تحریر ۔ سلام سنجر

دنیا ایک نئے سرد جنگی دور میں داخل ہو چکی ہے، جہاں ہر طاقتور ریاست اپنے مفادات کی بنیاد پر نئے اتحاد اور نئے دشمن تراش رہی ہے۔ شام میں اثر و رسوخ کم ہونے کے بعد روس نے عالمی سیاست میں ایک نیا موڑ لیتے ہوئے افغانستان میں طالبان کی حکومت کو تسلیم کر کے ایک واضح پیغام دیا ہے: “ہم خطے میں ایک مضبوط کھلاڑی ہیں”۔

روسی حکومت نے حال ہی میں کابل میں طالبان کے نامزد کردہ سفیر کو سفارتی اسناد تسلیم کر کے دنیا کو حیرت میں ڈال دیا ۔ اس اقدام کے ساتھ روس طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے والا پہلا ملک بن گیا ہے ۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق، روس کا یہ فیصلہ نہ صرف امریکہ کو چیلنج دینے کی ایک کوشش ہے، بلکہ خطے میں اس کی طاقتور موجودگی کو دوبارہ زندہ کرنے کی علامت بھی ہے۔

جبکہ امریکہ نے بیس سال تک افغانستان پر جنگ مسلط رکھی، لاکھوں جانیں ضائع ہوئیں، اربوں ڈالر خرچ ہوئے، لیکن آخر کار افغانستان کو انہی طالبان کے حوالے کر دیا جنہیں کبھی دنیا کے سب سے بڑے دہشت گرد قرار دیا گیا تھا ۔ سوال یہ ہے، کہ کیوں؟ سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ امریکہ طالبان کو ایک تزویراتی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے تاکہ ایران اور پاکستان پر دباؤ برقرار رکھ سکے ۔ دوسری جانب، چین کے اثر کو محدود کرنے کے لیے بھارت کو آگے بڑھایا گیا ، اور بھارت پر کنٹرول رکھنے کے لیے پاکستان کو کسی حد تک ساتھ رکھا گیا۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ طالبان کس کا مہرہ بنیں گے روس کے مفادات کے لیے کام کریں گے یا امریکی کے لیے بہتر نتائج دے سکتے ہیں ،کیوں امریکہ کو آنے والے دنوں میں طالبان کی ضرورت اس لیے ہوگی کہ اگر چینی عفریت نے خطے میں سر اٹھایا تو امریکہ چین کو چین کے اندر کمزور کرے گا ۔ جبکہ چین نے جس قدر ایغور مسلمانوں کو دبائے رکھا ہے اور امریکہ نے کوئی خاص ردعمل نہیں دیا اس سے یہ تجزیہ نکلتا ہے کہ آنے والے دنوں میں امریکہ چین کے اندر ایغور مسلمانوں کو مذہب کے نام پر چین سے لڑا کر چین کو اندر سے کمزور کرے گا ۔ امریکہ چاہتا ہے کہ چین کو بھی روس کے طرح کسی ملک یا گروہ سے لڑا کر اسے معاشی حوالے سے کمزور کیا جا سکے لیکن چین بھی ہر طرح کی جنگوں سے بچنا چاہتا ہے ۔ یہی وہ شطرنج ہے جس میں ہر مہرہ، ہر چال، کسی بڑے مقصد کی نمائندگی کرتی ہے۔

نئے عالمی کھیل کے ساتھ ، خطے میں بڑی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، طاقت کے توازن میں زبردست ہلچل ہے ۔ جو قومیں کمزور ہیں وہ اس طوفان کی نذر ہو جائیں گی، اور جو قومیں باہمی اتحاد، سیاسی ہوشمندی اور ایک موقف پر قائم رہیں گی، وہ پتھر کی طرح مضبوط ہو کر ابھریں گی ۔ یہ سوال آج ہر بلوچ کے سامنے ہے، “کیا ہم بھی اس طوفان میں بہہ جائیں گے یا چٹان بن کر کھڑے ہوں گے؟”

افسوس کی بات یہ ہے کہ بلوچ قوم، خاص کر آزادی پسند تنظیمیں ، ایک دوسرے سے اس حد تک الگ ہو چکے ہیں کہ عالمی طاقتیں اب بلوچستان کی آزادی کی حمایت سے بھی ہچکچاتی ہیں ۔ کوئی بھی طاقت اس وقت مدد نہیں کرتی جب اسے اندازہ ہو کہ جس کی حمایت کی جا رہی ہے وہ خود اندرونی طور پر تقسیم اور کمزور ہے یا مضبوط ہے ۔

بلوچ آزادی پسندوں کے درمیان سیاسی اتفاق، عسکری ہم آہنگی، اور ایک مشترکہ بین الاقوامی بیانیہ کی شدید ضرورت ہے ۔ اگر آپ کا بیانیہ ریاست قلات ہے تو دنیا اس قدر بے وقوف نہیں کہ وہ بلوچستان کے تاریخی جغرافیہ کو سمجھ نہ سکے برطانیہ نے بلوچستان کو تین حصوں تقسیم کیا ، لیکن برطانیہ کو اس بات کا ادراک ہے کہ بلوچ کی اکثریت متحدہ بلوچستان کے خواہاں وہ اس ریاست قلات والی بیانیہ کو کیسے قبول کرے گا کہ وہ ان سے صرف ریاست قلات کو حاصل کرنے مدد کی پکار لگاتے ہیں ۔ بھلے ہی برطانیہ نے بلوچوں کی وحدت پر کاری ضرب لگائی ہے لیکن وہ جانتا ہے خطے حالات بدل رہے ہیں اور آزاد بلوچستان ناگزیر بن چکا ہے ، ایک بلوچ قوم اپنی مادر وطن کے مالک بن جائیں گے۔

جب تک بلوچ قیادت خود اپنے عوام کو ایک سمت میں متحرک نہیں کرے گی، دنیا کا کوئی بھی ملک بلوچ کاز کی حمایت نہیں کرے گا ۔ چاہے وہ روس ہو، چین ہو یا امریکہ ہو۔

اسی سبب ایران اور پاکستان بلوچوں آزادی پسندوں کی اس تقسیم سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور ہر روز ایران اور پاکستان کے ہاتھوں بلوچوں کی نسل کشی شدت کے ساتھ جاری ہے ۔ ایران تو اس حد تک آگے بڑھ چکا ہے کہ بلوچستان میں بلوچوں کے گھروں کو کھنڈرات کی طرح مسمار کر رہا ہے، جیسے ایک معمار زمین صاف کر کے نئی تعمیرات کی تیاری کرتا ہے ۔ یہ سب اس لیے ممکن ہو رہا ہے کہ ہم متحد نہیں ہیں ۔ اور اتحاد ناممکن ہے کیونکہ آزادی پسندوں کا ایک گروہ اس ایران سے آزادی کی تحریک کو کامیاب بنانے کے لیے مدد کا خواہاں ہے جہاں یہ ناممکن بھی ہے اور ایک قومی دشمن سے اتحاد کرکے بلوچستان کے صرف ایک حصے کو آزاد کرانا ہے جہاں دوسرے حصے کی اگر بات کی جائے یا متحدہ بلوچستان کا نظریہ ان کے سامنے پیش کیا جائے تو یہ نہ صرف اس متحدہ بلوچستان سے گھبراتے ہیں بلکہ اس دشمن ملک ایران کی دفاع میں کسی طرح لگ جاتے ہیں اور بہانا یہ کرتے ہیں ایک وقت میں دو محاذ پر جنگ نہیں ہو سکتا۔

ایک وقت میں دو محاذ پر جنگ نہیں ہو سکتا!یعنی وہ دوسرے محاذ (ایرانی مقبوضہ بلوچستان) کو مانتے ہیں کہ وہ الگ محاذ ہے ، لیکن ایران بھی اس قدر بے وقوف نہیں ہے ایک محاذ یا دو محاذ والی اصطلاح سے بے خبر ہے اسی لیے ایران یا قاجار نسل کے مفہم افراد سے ہم نے کئی سنا ہے یا ان کو پڑھا ہے کہ وہ پاکستانی مقبوضہ بلوچستان کو بھی ایران کا حصہ مانتے ہیں ،

اگر مگر ، پاکستان ٹوٹ جائے تو کمزور پاکستانی مقبوضہ بلوچستان پر قبضہ کرنا ایران کے لیے بہت آسان ہوگا، کیونکہ موجود بلوچ سیاسی قیادت کمزور اور غیر منظم ہے اور عالمی سطح پر ایسا کوئی مضبوط ہاتھ ابھی تک بلوچوں کے لیے نہیں بڑھ رہا ہے کہ وہ ایران کو آنے والے دنوں یا اس وقت روک سکے۔

حرف آخر! آج وقت ہے کہ بلوچ نوجوان، سیاسی قیادت اور عوام اپنی صفوں کو ازسرنو ترتیب دیں ، عالمی منظرنامے میں تبدیلی کی جو ہوا چل رہی ہے، وہ ہمیں ایک موقع بھی دے رہی ہے، اگر ہم اسے سمجھ سکیں ۔ اگر ہم متحد ہوئے، ایک بیانیہ، ایک تحریک، اور ایک قیادت کے بینر تلے آ گئے، تو کوئی طاقت ہمیں نظر انداز نہیں کر سکتی ۔ لیکن اگر ہم یونہی بکھرے رہے ، تو عالمی طاقتوں کے لیے ہم صرف ایک “مہرہ” بن کر رہ جائیں گے ، جسے وقت آنے پر قربان کر دیا جائے گا۔

 یہ وقت سوچنے، سمجھنے اور ایک ہونے کا ہے ۔ کیونکہ آنے والی دنیا میں صرف وہی بچیں گے جو چٹان کی طرح مضبوط ہوں یا باقی صرف تاریخ کا حصہ بنیں گے کہ کسی زمانے میں بلوچ نامی قوم یا بلوچستان جیسا سر زمین ہوا کرتا تھا! ۔