ہمگام کالم :     پارٹی حصار میں جھکڑے اور ذاتی مفادات کی منجدھار میں پھنسے کچھ لوگ کردوں کی حمایت بھی ڈر, ڈر کر کرتے ہیں کہیں ایران اپنا دست شفقت نہ اٹھالے۔ کردوں کی سرزمین کو بلوچستان کی طرح ایران نے قبضہ کیا ہوا ہے لہذا ایران نہیں چاہتا کہ کوئی بلوچ آزاد کردستان کی حمایت کرے۔ ایران جو بلوچوں کی نہ صرف بلوچ سرزمین پر قابض ہے بلکہ بلوچ عوام کے خلاف دہشت گردانہ اقدامات کو معمول کا حصہ بناکر پاکستانی فوج سے قریبی تعلق اور بلوچ عوام کے خلاف جنگی جرائم میں ملوث ہے۔ فری بلوچستان موومنٹ کے بانی بلوچ رہنما حیربیار مری پارٹی سیاست سے بالاتر ہوکر ایران کے ہاتھوں بڑے پیمانے پر بلوچ قوم کی نسل کشی کے خلاف بلوچ قوم کی آواز بن چکی ہے، بلوچ قوم صدیوں سے ایک ایسے رہبر کی تلاش میں تھی جو گولڈ سمتھ اور ڈیورنڈ لائن کے تینوں جانب بے یار و مدد گار بلوچ عوام کی آواز بن سکے۔ بلوچ رہنما نے اپنی فقید المثال قیادت اور قومی سوچ کے تحت بلوچ قوم کو قومی ریاست کی تشکیل کے لئے یکجا کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے۔ افغانستان چونکہ بلوچستان کا ہمیشہ ہمدرد اور اخلاقی و سیاسی حمایت کا اعادہ کرتا آ رہا ہے ان کے بارے میں بلوچ رہنما نے اپنے اخباری اور ذرائع ابلاغ کو جاری پالیسی بیانات میں واضح کیا کہ وہ افغانستان کے ساتھ مفاہمانہ، غیر مسلح اور گفت و شنید کے ذریعے دیرینہ زیر التوا معاہدات و معاملات کو قومی مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے حل کرنے کا خواہاں ہے آپ کے افغانستان کے ساتھ دوستانہ اور تاریخی رشتوں کی روشنی میں پالیسی کو افغانستان کے سنجیدہ حلقوں نے ہمیشہ سے سراہاہے ۔ جبکہ ایران بابت بلوچ رہنما نے واشگاف الفاظ میں عالمی دنیا کو بتا دیا ہے کہ ایرانی پاسداران اور دیگر قابض فورسز نے بلوچستان کو ان کے عوام کے لئے قید خانہ اور مقتل گاہ بنا کے رکھ دیا ہے لہذا ایران کو بلوچ سرزمین چھوڑ کر جانا ہوگا۔ ایرانی فورسز کے ہاتھوں جاری بلوچ نسل کشی پر آپ نے ہر فورم پر اپنے بلوچ بھائیوں کا ساتھ دیاہے، ایک حقیقی قومی لیڈر سے ان کے عوام ایسی ہی توقع رکھتے ہے جوآپ نے بخوبی نبھایا ہے اور آئندہ بھی ایران کی جانب سے بلوچ، کرد، احواز اور آزربائیجائی اقوام کے خلاف ایرانی ریاستی دہشت گردی و جارحیت کے خلاف حیربیار مری کو ایک مضبوط اور موثر طاقت کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ بلوچ رہنما کے دوٹوک اور جرات مندانہ قومی پالیسیوں کے بر عکس چند ایک آزادی پسند تنظیمیں ایران بابت نہ صرف چھپ سادھ لئے ہوئے ہیں بلکہ ایرانی گجر کے ہاتھوں شہید ہونے والے اپنے مسلح ساتھیوں کی شہادت پر احتجاج کرنے کی بھی سکت نہیں رکتھے۔ بلوچ تحریکی معاملات پر عبور حاصل کرنے والے ماہرین کا خیال ہے کہ ایران کے لئے نرم گوشہ رکھنے والوں کا تعلق چاہے کسی بھی گروہ اور پارٹی سے ہو انہیں ایران کے خیمے میں شاید عارضی پناہ ملے لیکن ایسے لوگ اور گروہ بلوچ عوام کے اندر اپنا وقار اور رتبہ کھوچکے ہیں۔ خطے کی تیزی سے کروٹ بدلتے حالات کے تیور بتارہے ہیں کہ ایرانی زیر تسلط بلوچستان اور پاکستان کے زیر قبضہ بلوچستان کے عوام قلیل مدت کے اندر اندر اپنی قومی شناخت کو منوانے کے لئے مل کر قابضین کے خلاف صف بندی کرنے کی ضرورت پڑیگی۔ ایسی قومی طاقت کو یکجا کرنے کے لئے بلوچ رہنما واحد قابل قبول اور غیر متنازعہ لیڈر کے طور پر ابھر کر سامنے آگئے ہیں۔ آپ نہ صرف ایران اور پاکستان کی گٹھ جوڑ سے بلوچ عوام کو آگاہ کرتے رہےہیں بلکہ اپنی بیش بہا اور قیمتی آرا اور دلائل کے ذریعے عالمی برادری کو بھی یہ باور کراچکے ہیں کہ بلوچ بحثیت قوم اپنی سرزمین تاریخی حیثیت سے قطعاً سمجھوتے کرنے کو تیار نہیں۔ آپ نے ذاتی مفادات کو ٹھوکر مار کر بلوچ قومی بیرک کو بلند رکھا اور آج ہر بلوچ آپ کی رہنمائی کا متمنی ہے وہ دن دور نہیں جب بلوچ سرحد کے دونوں جانب آپ کی قیادت میں بلوچستان کی آزادی کی مشعل کو روشن کرنے میں ضرور سرخ روح ہونگے۔