قومی جہد میں شامل ہونا اتنا آسان ہے جیسا کہ مٹی سے مٹی پر مٹی لکھنا لیکن قومی جہد میں ثابت قدمی سے چل کر قومی جہد کے تقاضوں کے مطابق حقیقی جہدکار بنانا اتنا مشکل ہے کہ پانی سے پانی پر پانی لکھنا اور قومی جہد میں ایک مرحلہ آتا کہ دو جہدکار بڑھتے پچاس ہوجاتے ہیں اور یہ جہدکا دورانیہ بھی مٹی سے مٹی پر مٹی لکھنے والے آسان دورانیہ کا ہوتا ہے جہاں لوگ بڑھ جڑھ کر جدوجہد میں شامل ہوتے ہیں اور یہ شمولیت ،نظریہ فکر،اور سوچ کی پختگی کے بجائے شوشا،نمود نمائش،سنگتی،تعلق داری،اور زمانے کی فشن کو مدنظر رکھتے ہوئے ہوتا ہے پھر وائی قومی جہد ایک اور کھٹن اور مشکل دورانیہ میں داخل ہوتا اور یہ دشوار ہونے کی حالت پانی سے پانی پر پانی لکھنے کی کفیت کی طرح ہوتا ہے جہاں وہ 50جہدکار کم ہوکر 2بن جاتے ہیں لیکن یہ دو اپنے نظریہ ،فکر،سوچ اور کمنٹمنٹ ، قومی خلوص اور مشن کی کامیابی کے جزبہ سے سرشار 50سے بہت زیادہ پرزورانداز اور بھرپور طاقت سے اپنی قومی بیرک کو تھامے ہوئے کام کرتے ہیں اور یہ ایک اور ایک دو نہیں بلکہ ایک اور ایک گیارہ کی طرح کا مراحلہ ہوتا ہے اور یہ جہدکار حالات کی بھٹی سے نکل کر کھندھن بن جاتے ہیں اور یہ خوش نصیب اپنی قوم کو اسکی منزل تک لے جاسکتے ہیں ۔بلوچ قومی تحریک میں بھی اس طرح ہوا کہ لوگ اپنی کمنٹمنٹ ،خلوص،سوچ،فکر،اور مشن کی کامیابی کے ارادہ کے بجائے فیشن،خاندانی اور سنگتی کے بندھن سے مجبور ی ،نام ونمود یا روب ودبدبہ قائم رکھنے کی خاطر یہ لوگ قومی جہد میں جوق درجوق شامل ہوتے گئے کیونکہ اس وقت حالات بھی نارمل تھے اور یہ دوران مٹی سے مٹی پر مٹی لکھنے کے طرح کے حالات تھے اور فَیشَن پرست،اورفیشنی سرمچاروں نے خوب نمود ونمائش سے شوشا کیا اور جدوجہد کو اپنے ذاتی مفادات کی تکمیل کی خاطر استعمال کیا اور قومی حمایت کو پلاننگ کے تحت قومی جہد سے دور کیا لیکن جوں ہی حالات نے کروٹ لی اور پاکستانی فوج نے اپنی ڈاکٹرائن تبدیل کیا اور بلوچستان میں لاٹھی اور گاجر کی حکمت عملی اپنائی تو فَیشَن پرست زرپرست ،ڈرپوک،بزدل اور فقدان ہمت سارے جہدکار پنجابی کے پاوں پکڑ کرانکے قدم بوسٗہ دینے لگے وہ جہدکار جو دو سے پچاس بن چکے تھے پھر سے پچاس سے دو بن گئے اور قابض سمجھنے لگا کہ قومی جہد کو اس سے کمزور کیا ہوا ہے لیکن اگر حقیقت کے چشمہ سے دیکھا جائے توتمام قومی جہد میں گاجر ،مولی اور لاٹھی کی قابض کی ڈاکٹرائن نے اگر کسی حد تک نقصان دیا تو پھر قومی جہدکاروں نے بھی اپنا ڈاکڑائن جب تبدیل کیا تو وہ مزید شدت کے ساتھ ایک نئی شکل میں ابھرے ہیں اور صرف مسقط کی گاجر اور مولی والی حکمت عملی نے ظفاری تحریک کو کیسی حد تک ختم کیا لیکن زیادہ تر مومنٹ نے پھر اپنے بھی طریقہ تبدیل کرکے جدجہد کو پھر سے آسمان کی بلندیوں تک پنچایا ہے ۔اب بلوچ قومی تحریک بھی آنے والے وقت میں مزید سخت ہوگا کیونکہ پاکستانی فوج نے جو نیا ڈاکٹرائن کراچی اور بلوچستان کے حوالے لیا ہوا ہے یہ دنیا کی نئی تبدیل ہوتی ہوئی صورت حال اور قومی جہدکاروں کی خوف کی وجہ سے پاکستان نے نئی ڈاکٹرائن لیا ہے کراچی میں ایم کیو ایم کی تقسیم اور اس کے اندر سے نئی پارٹی بنانا بلوچستان میں نئی حکمت عملی اور بلوچستان سے انڈیں شہری کی گرفتاری کا ڈرامہ یہ سب پاکستانی فوج کی نئی ڈاکٹرائن ہے جو فوج نے بنائی ہوئی ہے جس میں بلوچ تحریک اور خاص کر گوادر کی تعمیر اور اسکے سامنے بلوچ قومی دفاعی حکمت عملی پاکستانی اور چینی فوج دونوں کے لیے عصبی سردرد بن چکا ہے ۔کیونکہ آنے والے وقتوں میں سمندروں کی بڑی اہمیت ہوگی اور پاکستان کا بھی خطرہ بلوچستان اور کراچی سمندر سے بھی ہے کہ جہاں اگر دینا کے معاملات پاکستانی ریاست سے ایٹم بمب اور دشت گردی کے حوالے خراب ہوئے تو پاکستانی فوج دو جگہ خطرہ محسوس کررہا ہے بلوچستان اور کراچی سے کیونکہ کراچی میں ایم کیو ایم کوئی خطرہ نہیں لے رہا ہے لیکن اگر ایسی حالات بھی تو پاکستانی فوج کو خطرہ ہے کہ وہ کراچی میں ایک طاقت ہے اور کراچی کی پورٹ میں پاکستان کے خلاف کام کرسکتا ہے ایسی خوف کی وجہ سے متحدہ کی طاقت کو کم کرنے کی کوشش ہورہا ہے اور بلوچستان میں بلوچ خود اپنی مدد اپ دشمن کا کئی سالوں سے مقابلہ کررے ہیں اور بلوچ مسلہ اگر دینا کا مسلہ بن گیا تو وہ دن بلوچ قومی آزادی کا دن ہوگا اس لئے بلوچستان میں بلوچ قومی آواز کو دنیا میں بھی موثر ہونے سے روکنے کے لیے اور بلوچستان کے اندر اسکی عوامی حمایت کو کم کرنے کے لیے پاکستان کئی زرئع سے عمل پیرا ہے جس میں فَیشَن پرست سرمچاروں کا سرنڈر وغیرہ شامل ہیں لیکن جو سرمچار پچاس سے دو بن جایں گے وائی لوگ بھی دیکھیں گے کہ پچاس سے بھی زیادہ طاقت و قوت اور اثر رکھنے والے کے طور پر ابھر کر پاکستانی ریاست کے لیے اصل سردرد بن جایں گے اور اس ڈاکٹرائن کو مدنظر رکھتے ہوئے جس طرح حیربیار مری نے جو پہلے بھی باہر کے ممالک اور ملک کے اندر سیاسی ہجوم اور فَیشَن پرست اور دیکھاوُ کے حامل لوگ اکھٹا کرنے کے بجائے کم لوگ اپنے ساتھ رکھے ہیں تو وہ زیادہ تر بلوچ قومی سیاست کے اونچ نیچ،نشیب وفراز سے باخبر ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے پروگرام سے ڈٹے ہوئے جہدکار ہیں انکے ساتھ قومی موقف کے حوالے کمزور لوگ رہ نہیں سکتے ہیں اور وہ خود بہ خود نکلتے جارے ہیں کیونکہ انھیں معلوم تھا کہ سخت حالات کا مقابلہ سخت موقف والے اصولوں پر سختی سے گامزن ہونے والے لوگ ہی کھڑا ہوسکتے ہیں ،کیو نکہ کسی بھی جہد میں دو طرح کے جہدکار ہوتے ہیں ایک کل وقتی جہدکار اور دوسرا نیم وقتی جہدکار ہوتا ہے کل وقتی جہدکار عموماََ کم ہوا کرتے ہیں جس طرح پچاس سے کم ہوکر جو دو بن جاتے ہیں وائی لوگ پھر کل وقتی کمٹٹ ،اصول پرست،اور مشن کی تکمیل کے جنون میں مست مستانے ہوتے ہیں جنکا مقصد انکا مشن ہوتا ہے اور اسیے دو لوگ پچاس سے زیادہ لوگوں سے بڈھ کر ہوتے ہیں بلوچ تحریک میں حیربیار مری کے ساتھ کل وقتی لوگ کم ہیں لیکن جو ہیں سارے کمٹٹ ہیں کیونکہ وہ ہجوم کے پیچے نہیں دوڑ رے ہیں ،انکے ہاں نیم وقتی لوگ بھی ہیں سنے میں ارہا ہے کہ وہ دونوں کو الگ الگ طریقہ سے بھی ڈیل کرتا ہے لیکن باقیوں میں ایسا طریقہ نہیں تھا جہاں ہر ایک اپنے ذاتی مقاصد کے تحت اکر پوری جدوجہد کا ستیا ناس کرنے لگا ہاں بی این ایم اور بی ایل ایف میں بھی اچھے لوگ ہیں لیکن وہاں اب بھی فَیشَن پرست لوگوں کی بھی تعداد زیادہ ہے اور وہاں بھی اب یہ احساس بڑھ چکا ہے کہ سخت حالات کا مقابلہ وہ بھی ان لوگوں کے زریعے نہیں کرسکتے ہیں کیونکہ آنے والا دور سخت اور مشکل ہوگا اس دور کا سامنہ ان نمود نمائشی ،فَیشَن پرست،کمزور موقف کے حامل لوگوں کے زریعے کرنا ناممکنات میں شمار ہے اس سختی سے مقابلہ کا نسخہ حیربیار مری کے قومی اتحاد کا فارمولا ہے کہ جہاں قوم کو ساتھ لیکر انکا اعتماد بحال کرکے قومی طاقت وقوت کو قوم کے خلاف استعمال کرنے کے بجائے دشمن کے خلاف استعمال میں لاتے ہوئے اندرونی اور بیرونی طور پر دشمن کے حکمت عملی کے خلاف ایک نئی ڈاکڑائن بنا نا ہوگا جس کے لیے ایک نئے سرئے سے سب غلطیوں اور کوتائیوں کا ادراک کرتے ہوئے ایک قومی ادرہ کی تشکیل کرنا ہوگا جو قومی ریاست کی تشکیل میں رہمنا اصول ہو ورنہ پھر فَیشَن پرست جہدکاروں کی ہجوم سے کوئی بھی گروہ الگ الگ اس نئی مشکلات کا مقابلہ نہیں کرسکتا ہے اور اس اتحاد کے پروسس کو ریاست کی ایما پر کام کرنے والے لوگ بھی ناکام بنانے کی کوششوں میں بھی لگے ہوئے ہیں کیونکہ اگر یہ نئی اتحاد ہوا تو تقریباََ قوم کا زیادہ تر اعتماد بحال ہوسکتا ہے اور جہد ایک نئی شکل لے سکتا ہے اور پاکستانی فوج کے نئے ڈاکٹرائن کے مطابق انھیں بلوچ قومی جہد ایک سال میں ختم کرنا ہے اور ا س اتحاد کو روکھنے کے لیے ڈاکٹر مالک آختر مینگل ،اور قادر چنال بھی کوشش کررے ہیں کیونکہ بقول ایک دوست کے قادر چنال نے کہا ہے کہ وہ اس اتحاد کو کیسی بھی صور ت ہونے نہیں دینگے اور اگر یہ اتحاد ہوا تو فوج کی سارے کام بیکار جایں گے اب وہ کس طرح اس اصولی اتحاد کو سبوتاژ کرسکتے ہیں اور قومی جہدکار کس طرح اسکو قومی مفاد میں کامیاب کرواسکتے ہیں یہ اب سچے اور کمٹٹ اور قومی سوچ رکھنے والے تمام آزادی پسند حقیقی جہدکاروں پر منصر ہے کہ وہ ریاست کے منصوبوں کو کس طرح ناکام کرکے اصولی اتحاد اور یکجہتی کو کامیاب بنایں گے















