گیارہ اگست 1947، وہ لمحہ ہے جو بلوچ قوم کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا گیا۔ یہ وہ دن تھا جب بلوچستان نے اپنی دھرتی پر غلامی کی زنجیریں توڑ کر آزادی کی فضا میں پہلا سانس لیا اس دن کا سورج، ہمارے آبا و اجداد کی قربانیوں کا گواہ ہے، اور یہ دن آج بھی ہمارے لیے ایک مقدس وعدے کی مانند ہے ۔ وعدہ کہ ہم اس آزادی کو پھر سے اپنی زمین پر لوٹائیں گے، چاہے اس کے لیے کتنی ہی قربانیاں کیوں نہ دینی پڑیں لیکن افسوس، یہ آزادی زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی 27 مارچ 1948 کو پاکستان نے عسکری جارحیت کے ذریعے بلوچستان پر قبضہ کر لیا۔ اس قبضے نے نہ صرف ہمارے جغرافیہ کو قید کیا بلکہ ہماری زبان، ثقافت اور شناخت کو مٹانے کی ایک طویل اور ظالمانہ مہم کا آغاز کیا آج بھی بلوچ عوام گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل، وسائل کی لوٹ مار اور سیاسی دباؤ کا شکار ہیں یہی وہ پس منظر ہے جس میں Free Balochistan Movement (FBM) وجود میں آئی ایک عالمی پلیٹ فارم جو دنیا کو یہ باور کراتا ہے کہ بلوچ قوم آج بھی اپنی آزادی کے لیے سرگرم (ہیربیار مری) کی قیادت میں، (FBM) نہ صرف بلوچستان کے اندر بلکہ دنیا کے ہر کونے میں بلوچ قوم کی آواز بلند کر رہی ہے۔ لندن سے جنیوا تک، واشنگٹن سے برلن تک، FBM نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی کوشش کی ہے۔ یہ تحریک دنیا کو یاد دلاتی ہے کہ بلوچستان کی آزادی کوئی خواب نہیں بلکہ ایک تاریخی حقیقت ہے جسے دوبارہ زندہ کیا جا سکتا ہے ہیربیار مری کا یہ پیغام واضح ہے: بلوچ جہاں بھی ہے، وہ بلوچ ہے، اور اس کا فرض ہے کہ اپنی سرزمین کی آزادی کے لیے کردار ادا کرے چاہے آپ مکران میں ہوں، رخشان میں،ڈیرا غازی خان میں ،یا دنیا کے کسی بھی کونے میں آپ کی شناخت اور آپ کا فرض ایک ہے۔ (FBM) بلوچ عوام کو متحد کرنے کا ہراول دستہ ہے، اور اس اتحاد کے بغیر آزادی کا خواب ادھورا ہے آج کا بلوچ نوجوان جانتا ہے کہ آزادی کے بغیر زندگی، غلامی کی زنجیروں میں سانس لینے کے مترادف ہے وہ یہ بھی جانتا ہے کہ( گیارہ اگست 1947) کوئی ماضی کا قصہ نہیں بلکہ مستقبل کی سمت کا تعین کرنے والا سنگِ میل ہےیہی وجہ ہے کہ (FBM) ہر سال اس دن کو شایانِ شان طریقے سے مناتی ہے ریلیوں، سیمینارز، عالمی کانفرنسز اور میڈیا مہمات کے ذریعے یہ پیغام دنیا تک پہنچایا جاتا ہے کہ بلوچ قوم اپنی آزادی کے عزم پر قائم ہے ہماری جدوجہد کا ہدف صرف جغرافیائی آزادی نہیں بلکہ اپنی زبان، ثقافت، وسائل اور قومی تشخص کی مکمل بحالی ہے ہم اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک کہ بلوچستان ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے طور پر دنیا کے نقشے پر دوبارہ نمودار نہ ہو جائے یہ جدوجہد مشکل ضرور ہے، لیکن بلوچ قوم کی تاریخ گواہ ہے کہ ہم نے کبھی شکست کو قبول نہیں کیا آخر میں، ہم اپنے نوجوانوں، طلبہ، خواتین اور بزرگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ FBM کے پلیٹ فارم کو مضبوط کریں ہیربیار مری کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر اس سفر کو آگے بڑھائیں، کیونکہ آزادی کوئی تحفہ نہیں بلکہ قربانیوں کا صلہ ہے گیارہ اگست کا سورج ہمیں یاد دلاتا ہے کہ وہ لمحہ ایک بار آیا تھا، اور اگر ہم متحد رہیں تو وہ لمحہ دوبارہ آئے گا گیارہ اگست 1947 بلوچستان کا دنِ آزادی August 11, 1947 Balochistan’s Independence Day