لندن( ہمگام نیوز) بلوچ قوم دوست رہنما و فری بلوچستان موومنٹ کے صدر حیربیار مری نے اپنے ایک تازہ بیان میں کہا ہے کہ چند نام نہاد سردار و نواب اور لینڈ مافیا کے لوگ قابض ریاست کے ایما پر نیوکاہان کی زمینوں پر قبضہ کرنے اور انہیں فروخت کرنے کی سازش کررہے ہیں، انہوں نے کہا کہ نیوکاہان کے زمینوں پر قبضہ کرنے اور فروخت کرنے کے بجائے ان نواب و سرداروں کو پنجابی قبضہ گیریت کے خلاف آواز اٹھانا چاہئے تھا، دشمن پاکستانی قبضہ گیر سے بلوچستان کا قبضہ چھڑانے کے لئے کام کرنے کے بجائے یہ نام نہاد اور کاسہ لیس لینڈ مافیا اپنے ہی غریب بلوچوں کی زمینوں پر قبضہ کرکے اور ان زمینوں کو اپنی ذاتی مفادات کے حصول اور تکمیل کے لئے فروخت کر رہے ہیں۔
نیوکاہان جہاں نواب خیر بخش مری سمیت
سیکنڑوں شہدائے وطن دفن ہیں وہاں کی زمینوں کو فروخت کرنا اپنے ضمیر اور بلوچیت کی بنیادی اساس کو فروخت کرنے کے مترادف ہے۔
بلوچ رہنما نے مزید کہا بلوچستان میں گوادر سے لے کر وڈھ اور وڈھ سے لے کر نیوکاہان تک نام نہاد قوم پرستی کے دعویداروں نے کہیں پہاڑ اور قلعے بیچے تو کہیں گوادر کی زمینیں قبضہ کر کے غیر بلوچوں کو بیچے۔ بلوچستان میں چھوٹے لیول پر قبضہ گیر مافیا اور بڑے لیول پر نام نہاد قوم پرست پنجابی قبضہ گیر سے مل کر بلوچستان کے وسائل اور ساحل کو چین اور دوسرے غیر ملکی کمپنیوں کو بیچ رہے ہیں۔
ایسا لگتا ہے جیسے وہ پنجابی دلالی اور لالچ میں اس حد تک اندھے ہوچکے ہیں کہ اب ساحل وسائل اور زمینیں بیچنے کے بعد بلوچ قوم کو ہی چینی اور پنجابی کے ہاتھوں گروی رکھنے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔ ان جیسے بے حس اور قوم دشمنوں کو اس امر سے کوئی واسطہ نہیں کہ اسی سرزمین کے چپے چپے پر بلوچ فرزندانِ وطن کی لہو سرزمین کی واگزاری کے لئیے بہہ چکی ہے اور انکی لاشیں اسی سرزمین کے سینے میں مدفون ہیں، ایسے بے غرض اور مفاد پرست عناصر اپنے ذاتی مفادات و مراعات کے سوا اور کچھ نہیں دیکھتے، اپنے قوم کے زمینوں پر قبضہ اور انہیں فروخت کرنا قومی ننگ و ناموس کو فروخت کرنے کے مترادف ہے، کیونکہ نیو کاہان میں بلوچ قومی تحریک آجوئی کے لئے سربکف کئی نامور و گمنام شہدا کی مدفن ہیں اور دشمن لینڈ مافیا اور کیو ڈی اے کی توسط سے اب اس جگہ کی خرید و فروخت کرتے ہوئے یہاں سے بلوچوں کو بیدخل کرنے کے ساتھ ساتھ انکی یادگاروں کو مٹانے کی درپے ہیں.
صرف یہ نہیں بلکہ نیوکاہان میں مریوں کے اصلی نمائندوں کو بھی اس حد تک دبایا گیا کہ اگر وہ اس مافیا کے خلاف آواز اٹھائیں تو انھیں غائب یا شہید کرواتے ہیں اور ان کی جگہ پاکستانی قبضہ گیر فوج نے غنڈے اور اپنے آلہ کار پالے ہوئے ہیں اور یہ پریس کانفرنسوں میں پاکستانی فوج کی تعریفیں اور نواز شریف کے گن گاتے ہیں۔
حیربیار مری نے کہا کہ نواب خیر بخش مری نے اکیلے پوری بلوچ قوم میں پاکستانی قبضہ گیریت کے خلاف جو شعور پیدا کیا اس حقیقت سے ایک دنیا واقف ہے لیکن اب مری بلوچوں کے ڈھائی نواب بن چکے ہیں مگر اس کے باوجود وہ پاکستانی قبضہ گیریت کے خلاف آواز اٹھانا تو درکنار انہی کے ایما پر نواب مری اور سینکڑوں شہدا کی قبر تک کی پرواہ کئے بغیر نیوکاہان سے مری بلوچوں کو بے دخل کرنے پر کمر بستہ ہوچکے ہیں جو کہ نہ صرف نواب خیر بخش مری کی قومی نظریات کے برخلاف ہے بلکہ یہ عمل بلوچیت اور قومی روایات کی بھی یکسر نفی کرتا ہے۔














