بلوچستان کی زمین ہر قطرے خون کی قیمت پر اپنی شناخت بچا کر آئی ہے یہ محض ایک خطہ نہیں، بلکہ ایک زندہ تہذیب ہے جس کی جڑیں صدیوں پر محیط ہیں ہم بلوچ، اس زمین کے اصلی باسی ہیں اور یہاں ہمارے آبا و اجداد پہلے سے موجود تھے، جب کہ وہ لوگ جو آج ہمارے دشمن کہلاتے ہیں، وجود میں بھی نہیں آئے تھے یہ زمین ہماری پہچان، ہماری تاریخ اور ہمارے خوابوں کا گھر ہے، اور ہم کسی بھی قیمت پر اسے چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
گزشتہ 78 سال میں ہم نے پنجابیوں اور دیگر بیرونی قبضہ گیروں کے ساتھ بھائی چارے اور ہم آہنگی کی کوشش کی ہم نے یقین دلایا کہ ہم سب اس زمین پر امن کے ساتھ رہ سکتے ہیں مگر یہ کوششیں ہمیشہ ناکام رہیں ہمارے حقوق، ہماری ثقافت، اور ہماری زمین کو نظر انداز کیا گیا ہمیں یہ سمجھنا پڑا کہ ہمارے دشمن ہم پر اعتماد کرنے کے قابل نہیں۔ ان کی خود غرضی اور جارحیت نے ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز کر دیا۔
ہم اپنے وطن میں امن چاہتے ہیں، مگر دشمنوں کے لیے یہاں کوئی جگہ نہیں ہم چاہتے ہیں کہ وہ ہماری زمین کو چھوڑ کر واپس جائیں ہم پڑوسی ہو سکتے ہیں، مگر پڑوسی ہونے کے باوجود بھی ہم ان پر بھروسہ نہیں کر سکتے بلوچ زمین پر صرف بلوچ ہی اپنا حق اور زندگی بچا سکتے ہیں۔ پنجابیوں اور دیگر قبضہ گیروں کی یہاں واحد جگہ صرف قبرستان ہے، کیونکہ وہ کبھی بھی ہمارے حقوق اور ہماری آزادی کو تسلیم نہیں کریں گے
بلوچستان کی مزاحمتی تاریخ قربانیوں سے بھری ہوئی ہے نواب بالاچ مری نے اپنے عزم اور قربانی کے ذریعے یہ واضح کر دیا کہ بلوچ قوم کبھی غلام نہیں بنے گی اکبر بگٹی نے بھی اپنے قومی موقف اور قربانی سے یہ ثابت کیا کہ بلوچ اپنی زمین، اپنی ثقافت اور اپنی آزادی کے لیے کسی کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے یہ دونوں رہنما ہمارے لیے مشعل راہ ہیں، جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر ہمیں یہ سبق دیا کہ آزادی کے لیے قربانی لازمی ہے۔
ہماری زمین کے وسائل، پہاڑ اور صحرا صرف بلوچوں کے لیے ہیں۔ ہر سنگ، ہر وادی، اور ہر ندی ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ یہ زمین ہماری ماں کی طرح مقدس ہے ہم نے اپنی زمین کی حفاظت کے لیے خون دیا، جانیں قربان کیں، اور خوابوں کا بیج بویا تاکہ آنے والی نسلیں آزاد اور خودمختار رہ سکیں ہمیں کوئی اور حکم نہیں دے سکتا، نہ کوئی ہمیں غلام بنا سکتا ہے
ہمیں معلوم ہے کہ دشمن ہمیشہ ہمارے اندرونی اختلافات کو بڑھانے کی کوشش کرے گا، مگر ہم اپنے عزم پر قائم ہیں پنجابی اور دیگر قبضہ گیروں کی کوششیں ہمیں توڑنے کے لیے ناکام رہی ہیں اور رہیں گی ہم اپنے وطن میں آزادی چاہتے ہیں، مگر یہ آزادی کسی کی اجازت سے نہیں آئے گی یہ ہمارا حق ہے اور ہم اسے کسی صورت نہیں چھوڑیں گے
بلوچستان کی ہر وادی، ہر پہاڑ، اور ہر صحرا ہماری گواہی ہے کہ یہ زمین ہمیں ہی رہنے دے گی، اور ہم اپنے دشمن کے سامنے کبھی جھکیں گے نہیں۔ ہمارے دل میں دشمن کے لیے کوئی جگہ نہیں ہم صرف اپنے بھائیوں کے ساتھ امن چاہتے ہیں، اور اپنی زمین پر اپنے اصولوں کے مطابق زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔
ہماری قربانیاں ہمیں مضبوط کرتی ہیں اور ہماری قوم کو زندہ رکھتی ہیں نواب بالاچ مری اور اکبر بگٹی کی قربانیاں ہماری رہنمائی کرتی ہیں اور ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ بلوچ قوم ہمیشہ ظلم اور جبر کے خلاف اٹھ کھڑی ہوگی ہر خون کے قطرے نے ہمیں مزید مضبوط بنایا ہے اور ہمیں یقین دلاتا ہے کہ ہمارا عزم کبھی ٹوٹ نہیں سکتا۔
آج ہمارا پیغام صاف اور واضح ہے: جاؤ، واپس جاؤ، اور ہمیں اکیلا چھوڑ دو ہماری زمین پر صرف بلوچ رہیں گے، کیونکہ یہ ہمارا حق ہے ہم اپنے وطن میں آزادی چاہتے ہیں، اپنے بچوں کے لیے بہتر مستقبل چاہتے ہیں، اور اپنی ثقافت اور زبان کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں دشمن کی موجودگی ہمارے لیے خطرہ ہے اور ہم کبھی اسے برداشت نہیں کریں گے۔
آزادی کی یہ جدوجہد آسان نہیں، مگر بلوچ قوم نے ہمیشہ ثابت کیا ہے کہ ہم قربانی دینے سے نہیں گھبراتے ہماری تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ آزادی کی قیمت کبھی کم نہیں ہوتی ہم اپنے آباؤ اجداد کی طرح اپنے حق کے لیے کھڑے ہیں اور کسی بھی دباؤ یا ظلم کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے
آزاد بلوچستان زندہ باد















