ایک ہفتہ پورا ہوگیا تھا کہ نہ پروفیسر سے ملاقات ہوئی تھی ،اور نہ ہی فون پر ان سے کسی موضوع پر بات کی تھی،یہی سوچ کر میں ان سے ملنے کے لئے روانہ ہوگیا کہ آج اُسکی آنکھوں سے گوک پروش کی جنگ کا منظر نمایاں ہوگا کہ محراب گچکی نے کیسے رُخ بدل کے بلوچوں کو شرمسار کیا تھا،یا تو اسکے لہجے میں وہ شعلہ بیانی ہوگی کہ جب نواب خاران کا تذکرہ کرتے وقت ہوا تھا کہ اس نے دشمن کے ساتھ ڈیل کر کے اپنے باہوٹ کو مروادیا تھا،نہیں تو اسکے چہرے پہ مایوسی کے آثار ضرور دیکھنے کو ملیں گے۔مگر ایسا کچھ نہیں تھا جیسا کہ وہ پہلے سے جانتا تھا کہ ایسا ہی ہوگا اس لئے وہ بہت cool اور پُرسکون تھا،بلکہ جس موضوع پر میں کچھ سننے اور بولنے آیا تھا وہ اس پر بات کرنے کو تیار ہی نہیں تھا۔میرے بار بار اسرار پر بھی ادھر اُدھر ٹال کے بات کو گھما دیتاتھا جیسے ماما قدیر سے وہ یہی توقع ہی رکھتے تھے……… میرے وہاں پہنچنے کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر لقمان بھی ایک خاتون کے ساتھ اپنے سیلف میڈ الٹو کار پہ پہنچ گیاکہ اسکے شیشے دو سالوں سے اسی طرح درمیان میں اٹکے تھے نہ اوپر کو اٹھتے تھے اور نہ کسی پہلوان کے زور بازو سے وہ نیچے آنے کو تیار تھے۔ اسی لئے ڈاکٹر نے آدھا کھلے شیشوں سے مجھے رکنے کا اشارہ کیا اور ہم ایک ساتھ اندر چلے گئے،بنا سائلنسر الٹو کار نے ڈاکٹر کی آمد کی نوید تو اندر بیٹھے ہوئے دوستوں کو پہنچایا تھا مگر میرے آنے کا گمان وہ نہیں رکھتے تھے کیونکہ میں یہاں ریگولر نہیں آتا تھا جب تک کوئی ایشو مجھے بے چین کرکے کان سے پکڑ کر نہیں لاتا، میں نہیں آتا تھا اور پروفیسر میری عادتوں سے اچھی طرح واقف تھا کہ میں کیفیتوں کی قید میں رہتا ہوں میرا اچانک سننے کا موڈ ہوتا تھا یا کچھ بولنے کا موڈہوتا تومیں اُسی کیفیت کو لیکر پروفیسر کے پاس آجاتا تھا کہ جسکا کوئی موسم یا وقت مقرر نہیں اور آج بھی مجھے ایک کیفیت یہاں کھینچ لائی تھی ۔اسی لئے مجھے دیکھ کے پروفیسر نے کچن سے جاکر ایک اور خالی کپ لے آیااو ر قہوہ کا تھرماس میرے سامنے رکھتے ہوئے حال احوال پوچھا،ڈاکٹر نے اس خاتون کو متعارف کروایاجس سے ہم سب پہلی بار مل رہے تھے وہ کراچی کی ایک بلوچ جرنلسٹ تھی جسے پروفیسر کی باذوق گفتگو یہاں کھینچ لائی تھی۔ جون کی گرمی ،قہوہ چائے،پروفیسر کی نرم گرم گفتگو،اور گولڈ لیف سگریٹ کی دُھوئیں سے کمرے کا ٹمپریچر بہت گرم تھا،مگر اندر سے پروفیسر بہت cool تھے جتنی بار میں نے کوشش کی اس نے اُتنی بار میرے موضوع کا کان پکڑ کے کھڑکی کے کھلے پردوں سے باہر پھینک دیا،جیسے وہ ماما قدیر کے ذکر کو اس دیوان کے قابل نہیں سمجھتے تھے یا اس پر کچھ کہنے کو اپنی توہین سمجھتے تھے۔ مگر میں صرف اسی موضوع پر کچھ سننے کے لئے آیا تھا، اس لئے میرے اندر سے باربار اسی موضوع کی چیخیں نکلتی گئیں ۔بلآخر بلوچ مہمان خاتون عالیہ ھیبتان کو مجھ پر رحم آیا ، اس نے ماما قدیر کے بیان کے متعلق ایک سوال پروفیسر کی پیشانی پہ داغ دیا۔مہمان خاتون کا لحاظ رکھتے ہوئے اُس نے کھڑکی کے کھلے پردے کو سرکایا، کیوں کہ دھوپ بلکل اُسکی پشت پر پڑ رہی تھی اور وہ اسے وٹامن ڈی سمجھ کے برداشت کر رہا تھا ،بڑے دھیمے لہجے سے اس نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ ایک جنگ کی صورت حال میں ہیں اور دشمن ایک ایسی ریاست ہے جو غیر اخلاقی،نفسیاتی،جذباتی،مذہبی،معاشی،لسانی،سماجی ،ہر طرح کے حربے کو ہتھیار بنا کے استعمال کررہا ہے کیونکہ وہ اپنی آنکھوں سے اپنی شکست کو دیکھ رہا ہے۔ بلوچ تحریک کو بدنام کرنے کے لئے اسے جو بھی ہتھیار ملے ،وہ اسے استعمال کرنے سے پس و پیش نہیں کرتا اور ماما قدیر جیسے لوگ جو اندر سے مکمل خالی ہیں، کہاں اس جنگ میں کھڑے ہوسکتے ہیں کہ انکا معیار اورصلاحیت بہت کم درجے کی ہے ، اب مجھے ماما قدیر کو بیان کرنے کے لئے اُس کے اپنے لیول پہ بات کرنے کی ضرورت پڑے گی، جو میرے لئے تکلیف دہ ہے۔گولڈ لیف کے پاکٹ سے اس نے آخری سگریٹ نکالتے ہوئے کہا کہ میں ماما کے حوالے سے آپ لوگوں کو ایک بازاری مثال دیتا ہوں جس کے لئے میں دیوان سے پیشگی معذرت خواہ ہوں،سگریٹ جلا کر ڈاکٹر لقمان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ ایک محلے میں اکرم نامی ایک لڑکا رہتا تھا، اسکا کوئی کام نہیں تھا بس وقت گزاری کے لئے وہ گلیوں میں انڈے لڑاتا تھا۔ یہ اسکی قسمت تھی کہ اسکے پاس ایک دیسی مرغی کا انڈہ آیا جو مضبوط تھا اس نے جیتنا شروع کیاچار پانچ دنوں تک وہ دوسرے لڑکوں سے مسلسل جیتتا رہا ،جس کی وجہ سے وہ گلیوں میں مشہور ہوگیا ،زندگی میں پہلی بار اس نے مشہوری کا ذائقہ چکھا تھا ۔ہر کسی کی زبان پر تھاکہ اکرم نے سب کو ہرایاہے۔ حالانکہ اس میں اسکا کوئیcontribution نہیں تھا محض اسکے ہاتھ میں دیسی مرغی کامضبوط انڈہ آیا تھا،اور وہ دوسرے لڑکوں کی زبان پر زیر بحث ہوا کہ اکرم جیتا ہے۔ اسے اس شُہرت کاذائقہ بہت اچھا لگا، اور وہ مزید شہرت پانے کی لالچ میں پڑ گیا۔ اپنے ارد گرد کے لوگوں سے اس نے مشورہ لینا شروع کیا کہ میں کیا کروں کہ پورے علاقے میں مشور ہوجاؤں اور اس میں ایسی کوئی کرامات نہیں تھی کہ کچھ کر سکے اس لئے علی تالپور جیسے کسی شخص نے اسے مشورہ دیا کہ آج جمعہ ہے تم جاکر مسجد میں پیشاب (گندگی) کر لو بہت مشہور ہوجاؤگے ۔ عقل اسکے پاس تھی ہی نہیں اس نے سیدھا جاکر مسجد میں پیش امام کی جاہ نمازپر دل کے مطابق پیشاب(گندگی) کردیااور قاغذ پر اپنا نام قبیلے کے ساتھ لکھ کراسی گندگی پر رکھا جیسے اس نے کوئی اعزاز لیا ہو۔ سب کو پتہ چلا اور وہ آج تک مشہور ہے۔سب کی ہنسی چھوٹ گئی اور پروفیسر نے ایک بار پھر سے دیوان سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ اس جیسے انسان کی اس طرح کی باتوں کے لیے یہی مثال ہوسکتی ہے۔اس سے پہلے کہ وہ کچھ بول دیتا ماسٹر غفار نے سوال کیا کہ نواب مری کا واقعی میں کوئی پیغام ہے یا یہ بھی من گھڑت جھوٹ ہے؟؟ پروفیسر نے بڑی شائستگی سے ہم سب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ نواب مری کے متعلق کچھ کہنے سے پہلے اُن کے متعلق جاننا ضروری ہے،جہاں تک میں نواب مری کو جانتا ہوں اس میں کوئی خوف کوئی ریاء کوئی ڈپلومیسی نہیں تھی ،اور وہ اس طرح کے وصیت ناموں کا حامی نہیں تھا ،اور میں ا نہیں اس حد تک بھی جانتا ہوں کہ فرض کر لیں اگر وہ اپنے نام کی کوئی وصیت چھوڑ بھی جاتے تو وہ اُسے لوگوں تک پہنچانے کے لئے اپنے کسی برابر کے قد کاٹھ کی شخصیت کے حوالے کرتے ۔ماما قدیر کو ذاتی، قبائلی، سماجی، سیاسی، معاشی، نفسیاتی ، علمی حیثیت سے نواب مری کے سنگ پارسنگ میں تولنا محض احمقیت کے سوا کچھ نہیں۔اس لئے آج ہر بلوچ شعوری لاشعوری طور پر یہ ماننے سے انکاری ہے کہ اس میں کوئی صداقت ہے،نواب مری تو اس دنیا میں نہیں رہے، مگر اُنکی فکر،اُنکا فلسفہ تو دنیا میں موجود ہے انہوں نے ایک فکر، ایک فلسفہ اپنی قوم کے لئے چھوڑا ہے، جو قدیر کی شعوری بلندیوں سے کوسوں دور ہے۔اور قدیر جیسے لوگ سو جنم لیکر بھی وہاں تک پہنچنے کی قوت نہیں رکھتے ۔انکی فکر اور فلسفہ اس بیان کو جھوٹا ثابت کرنے کے لئے کافی ہے، تو میں کیوں کچھ بولوں؟اگر ماما قدیر کو جو کوئی سچ مان لیتا ہے اسکا مطلب ہے کہ نواب مری کی وہ فکر وہ فلسفہ جھوٹا ہوگا جو اس نے اپنی ساری عمر میں قوم کو دیاہے،شاید قدیر بلوچ اور اسکو مشورہ دینے والے ساتھیوں کو یہ علم نہیں تھا کہ بلوچ قوم نے نواب مری کے فلسفوں کو نہ صرف پڑھا ہے ،بلکہ جانچا ہے، پرکھا ہے۔ اس لئے آج وہ انکے فکرا ور فلسفے پر جان دینے کو تیارہیں۔اور ایک بات یہ کہ زندہ لوگوں کے نام جھوٹا بیان دینے کا یہی نتیجہ ہوتا ہے کہ دوسرے دن وہ سچ بول دیتے ہیں۔نواب مری کا فکر فلسفہ بول رہا ہے اور باقی لوگوں کی زبانیں اسکے لئے شرمندگی کی باعث بن رہی ہیں ،پروفیسر نے اشٹرے میں سگریٹ بجھاتے ہوئے کہا وہ کم بخت پہلے خود کہتا ہے کہ حفیظ حسن آبادی جھوٹا ہے ،جنرل قادر کا ساتھی ہے ،پھر کہتا ہے کہ اس نے مجھے یہ پیغام بھی دیا ہے،اب ہم کیا مان لیں کہ حفیظ جھوٹا ہے یا تمھاری کہی ہوئی بات میں کوئی صداقت نہیں،اہم بات یہ ہے کہ نواب مری کی وصیت تمھارے پاس ہے اور جب تم امریکہ میں آتے ہو پھر بھی حیر بیار سے مدد کی اپیل کرتے ہو اور وہ جب تمھیں مدد نہیں کرتا پھر اس پر یہ الزامات لگادیتے ہو اگر مدد کر لیتا تو شاید تم یہ وصیت نامہ بھی چھپا لیتے اور اسے ہیرو مان لیتے ۔یہ ساری احمقانہ باتیں ہیں۔بس قدیر بلوچ کو یہ شہرت راس نہیں آئی، اور سرکاری لوگوں کے ہاتھوں استعمال ہورہا ہے کیونکہ ابھی ریاست کو پختہ یقین ہوگیاہے کہ جب تک حیر بیار اس مشن کے ساتھ آزادی کی جنگ لڑ رہا ہے، میرا کچھ نہیں ہونے والا۔ اس لئے ماما قدیر اور کم فہم علی تالپور جیسے لوگ جو اس طرح کی سازشوں کا عنصر ہیں، بلا عوض بلوچ تحریک کو ختم کرنے کے لئے مفت کا ایندھن بن رہے ہیں ۔جنکا کوئی اثر نہیں ہوتا،محض خود جلتے ہیں اور کالے ہو جاتے ہیں۔ اس کے سوا کچھ بھی نہیں ۔پھر دوسری طرف بلوچ عسکری قوتوں کے اتحاد کی باز گشت دشمن کے کانوں میں پڑ رہی ہے، اسکی نیندیں تو حرام ہونی ہی تھیں۔ اب تو ماما قدیر نے واضح کر دیا کہ وہ سرکار اور سرکاری گماشتوں کے لگام میں ہے۔ کہ جن مسنگ پرسنز کے نام سے تم آواز اٹھا کر خود کو بلوچ قوم کا ہمدرد ثابت کرنے کی تگ و دو میں تھے ،ابھی اس شخص کے گھر میں جاکر فاتحہ پڑھنا کہ جسکے ہاتھوں سیکنڑوں بلوچ اغوء ہوئے، لاتعداد نوجوانوں کا لہو بہایا اس نے، پاکستانی خفیہ اداروں کا خاص بندہ گل خان مری جسے بی ایل اے نے اسی جرم کی پاداش میں قتل کیا کہ ہزاروں بلوچوں کے قتل میں اسکا مخصوس ہاتھ تھا ۔آج اُسی کے گھر میں جاکر فاتحہ پڑھنا اور ہمدری دکھانا تمھارے اندر کے کالے قدیر کی عکاسی کرتا ہے۔ جسے بلوچ قوم نے اپنا ماما مانا تھا ، ہزاروں شہیدوں اور مسنگ پرسنز کے نام کے ساتھ کھلی غداری ہے کہ جن مسنگ پرسنز کے نام سے تمھیں عزت ملی ،شہرت ملی ،آج تم نے جاکر اُنہی لوگوں سے ہاتھ ملایا جو انکے اغواء اور شہید کرنے میں اپنا ہاتھ استعمال کرتے تھے۔ کیا ان سے ہاتھ ملاتے وقت انکی ہاتھو ں سے ان شہیدوں کے لہو کی مہک نہیں آئی تمھیں ؟کتنے بے ضمیر ہو ماما کہ تم نے قوم کے دیئے ہوئے لقب ،ماما ،کا بھی پاس نہیں رکھا۔ یہ کہتے ہوئے پروفیسر کو افسوس بھی ہورہا تھا اور غصہ بھی آرہاتھا کہ اس نے اپنے لہجے کی ٹون بدل کے کہا کہ جیسا کہ میں نے پہلے کہاکہ بلوچ اب حالت جنگ میں ہیں اور بی ایل اے قومی فوج کی حیثیت سے یہ جنگ لڑ رہی ہے ،اس لئے سرکاراور اُسکے گماشتے اپنی توپوں کا رُخ اُسی سمت موڑ رہے ہیں ۔مگر یہ انکی اپنی شکست کا منہ بولتا ثبوت ہے اس لئے نہ کوئی تشویش کی ضرورت ہے نہ کسی بحث کی ۔اس جنگ میں بہت سارے ہتھیار استعمال ہوتے ہیں مگر یہ ایک قومی جنگ ہے کسی ایک شخص کی نہیں، اب اسے روکنا یا کمزور کرنا محض خام خیالی ہے۔اپنی واسکٹ سے دوسرا گولڈ لیف سگریٹ کا ڈبہ نکالتے ہوئے پروفیسر نے موضوع کو ایسے پلٹا جیسے کسی گندگی کے اوپر کوئی مٹی ڈال کے منہ موڑ لے…….