بلوچستان میں آزادی کی جدوجہد ایک طویل، خونی اور قربانیوں سے بھری تاریخ ہے جس میں ہزاروں بلوچ نوجوانوں نے آزادی کے خواب کے لیے اپنی جانیں نچھاور کیں۔ مگر میرے نزدیک سب سے بنیادی اور تلخ سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے: اتنی بڑی قربانیوں کے باوجود بلوچ قوم فیصلہ کن کامیابی سے محروم کیوں ہے؟
گزشتہ ادوار میں متعدد مضامین، تجزیے اور آراء سامنے آتی رہی ہیں جن میں بار بار ایک ہی نکتہ دہرایا گیا: تحریک کی سب سے بڑی کمزوری دشمن نہیں، بلکہ اندرونی انتشار ہے۔ آزادی کے نام پر متعدد تنظیمیں، الگ الگ قیادتیں اور مختلف حکمتِ عملیاں موجود ہیں۔ بشیر زیب، حیربیار مری اور ڈاکٹر اللہ نزر جیسے رہنما اپنی اپنی جگہ متحرک اور اثر رکھتے ہیں، مگر قومی سطح پر ایک متحد قیادت کا فقدان آج بھی برقرار ہے۔
میں یہ سوال پوری ذمہ داری سے اٹھاتی ہوں کہ اگر مقصد ایک ہے تو قیادت بکھری ہوئی کیوں ہے؟ اگر دشمن مشترک ہے تو محاذ الگ الگ کیوں ہیں؟ پچھلے برسوں میں شائع ہونے والے کئی آرٹیکلز اس حقیقت کی نشاندہی کر چکے ہیں کہ تنظیمی دھڑے بندی نے تحریک کو مضبوط کرنے کے بجائے کمزور کیا ہے۔ ذاتی اختلافات، نظریاتی سختی اور قیادت کی انا نے اجتماعی قومی مفاد کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔
نوجوان اس تحریک کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں، مگر بدقسمتی سے وہی سب سے زیادہ قیمت ادا کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان نوجوانوں کو صرف مزاحمت کے لیے تیار کیا جا رہا ہے یا انہیں ایک واضح سیاسی روڈ میپ بھی دیا گیا ہے؟ کیا قربانیوں کو کسی جامع قومی حکمتِ عملی، سفارتی محاذ اور سیاسی بیانیے سے جوڑا گیا ہے، یا پھر یہ سب ایک نہ ختم ہونے والے دائرے میں گھوم رہا ہے؟
دنیا کی آزادی کی تاریخ واضح ہے: کوئی بھی تحریک صرف عسکری عمل سے کامیاب نہیں ہوئی۔ اتحاد، مشترکہ قیادت، متفقہ بیانیہ اور مضبوط سیاسی و سفارتی حکمتِ عملی ہر کامیاب جدوجہد کی بنیاد رہی ہے۔ بلوچستان کی آزادی تحریک میں یہ عناصر آج بھی بکھرے ہوئے ہیں۔ یہ خلا دشمن کی طاقت سے زیادہ خطرناک ہے، کیونکہ یہ اندر سے تحریک کو کھوکھلا کرتا ہے۔
میں واضح کرتی ہوں کہ یہ تحریر کسی ایک رہنما یا تنظیم کے خلاف نہیں، بلکہ پوری آزادی پسند قیادت کے نام ایک سنجیدہ سوال ہے۔ تنقید دشمنی نہیں، احتساب ہے۔ بلوچ قوم کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ قیادت سے پوچھے کہ اتحاد کب ہوگا؟ مشترکہ قومی پلیٹ فارم کب بنے گا؟ اور قربانیوں کو نتیجہ خیز بنانے کی عملی حکمتِ عملی کیا ہے؟
اگر آج بھی ان سوالات کو نظرانداز کیا گیا تو تاریخ یہ لکھے گی کہ بلوچ نوجوان قربان ہوتے رہے، مگر قیادت فیصلہ نہ کر سکی۔ اور یہ ناکامی کسی بیرونی طاقت کی نہیں، ہماری اپنی ہوگی۔















