بیوٹمز یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر محمد عثمان قاضی کے خلاف لگائے گئے بے بنیاد اور من گھڑت الزامات انتہائی افسوسناک ہیں۔ بلوچستان میں ریاستی ادارے اور کٹھ پتلی صوبائی حکومت اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے باشعور اور تعلیم یافتہ طبقے کو نشانہ بنا رہی ہے، تاکہ دنیا کو یہ باور کرایا جا سکے کہ وہ کاروائی کر رہے ہیں۔
12 اگست 2025 کی رات کوئٹہ کے افنان ٹاؤن میں پروفیسر محمد عثمان قاضی اور ان کے بھائی جبران قاضی کو کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) نے چھاپہ مار کر گرفتار کیا اور تاحال انہیں کسی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔ اس کے باوجود چند غیر معتبر اور غیر نشریاتی چینلز یہ جھوٹا پروپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ پروفیسر نے مبینہ طور پر جرائم کا اعتراف کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب ان کی گرفتاری تک کو ظاہر نہیں کیا گیا تو وہ کس عدالت میں اعتراف جرم کر سکتے ہیں؟ یہ سراسر جھوٹ اور گمراہ کن پروپیگنڈہ ہے۔
حال ہی میں پروفیسر ڈاکٹر محمد عثمان قاضی کی ایک ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جو ریاستی اداروں کی تحویل میں بنائی گئی ہے۔ یہ عمل بذاتِ خود غیر قانونی ہے اور اس بات کا ثبوت ہے کہ مقتدرہ قوتیں اپنے ٹاؤٹس کے ذریعے زبردستی ’’قبول کروانے‘‘ کی کوشش کر رہی ہیں۔ اگر پروفیسر واقعی کسی بڑے جرم میں ملوث ہوتے تو انہیں عوام کے سامنے پیش کرنا مقتدرہ کے لیے باعثِ فخر ہونا چاہیے تھا، نہ کہ شرمندگی کا باعث۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ پروفیسر محمد عثمان قاضی کا ’’جرم‘‘ ان کا علم، شعور اور تدریسی خدمات ہیں۔ وہ ایک باشعور استاد اور معاشرے کے خدمت گار تھے، اور یہی چیز ریاستی جبر کے لیے اصل خطرہ ہے۔ اگر وہ منشیات یا کرپٹ مافیا کا حصہ ہوتے تو آج اسمبلیوں میں بیٹھے ہوتے، کیونکہ مقتدرہ قوتوں کو سب سے زیادہ خطرہ باشعور اور حق گو افراد سے ہے، نہ کہ مسلح گارڈز کے ساتھ گھومنے والے کرپٹ عناصر سے۔
ریاستی اداروں کا یہ بیانیہ اب عوام کو مزید دھوکہ نہیں دے سکتا۔ پروفیسر محمد عثمان قاضی جیسے تعلیم یافتہ افراد کی گرفتاری اس بات کی عکاس ہے کہ بلوچستان میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں کئی دہائیوں سے جاری ہیں۔
ہم انسانی حقوق کی ملکی و عالمی تنظیموں سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ بلوچستان میں جاری ان سنگین خلاف ورزیوں پر فوری نوٹس لیا جائے اور پروفیسر ڈاکٹر محمد عثمان قاضی اور ان کے بھائی کی فوری رہائی کو یقینی بنایا جائے۔
لشکر بھی تمہارا ہے، قانون بھی تمہارا ہے
تم جھوٹ کو سچ لکھ دو، اخبار بھی تمہارا ہے















