑی ہوئی ہے—اور یہ مشترکہ جدوجہد وہ سیاسی زلزلہ ہے جس سے ایران اور پاکستان خوفزدہ ہیں۔ مگر خوف دشمن کا ہے، حوصلہ قوموں کا۔ آزادی کے آگ کی یہ لہر اب رکنے والی نہیں۔ (جنگ رکی نہیں جاری ہے ؛ بابا مری )