ریاست پاکستان، بلوچ مزاحمتی تحریک کو بھارت سے جوڑنے میں بری طرح ناکام ہونے کے بعد، اب اس تحریک کو اسرائیل سے منسلک کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ریاستِ پاکستان ایک غیر فطری ریاست ہے اور اس کا وجود ہی ہندو دشمنی پر مبنی ہے۔ پاکستانی فوج نے اکثر عوام کو بھارت کا خوف دلا کر اقتدار پر قبضہ کیا ہے اور اسی وجہ سے شہریوں کو غلام بنائے رکھا ہے۔ بھارت دشمنی کی وجہ سے فوج کے علاوہ دیگر اداروں پر کوئی توجہ نہیں دی گئی، جس کے نتیجے میں فوج کے سوا ریاست کے دیگر اہم ستون عدلیہ ،انتظامیہ ،پارلیمان/ مقننہ تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔ اس صورتِ حال میں پاکستان کے 45-50 فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ فوج سے وابستہ افراد عیش و عشرت میں ہیں۔
بلوچستان کا کوئی بھی سرحدی علاقہ بھارت سے نہیں ملتا، پھر بھی ریاستی ادارے بلوچ مزاحمتی تحریک کو بھارت سے جوڑنے پر مصر ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ بھارت مخالف حکمتِ عملی ہے، کیونکہ پاکستانی عوام میں بھارت/ہندو دشمنی کے رجحانات کثرت سے موجود ہیں۔ ریاست اس نفرت کو بلوچ مزاحمتی تحریک کے خلاف استعمال کرنا چاہتی ہے، مگر اس کوشش میں وہ مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ اپنی اس ناکامی کے بعد اب ریاستِ پاکستان بلوچ مزاحمتی تحریک کو اسرائیل سے جوڑنے کی کوشش کر رہی ہے، تاکہ ایران کو اس تحریک کے خلاف استعمال کیا جا سکے۔
*پاکستانی پروپیگنڈے کی ناکامی اور بلوچ مزاحمت کی حقیقت*
چونکہ بطور مسلمان پاکستان کے عوام میں اسرائیل دشمنی کے رجحانات بھی کثرت سے پائے جاتے ہیں، پاکستان کے عسکری اسٹیبلشمنٹ کے تھنک ٹینک نے ان اسرائیل مخالف رجحانات کو بلوچ مزاحمتی تحریک کے خلاف استعمال کرنے کی کوششیں شروع کی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستانی ادارے بلوچ مزاحمتی تحریک کو کچلنے میں مکمل ناکام ہو چکے ہیں۔ اسی لیے ریاست نے کبھی بلوچ مزاحمتی آزادی کی تحریک کو ہندوستان اور کبھی اسرائیل سے جوڑنے کی نام نہاد کوششیں شروع کی ہیں۔
پاکستان کا یہ پروپیگنڈا بھی زیادہ دیر تک نہیں چل پائے گا، کیونکہ اسرائیل کا بلوچستان سے نہ تو کوئی سرحد ملتی ہے اور نہ ہی کوئی تعلق ہے۔ درحقیقت بلوچستان کی آزادی اب ایک حقیقت بن چکی ہے۔ اب اس بلوچ مزاحمتی تحریک کو روکنا ریاستِ پاکستان کے لیے ممکن نہیں رہا، کیونکہ مزاحمتی تحریک کے تعلقات اور حمایت بلوچستان کے عام عوام سے ہیں ۔
پاکستانی ریاست کے جبر، بربریت، بلوچوں کی نسل کشی اور ریاستی طور پر بلوچوں کو جبراً لاپتہ کرنے کے عمل نے بلوچ مزاحمتی تحریک کے لیے بین الاقوامی دوست اور ہمدرد پیدا کر دیے ہیں۔ اس صورتحال سے ریاستِ پاکستان شدید پریشان اور بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئی ہے، کیونکہ اب وہ اپنا یہ ننگی جارحیت مزید جاری نہیں رکھ سکے گی۔















