زاہدان ( ہمگام نیوز ،گوانک رپورٹ ) بلوچ صحافی اور سماجی کارکن یعقوب مہرنهاد کی پھانسی کو سولہ سال مکمل ہو چکے ہیں۔ یعقوب وہ نوجوان تھا جو بلوچستان میں پرامن سماجی سرگرمیوں، عوامی شعور اجاگر کرنے اور انصاف کے حصول کے لیے پرعزم تھا، مگر قابض ایران کے سیکیورٹی اداروں نے اسے اسی پاداش میں گرفتار کرکے ، تشدد کا نشانہ بنایا، غیرمنصفانہ عدالتی کارروائی کا سامنا کرایا اور بالآخر سزائے موت دے دی۔ یعقوب مہرنهاد زاہدان میں پیدا ہوا اور سماجی و ثقافتی انجمن “جوانان صدای عدالت” کا جنرل سیکریٹری تھا۔ وہ اس انجمن کے تحت “جوانان پرسشگر، مسئولین پاسخگو” کے عنوان سے اجلاس منعقد کرتا تھا، جس کا مقصد نوجوانوں کو سوال کرنے کا حق دینا اور حکومتی اہلکاروں کو جوابدہ بنانا تھا۔ ساتھ ہی وہ زاہدان سے شائع ہونے والے اخبار “مردمسالاری” میں بطور صحافی کام کرتا تھا اور مقامی حکام کی پالیسیوں پر تنقید کرتا تھا۔ وہ بلوچ عوام کے درمیان ایک پرجوش اور انصاف پسند چہرے کے طور پر جانا جاتا تھا۔ یعقوب کو مئی 2007 میں، ایک اجلاس کے انعقاد کے بعد اس کے کم عمر بھائی کے ہمراہ قابض ایرانی فورسز کے اہلکاروں نے گرفتار کیا۔ اسے پانچ ماہ سے زائد عرصے تک وزارتِ اطلاعات کے حراستی مرکز میں شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا، بغیر کسی قانونی وکیل تک رسائی کے۔ بعد ازاں ایک غیر یقینی عدالت میں، جس میں نہ اس کے وکیل کو شرکت کی اجازت دی گئی اور نہ ہی اہلِ خانہ کو، اسے “ریاست مخالف گروہوں سے تعاون” کے الزامات میں سزائے موت سنائی گئی۔ یہ فیصلہ ایسی صورت میں سنایا گیا جب کہ نہ تو عدالت میں کوئی قابلِ قبول ثبوت پیش کیا گیا، نہ ہی قانونی تقاضے پورے کیے گئے۔ یعقوب کو 4 اگست 2008 کو زاہدان کی مرکزی جیل میں پھانسی دے دی گئی۔ افسوسناک امر یہ تھا کہ اہلِ خانہ کو محض چند گھنٹے پہلے اطلاع دی گئی اور انہیں نہ آخری ملاقات کی اجازت دی گئی، نہ جنازے کے وقت الوداع کا حق دیا گیا۔ اس وقت یعقوب کی عمر صرف 28 سال تھی اور وہ اپنے پیچھے تین کم سن بچے چھوڑ گیا۔ یعقوب مہرنهاد کی پھانسی، صرف اس بنا پر کہ وہ لکھتا تھا، سوال کرتا تھا اور عوام کو بیدار کرتا تھا، ایران میں آزادیِ اظہار اور بلوچ نخبہ و سماجی کارکنوں کے خلاف ریاستی جبر کی ایک واضح مثال ہے۔ ان کی شہادت کے بعد بھی بلوچستان میں سماجی کارکنوں، صحافیوں اور سیاسی شخصیات پر دباؤ میں کمی نہیں آئی ہے، اور تاحال نہ تو اس کیس پر کوئی آزاد تحقیق کی گئی ہے اور نہ ہی کوئی ریاستی جوابدہی سامنے آئی ہے۔ یعقوب مہرنهاد آج بھی بلوچستان کے نوجوانوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے لیے ایک علامتِ مزاحمت اور آزادیِ فکر کی روشن مثال ہے۔