نیشنل پارٹی اور اس کے سربراہ ڈاکٹر مالک بلوچ کے سیاسی کردار سے بلوچستان کے بے زبان پتھر بھی واقف ہیں کہ وہ کس طرح کی سیاست کر رہے ہیں۔ مگر اس کے باوجود ڈاکٹر صاحب کو خود اپنے بارے میں شکوک و شبہات ہیں۔ اسی وجہ سے وہ آئے روز سوشل میڈیا پر اپنی اور اپنی جماعت کی صفائی پیش کرتے رہتے ہیں کہ وہ جمہوری سیاست پر یقین رکھتے ہیں اور ان کا بلوچستان کی مزاحمتی سیاست سے کوئی تعلق یا واسطہ نہیں۔ انہیں یہ ڈر لاحق رہتا ہے کہ کہیں ان کی سیاست کو بلوچستان کی مزاحمتی سیاست سے نہ جوڑ دیا جائے یا نہ سمجھ لیا جائے، جس سے ان کے تیار کردہ “گیم” (منصوبہ) کو نقصان نہ پہنچے۔
ڈاکٹر صاحب 2013 کے عام انتخابات میں اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی کی بدولت کیچ سے صوبائی اسمبلی کی نشست جیت کر رکن بنے۔ اسٹیبلشمنٹ نے انہیں مسلم لیگ (ن) کے ذریعے صوبائی حکومت تشکیل دینے میں کلیدی کردار ادا کرنے کا موقع دیا۔ ڈاکٹر صاحب اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں پر سوار ہو کر تقریباً ڈھائی سال تک بلوچستان کے وزیر اعلیٰ رہے اور اس عرصے میں صوبے میں اسٹیبلشمنٹ کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے میں سرگرم رہے۔
ڈاکٹر صاحب نے مسلم لیگ کے توقعات سے بڑھ کر وفاداری دکھائی جس کے نتیجے میں مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف انہیں اپنی جماعت کے کئی اراکین سے بھی زیادہ سچا “مسلم لیگی” سمجھنے لگے تھے۔ اسٹیبلشمنٹ اور مسلم لیگ (ن) کے حلقے ڈاکٹر صاحب اور ان کی جماعت کی تعریفیں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے دیگر رہنماؤں سے بھی زیادہ کرتے تھے۔ بلکہ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ کچھ لوگ یہ سمجھنے لگے تھے کہ شاید ڈاکٹر صاحب اور میر حاصل بزنجو کی قیادت میں نیشنل پارٹی کو مسلم لیگ (ن) میں ضم نہ کیا جائے۔
یہی خوش فہمی، بلکہ غلط فہمی، ڈاکٹر صاحب اور حاصل خان بزنجو کو اپنی گرفت میں لے چکی۔ انہوں نے اپنی جماعت کی بلوچستان میں تنظیم کاری کی بجائے پنجاب میں زیادہ دلچسپی لینا شروع کر دی اور خود کو سیاست دان سے زیادہ “دانشور” سمجھنے لگے۔ ہر وقت ہاتھ میں کتابیں یا ڈان اخبار تھامے نظر آنے لگے۔ انہوں نے سندھ، پنجاب اور اسٹیبلشمنٹ کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ نیشنل پارٹی بلوچستان کی قوم پرست سیاست نہیں کرتی بلکہ پاکستان کی جمہوری سیاست کرتی ہے۔ انہوں نے بلوچستان کی جاری مزاحمتی تحریک اور سیاست سے خود کو اور اپنی جماعت کو قطعاً الگ تھلگ کر لیا، بلکہ پنجابی اور سندھی رہنماؤں سے بھی زیادہ پاکستان کے وجود پر ایمان لانے کا اظہار کیا۔
انہوں نے بلوچستان کی مزاحمتی تحریک اور سیاست کی کھل کر مخالفت کرنا شروع کی اور ریاستی و جاسوسی اداروں کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کیا۔ مختلف علاقوں میں بلوچ مزاحمت کاروں کی گرفتاریوں میں ان کے جماعت کا کردار رہا۔ جب بھی بلوچ مزاحمت کار اپنے دفاع میں کسی غیر بلوچ کو نشانہ بناتے، ڈاکٹر صاحب اور ان کی جماعت مذمت کرنے میں سب سے آگے ہوتی۔ لیکن جب ریاستی ادارے کسی بلوچ کو ہدف بناتے تو ان کی زبانیں مذمت کرنے سے گنگ ہو جاتی تھیں۔ وہ ریاست کو مشورے دیتے تھے کہ یہ صرف چند بلوچ نوجوان ہیں جنہیں ریاست آسانی سے قابو کر سکتی ہے اور جلد ختم کر سکتی ہے۔
ڈاکٹر صاحب اور ان کی جماعت کے انہی مشوروں کی بنیاد پر ریاست نے بلوچستان میں فوجی آپریشنز تیز کر دیے۔ ہزاروں کی تعداد میں بلوچ نوجوانوں کو جبراً گمشدہ (لاپتہ) کیا گیا اور ان کی مسخ شدہ لاشیں مختلف مقامات پر پھینکی گئیں۔ مگر حیرت انگیز طور پر، یہ مظالم مزاحمتی تحریک کو ختم کرنے کے بجائے اسے مزید طاقتور بنا گئے۔ تحریک آج بھی جاری ہے اور ریاست اس کی مزاحمتی اور چھاپہ مار کارروائیوں سے شدید پریشان ہے۔
آج بلوچ مزاحمتی سیاست ایک ناقابلِ تردید حقیقت بن چکی ہے، جسے بلوچ عوام کی نوے فیصد (90%) سے زائد حمایت حاصل ہے۔















