بلوچ سرزمین ہمیشہ سے مزاحمت، قربانی اور حریت کی عظیم مثال رہی ہے۔ یہ سرزمین نہ صرف اپنے قدرتی وسائل سے مالا مال ہے بلکہ یہاں کی مٹی نے ایسے جری سپوت پیدا کیے ہیں جنہوں نے اپنی دھرتی، شناخت اور آزادی کے لیے بے مثال جدوجہد کی۔
انہی عظیم کرداروں میں ایک نمایاں نام ڈاکٹر شلی بلوچ کا ہے، جنہوں نے بلوچ خواتین کی خاموش آواز کو بیدار کیا اور اسے ایک مضبوط تحریک کی صورت دی۔
جب میں نے ڈاکٹر شلی بلوچ کی وہ جدوجہد سنی جو انہوں نے اپنی زندگی میں برداشت کی ، وہ اذیتیں، وہ تنہائیاں، وہ ریاستی دباؤ، اور پھر بھی اُن کی ثابت قدمی تو وہ کہانی کسی ناول یا فلم کی مانند لگی، مگر یہ سب کچھ حقیقت ہے۔ ایک ناقابلِ یقین جدوجہد، جس میں اُنہوں نے کبھی ہار نہیں مانی۔
وہ آج بھی اسی حوصلے اور جرأت سے اپنی قوم، اپنی ماں، اپنی بہن، اپنے بھائی اور اپنی سرزمین کے لیے لڑ رہی ہے ۔ اُن کی زندگی کا ہر لمحہ قربانی، شعور اور استقامت سے لبریز ہے۔
بلوچ مزاحمتی تحریک میں ڈاکٹر شالے بلوچ تنہا نہیں، ان سے پہلے بھی کئی دلیر بلوچ بہنوں نے جدوجہد کی را ہیں ہموار کیں۔ ان میں لمہ وطن بانُک کریم بلوچ بھی ہے جنہوں نے اپنی تمام زندگی بلوچ قومی آزادی کے خواب کے لیے وقف کر دی۔ وہ نوجوانوں کو متحرک کرتی رہیں، جلسوں اور بیداری مہمات میں شریک رہیں، اور خواتین میں شعور کی شمع روشن کی۔
انہیں کئی بار دھمکیاں دی گئیں، ان کے خاندان پر دباؤ ڈالا گیا، لیکن وہ نہ جھکیں، نہ رُکیں۔
ایک مثال زرینہ مری کی ہے، جو ایک اسکول ٹیچر تھیں۔ زرینہ مری کو 2007 میں پاکستانی خفیہ اداروں نے جبری طور پر لاپتہ کیا۔ اطلاعات کے مطابق، اُن پر جھوٹے مقدمات لگائے گئے، اور بعد ازاں انہیں فوجی کیمپوں میں قید رکھ کر بدترین جسمانی اور ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ آج تک اُن کے بارے میں کوئی سرکاری بیان یا عدالتی کارروائی سامنے نہیں آئی۔
زرینہ مری بلوچ ایک ایسی علامت بن گئی ہیں جو ظلم کے خلاف بولنے کی سزا بن کر دنیا کے سامنے پیش آئی۔
ڈاکٹر شلی بلوچ نے بلوچ ویمن فورم (BWF) کے ذریعے خواتین کو ایک ایسا پلیٹ فارم دیا جہاں وہ اپنی خاموش اذیتوں، دکھوں اور سوالوں کو آواز دے سکیں۔ یہ فورم صرف احتجاج تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک فکری، تعلیمی اور شعوری تحریک ہے جس کا مقصد بلوچ ماں،بہنوں کو مضبوط اور باشعور بنانا ہے۔
ان کی قیادت میں بلوچ خواتین نے نہ صرف کوئٹہ بلکہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں جیسے تربت، آواران، پنجگور اور گوادر میں بھی مظاہرے کیے۔ وہ ماں بنی جو اپنے بیٹے کے لیے رو رہی ہے، وہ بہن بنی جو اپنے بھائی کی تصویر تھامے دربدر ہو رہی ہے، اور وہ بیٹی بنی جو اپنے باپ کی بازیابی کے لیے سڑکوں پر نکلی۔
ڈاکٹر شلی بلوچ تعلیم کو ایک ہتھیار سمجھتی ہیں۔ وہ نوجوان لڑکیوں کو تلقین کرتی ہیں کہ اگر تم خود پڑھو گی تو نہ صرف اپنے آپ کو بلکہ پوری قوم کو اُٹھا سکو گی۔ وہ کہتی ہیں کہ بلوچ بیٹی کو صرف گھر کی عزت نہیں، قوم کی قیادت بھی بننا ہوگا۔
انہوں نے کئی مواقع پر یہ بات زور دے کر کہی کہ بلوچ تحریک اُس وقت کامیاب ہوگی جب ماں، بہن، بھائی کے شانہ بشانہ چلیں گی۔ وہ صرف “مظلوم” کہلانے کے لیے پیدا نہیں ہوئیں، بلکہ وہ “رہنما” اور “علمبردار” بھی بن سکتی ہیں،
ڈاکٹر شلی بلوچ، بانُک کریم اور زرینہ مری جیسی بہن ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ ظلم کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، اگر دل میں سچ، زبان پر حق، اور قدموں میں عزم ہو تو کوئی بھی طاقت تمہیں جھکا نہیں سکتی۔ یہ وہ بلوچ بیٹیاں ہیں جنہوں نے بندوق سے نہیں بلکہ علم، زبان، مزاحمت اور شعور سے اپنی جنگ لڑی اور پوری دنیا کو بتایا کہ بلوچ ماں، بہن ، فقط مظلوم نہیں، انقلاب کی پیش رو بھی ہیں۔















