ایران اور سعودی عرب کے درمیان فرقہ وارانہ سر اٹھاتے تنازعات اگر خطے میں ایک جنگ کی شکل اختیار کرلیں تو پاکستان اپنی اقلیتی شیعہ آبادی کے ساتھ اس جنگ کی وجہ سے شدید متاثر ہوجائیگا،اسی لئے پاکستانی خارجہ پالیسی کی پہلی ترجیح اس تنازعہ کو جلد کم یا ختم کرنے کی ہونی چاہئیے۔ایران اور سعودی تنازعہ میں پاکستان ایک بہت اہم کردار ادا کرتا ہے لیکن جتنا پاکستان کا کردار ہے وہ اس سے بہت کم اہمیت حاصل کرتا ہے۔
پچھلے کچھ مہینوں سے میں مسلسل ماہرین کو یہ بولتے ہوئے سن رہا ہوں کہ شام میں پاکستانی شیعہ ملیشیا بھی ملوث ہے۔ واضح رہے کہ بیرونی شیعہ ملیشیا جو ایرانی پاسداران انقلاب کے دستوں (آئی آر جی سی) کے شانہ بشانہ شام اور اس سے آگے لڑرہے ہیں،آج مشرق وسطی پر توجہ مرکوز کرنے والے صحافیوں اور ماہرین کے مابین کسی حد تک رجحان ساز موضوع ہیں۔وہ اس حوالے سے غلط رائے قائم نہیں کررہے ہیں کہ شام کی جنگ میں اس طرح کے ملیشیاؤں کے وسیع اثر و رسوخ نے ہی آئی آر سی جی اور اسد حکومت کو ضروری طاقت فراہم کی ہے۔ تاہم اس تناظر میں تجزیہ کار اکثر و بیشتر لبنانی حزب اللہ اور پاکستان و افغانستان کے شیعہ ملیشیا کا حوالہ دیتے ہیں جس میں ان گروہوں کے درمیان درست طور پرفرق واضح نہیں کیا جاتا، باوجود اس کے کہ وہ بہت سی مماثلتیں رکھتے ہیں لیکن ایک بہت بڑا اور اکثر نظرانداز کیا جانے والا فرق جو کہ افغان لیوا فاطمیون اور پاکستانی لیوا زینبیئون بریگیڈ کے درمیان ہے۔وہ واضح فرق عددی حساب سے ان دو گروہوں کے درمیان ہے۔اگرچہ دونوں بریگیڈوں کے اعداد و شُمار انتہائی حد تک نا قابل یقین ہیں، لیکن یہ خیال کیا جاتا ہے کہ فاطمیون بریگیڈ کے عروج کے وقت عددی اعتبار سے ان کے جنگجوؤں کی تعداد تقریباً آٹھ سے بیس ہزار کے لگ بھگ تھی۔ اگر عددی اعتبار سے اندازوں اور مفروضوں پر بھی اکتفا کرتے ہوئے اعداد و شُمار کو کم ہی رکھیں تو لیوا زینبیون کی تعداد دو ہزار پانچ سو جنگجوؤں سے زائد نہیں ہوگی۔
عام طور پر کچھ اچھی معلومات رکھنے والے تجزیہ نگار تو اس تعداد کو مزید کم کرکے صرف آٹھ سو جنگجو بتاتے ہیں۔واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ میں شیعہ مسلح تحریکوں کے ایک تجزیہ کار اور پرکشش مبصر علی الفونِح کے مطابق، جنوری 2012 سے وسط جولائی 2019 کے درمیان شام میں شیعہ ملیشیا کے لئے لڑتے ہوئے صرف 160 پاکستانی شہری ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ اس کے مقابلے میں 917 افغان شہری،1246 لبنانی اور 568 ایرانی جنگجوؤں کی اموات ہوئی ہیں۔اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ شام میں پاکستانی شیعہ جنگجوؤں کی شمولیت کو وسیع پیمانے پر تصوراتی اور انتہائی مبالغہ آمیز طور پر بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا رہا ہے۔صرف مبالغہ آرائیوں پر قائم تعداد کو دیکھ کرکسی کو آسانی سے اس یقین میں مبتلا کیا جاسکتا ہے کہ شیعہ سنی محاذ آرائی کے طور پر مبنی سعودی ایران پراکسی جنگ کے تجزیے میں صرف مصلحت پسند نقطہ کے طور پر کام کیا جاسکتا ہے جو اس وقت توسیع شدہ مشرق وسطی کا شکار ہے۔ تاہم اس طرح کی کٹوتی زیادہ نہیں کی جاسکتی ہے۔ اس سے نہ صرف یہ کہ افغانستان ، شام ، عراق اور یمن میں پاکستانی نژاد سنی تکفیری جنگجوؤں کی ایک بڑی تعداد کو بھی نظر انداز کیا جاسکتا ہے بلکہ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ پاکستان اور کشمیر میں ہی عالمی سطح پر بڑھتی فرقہ وارانہ فسادات کے ممکنہ خوفناک انجام کو نظرانداز نہیں کیا جاسکے گا۔
2017 کی مردم شماری کے مطابق، پاکستان کی موجودہ آبادی تقریباً 22 کروڑ افراد پر مشتمل ہے، جن میں کشمیر کے پاکستانی زیر انتظام حصے (تقریبا پچاس لاکھ)شامل ہیں جو پوری عرب لیگ کی کل نصف آبادی کے برابر ہے۔ آخری بار جنوبی ایشیاء میں شیعہ مسلمانوں کی تعداد برطانوی راج کے دوران 1921 کی آل انڈیا مردم شماری میں شامل کی گئی تھی۔ تاہم پاکستان کی موجودہ شیعہ آبادی کے بارے میں علمی تخمینے عام طور پر 10 سے 20 فیصد کے درمیان ہوتے ہیں، جس سے یہ ملک دنیا میں شیعہ آبادی کا دوسرا سب سے بڑا ملک بن جاتا ہے۔ شیعہ گلگت بلتستان کے شمال مشرقی علاقے میں ایک مقامی اکثریت کی تشکیل کرتے ہیں، جسے اسماعیلی اور ٹویلور شیعہ دونوں ہی برادری اپنا گھر کہتے ہیں۔ نیز دیہی پنجاب اور سندھ میں انُکی تعداد قدرے کم ہے۔صوبہ بلوچستان اور خیبر پختون خواہ میں شیعہ طبقہ بہت چھوٹا ہے، جس میں پارہ چنار شہر جو افغانستان کی سرحد پر دائیں جانب سابق کرم ایجنسی میں واقع ہے، جو ترکئی قبیلے کی ٹویلور شیعہ پشتون آبادی ہے اس کے علاوہ کوئٹہ کی افغان ہزارہ برادری بھی ان کی بڑی اور اکثریتی علاقے ہیں۔
مزید برآں، پاکستان کے شہری مراکز میں شیعوں کی بڑی جماعتیں موجود ہیں ، ان میں سے بہت سے مہاجر جو 1947 میں تقسیم کے بعد اتر پردیش اور دکن سے ہجرت کر کے پاکستان آئے تھے۔ ان شیعہ مہاجرین کا ایک بڑا حصہ طویل عرصے سے قائم زمین پر ملکیت رکھنے والے سید خاندانوں کی اولاد ہیں، جنہوں نے قیام پاکستان میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ کچھ “بانیان پاکستان”جیسے کہ پاکستان کے پہلے صدر اسکندر میرزا، اور یہاں تک کہ خود محمد علی جناح ، جو گجراتی اسماعیلی خاندان میں پیدا ہوئے تھے اور بعد میں ٹویلور شیعہ میں تبدیل ہوئے تھے۔ وہ بھی انہی بااثر شیعہ تاجروں کی اشرافیہ سے تعلق رکھتے تھے۔پاکستان کی شیعہ برادری اب بھی غریب اور غیر منحرف شیعہ آبادی پر قائم ہے خاص طور پر پاراچنار کے ترکئی باشندے اس کے علاوہ انتہائی بااثر شیعہ اشرافیہ جو آج کے پاکستان کے جاگیردارانہ معاشرے کی خصوصیت اور عکاس ہے۔ اینڈریاس ریک نےاپنی کتاب “شیعہ آف پاکستان” میں شیعہ فرقے سے تعلق رکھنے والوں کو مؤثر اوربرداشت کرنے والی اقلیت کی حیثیت سے پیش کیا ہے۔ شیعہ کمیونیٹی کی عددی تعداد اور طاقت کے باوجود شیعہ فرقہ واریت ابھی تک پاکستان میں غالب سیاسی کردار ادا کرنے کے لئے اب تک ابھر کر سامنے نہیں آسکی ہے۔ ایک زبردست اور بعض اوقات متشدد سنی اکثریت کے پیش نظر، تمام طبقات کے شیعہ نے روایتی طور پر اپنی فرقہ وارانہ شناخت کو کم کرنے کا انتخاب کیا ہے۔عہد مغل کے بعد فرقہ وارانہ فسادات نے صرف کبھی کبھی سر اٹھایا ہے۔ افغانستان میں روس کی شکست، سعودی عرب کے ساتھ تناؤ اور فوجی آمرضیا الحق (88-1977)کی نام نہاد اسلامی اصلاحات و شدت پسندی کی تعلیمات نے شیعہ مخالف احساسات کو 1980 کی دہائی سے اب تک تشویشناک حد تک بڑھاوا دیا ہے۔خاص طور پر 2009 سے 2014 کے درمیان پورے ملک میں غیرمعمولی ٹارگٹ حملوں میں کئی سو شیعہ قتل کردئیے گئے۔ پاراچنار، کوئٹہ، اور کسی حد تک گلگت بلتستان کی معاشی طور پر پسماندہ شیعہ برادریوں کو خاص طور پر خطرات لاحق تھیں جو آج تک خطرے سے خالی نہیں۔ اس طرح کے بھی کئی واقعات رونما ہوئے ہیں جس میں شہروں کے اندر بڑی شیعہ شخصیات کو نشانہ بنایا گیا ہے، تاہم حالیہ برسوں میں فرقہ وارانہ تشدد کی ہلاکتوں میں تیزی سے کمی واقع ہوئی ہے۔تہران اور ریاض کے مابین تعلقات میں شدید سردمہری اور تناؤ کے تناظر میں اگر دیکھا جائے تو پاکستان کی بہت بڑی شیعوں کی آبادی، ریاض کے ساتھ پاکستان کے قریبی تعلقات (کچھ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ سیکیورٹی کے معاہدات ہیں جن کے بارے میں گُمان کیا جاتا ہے کہ سعودی عرب پر بیرونی حملہ اور دراندازی کی صورت میں پاکستان سعودی عرب کی حفاظت کرے گاجس میں ایٹمی جنگ کی صورت حفاظت بھی شامل ہے) اس کے علاوہ پچھلے کچھ سالوں سے پاکستان کے اندر فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات وہ تمام حقائق ہیں جنہوں نے پچھلے پانچ سالوں سے اسلام آباد کی آنکھوں سے نیند اُڈا دی ہے۔خلیجی ممالک سے تعلقات اور معاشی انحصار جو ایک طرف تو سیدھی طرح سے اس مخصوص ملک سے چندے کی صورت آتا ہے یا وہاں پر کام کرنے والے لاکھوں پاکستانی تارکین وطن کی طرف سے زرمبادلہ کی صورت پاکستان کو میسر ہے کے باوجود پاکستان نے اب تک اپنے آپ کو غیر جانب دار رکھا ہوا ہے۔مثال کے طور پر ، موسم بہار 2015 میں، پاکستان نے یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کی زیرقیادت آپریشن “فیصلہ کن طوفان” کی حمایت نہیں کی۔ حیرت زدہ سعودیوں، جنہوں نے امدادی ممالک کی ابتدائی پیش کش میں پہلے ہی پاکستانی جھنڈے کو شامل کیا تھا مگر ان کی غلط فہمی پاکستان کے انکار کے ساتھ ہی دور ہوگئی۔ اسی طرح2017 میں قطر کے بحران کے عروج کے دوران بھی پاکستان نے کسی ایک فریق کی طرف داری کرنے سے بھی گریز کیا۔ قریبی فوجی اور مالی تعلقات اور اس حقیقت کو دیکھتے ہوئے کہ اس وقت کے پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف نے سعودی عرب میں جلاوطنی میں کئی سال گزارے تھے، ریاض نے اعتماد کے ساتھ یہ اخذ کر لیا تھا کہ پاکستانی مدد سعودی عرب کو ضرور میسر رہیگی۔صرف 2014 میں جب پاکستانی روپیہ شدید ہنگاموں کا سامنا کر رہا تھا یہ سعودی عرب ہی تھا جس نے ڈیڑھ ارب امریکی ڈالر کے قرض سے اسلام آباد کی مدد کی۔ تاہم سعودی عرب کی قیادت نے اس سودے بازی کے بعد پاکستان سے غلط امیدیں وابسطہ کرلی تھیں۔در حقیقت تین اہم تزویراتی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے اسلام آباد نے ان دو امور سے دور رہنے کا انتخاب کیا ہے اور یہ سب کچھ کسی حد تک ایران سے جڑے ہوئے ہیں۔ ایک وجہ تو پاکستان اور چین کے مابین گہری دوستی،بھارت کے ساتھ دشمنی کے بعداسلام آباد اور بیجنگ کے مابین نام نہاد ہمالیہ سے اونچی اور شہد سے میٹھی دوستی پاکستانی خارجہ پالیسی کا دوسرا سب سے اہم ستون ہے۔اپریل 2015 میں سعودی زیرقیادت آپریشن “فیصلہ کن طوفان” کے آغاز پر چین پاکستان میں بنیادی ڈھانچے کی وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کا اعلان کرنے والا تھا۔ اس کے نتیجے میں، بیجنگ نے پاکستان میں عدم استحکام کی لہر کو اپنی خاطر خواہ سرمایہ کاری کے لئے خطرےکے طور پر دیکھا۔ لہذا بیجنگ نے پاکستان پر علاقائی تنازعات سے دور رہنے کے لئے اہم دباؤ ڈالا۔ اور چینی لابی نے پاکستان کو زیراثر رکھ کر اپنے من چاہے نتائج حاصل کرلئے۔ چینی مفادات اس حوالے سے ایک مضبوط عامل رہے ہیں اور اب بھی ہیں۔دوسرا عنصر، پاکستان کے سیکیورٹی اپریٹس کے لئے دو اہم محاذوں پر جنگ اور ہندوستان اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے سمجھے جانے والے گھیرے سے بچنے کی اہمیت ہے۔ جائز ہے یا نہیں، یہ داخلی سلامتی مفاد پاکستان کے دیرینہ معاشی مسلح گروہوں کی حمایت کرنے کی نیم پوشیدہ پالیسی کے پیچھے بالادست قوت رہی ہے، حالانکہ اسلام آباد ہمیشہ سے افغانستان کے مسلح گروہوں بشمول مجاہدین کو “ہمارے لوگ” سے تشبیح دیتا ہے جیسا کہ گلبدین حکمت یار کی حزب اسلامی اور افغانستان میں مشغول دیگر مغرب مخالف مسلح شدت پسندوں کے۔تیسری وجہ پاکستان میں فرقہ وارانہ تشدد پھیل جانے کا خوف تھا۔ ایک بہت ہی مشہور بیان میں ، پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے آپریشن”فیصلہ کن طوفان” کے آغاز کے دوران، کہا تھا کہ ” ہم کسی بھی تنازعہ میں حصہ نہیں لیں گے جس کے نتیجے میں مسلم دنیا میں اختلافات پیدا ہوسکتے ہوں، جس کی شدت پاکستان کو متاثر کرے یا پاکستان اس سے اثر انداز ہو”۔ایران اور پاکستان کے درمیان شورش زدہ منقسم سرحدی علاقہ بلوچستان جو ایران اور پاکستان کے مابین تقسیم ہے میں غیر محفوظ سرحد اور پہلے ہی سے موجود حفاظتی خطرات کے پیش نظر اسلام آباد کے پاس تہران کے ساتھ کھلے عام تصادم سے بچنے کی اچھی وجہ ہے۔ اسلام آباد کی طرف سے تہران کے مفادات کے خلاف کوئی بھی حصہ داری چاہے وہ محتاط انداز میں ہی کیوں نہ ہو سرحد کے دونوں اطراف مائکرو جارحیت کی چنگاریوں کو ہوا دے کر بڑھائے گی۔ایران کا دعوی ہے کہ اسلام آباد سنی جہادی گروہ جیش العدل کے خلاف خاطر خواہ کارروائی نہیں کررہا ہے جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ پاکستان کی سرحد سے متصل ایران کے صوبے سیستان اور بلوچستان میں ایران کی سیکیورٹی اداروں پرمتعدد حملوں کا ذمہ دار ہے۔ مثال کے طور پر جیش العدل نے فروری 2019 کو آئی آر سی جی فورسز پر ہونے والےخودکش بم دھماکے کی ذمہ داری قبول کی تھی جس میں 27 اہلکاروں کی ہلاکت ہوئی تھی۔دوسری طرف پاکستان بھی ایران پر اسی نوعیت کےالزامات لگاتاہے کہ (بالواسطہ) پاکستانی صوبے بلوچستان میں سرگرم سیکیولر مسلح علیٰحدگی پسند جنگجوؤں جو پاکستان کی سیکیورٹی اداروں پر حملوں میں ملوث ہیں کو مدد فراہم کررہا ہے۔ اس طرح کے گروہوں نے بڑھتے ہوئے جوش و خروش کے ساتھ چینی اور پاکستانی اہداف پر حملے کیے ہیں۔چین صوبے کے جنوب میں گوادر کی بندرگاہ چلاتا ہے، حالیہ اطلاعات سے پتہ چلتا ہے کہ کچھ بلوچ علیحدگی پسند مسلح تنظیموں نے ایک نیا سپر گروپ تشکیل دیا ہے جسے بلوچ راجی آجوئی سنگر (براس) کہا جاتا ہے۔یہ صوبے میں سکیورٹی کی صورت حال کے خاتمے یا خراب ہونے کے امکان کی طرف اشارہ ہے۔اس بنیاد پر یہ حیرت کی بات نہیں ہوگی کہ مبینہ طور پر اگست 2014 کے اوائل میں مشرق وسطی سے شیعہ ملیشیاؤں کی واپسی کے خطرے سے پاکستانی حکام خوف زدہ تھے، جب نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی نے پاکستان کے اندر شیعہ برادریوں کو فرقہ وارانہ خطوط پر اکسانے کی ایرانی (اور عراقی) کوششوں کے خلاف خفیہ انتباہ جاری کیا تھا۔نجی گفتگو میں معاملے سے قریبی افراد بار بار یہ انکشاف کرتے رہے ہیں کہ یہ معاملہ انٹر سروس انٹلیجنس (آئی ایس آئی) کی کوششوں سے روک دیا گیا تھا۔ پاکستانی سیکیورٹی اداروں نے زینبیون جنگجوؤں کو یہ کہہ کر ملک میں واپس آنے سے روکا تھا کہ یہ جنگجو دراصل ایرانی شہری تھے۔در حقیقت ایسا لگتا ہے کہ ایران میں مقیم پاکستانی مزدوروں میں زینبیون جنگجوؤں کا ایک بڑا حصہ بھرتی کیا گیا ہے۔ تاہم مبینہ طور پر پاکستان میں واپس آنے والے زینبیون جنگجوؤں کی گرفتاریوں نے ان مفروضوں پر شبہات ڈالے ہیں۔ پاکستانی تجزیہ نگاروں کے مطابق کچھ زینبیون جنگجوؤں کو پاراچنار اور پاکستان کے دیگر حصوں سےبھرتی کیا گیا تھا۔اس سال پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں فرقہ وارانہ تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔ پچھلے پرسکون سالوں کی نسبت 2019 کے پہلے نصف حصے میں متعدد واقعات نے بندرگاہی شہر کو دہلا دیا۔ مندرجہ ذیل میں رونما ہونے والے کچھ واقعات کی تفصیلات کچھ یوں ہیں۔18 جنوری کواہل سنت والجماعت (اے ایس ڈبلیو جے) سے تعلق رکھنے والے مدرسہ کے سو اساتذہ ایک ٹارگٹ حملے میں زخمی ہوئے تھے۔22 جنوری کو شیعہ علماء کونسل کے نائب صدر محمد علی شاہ کو قتل کیا گیا۔4 فروری کواہل سنت والجماعت کے ایک ممبر کو قتل کردیا گیاتھا۔22 مارچ کوممتاز سنی عالم مفتی تقی عثمانی ایک ہدف کے حملے میں بچ گئے تھے۔15 اپریل کو شیعہ برادری کے افراد نے 13 روزہ دھرنا دیا تھا جس میں شیعہ برادری کے گمشدہ افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ مشکوک حالات میں، ان میں سے بہت سے لوگ بعد میں گھر واپس آگئے تھے۔خبر رساں ادارے سماء کے مطابق حکام نے پانچ افراد کو کراچی میں “ریاست مخالف سرگرمیوں” کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ ان پر الزام تھا کہ انُکا تعلق زینبیون کے لئے بھرتی کرنے والے غیر مقامی نیٹ ورک سے تھا۔ جب کہ مقامی حکام نے اس ملک کا نام لینے سے گریز کیا جس کا وہ ذکر کررہے تھے تاہم تمام شواہد ایران کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔2018 میں اقتدار میں آنے والی عمران خان حکومت نے جزوی طور پر ریاض کے ساتھ اپنے خصوصی تعلقات کو بحال کرنے کی کوشش کی ہے۔ صرف اس سال کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان (ایم بی ایس) پاکستان میں بیس ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کر چکے ہیں۔ اس مہربانی کے بدلے میں پاکستان سعودی عرب کو تربیت اور مشاورتی مقاصد کے لئے ایک نمایاں تعداد میں فوجی فراہم کر رہا ہے۔ فوجی دستے صرف سلطنت کی حدود کے اندر ہی تعینات کیے جارہے ہیں۔ یہ پہلا موقع نہیں جب پاکستانی فوج بیرون ملک تعینات ہے۔ بلکہ سرد جنگ کے اواخر سے ہی سعودی عرب فوجی طور پر پاکستانی فوج کے اوپر گہرا انحصارکررہا ہے۔ اس وقت خلیج کے عرب حصے میں کئی ہزار پاکستانی فوجی تعینات ہیں۔رواں سال کے شروع میں محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان کے دوران پاکستان کے وزیراعظم نے شنید کے مطابق پروٹوکول کے بر خلاف ان کی گاڑی خود چلا کر سعودی ولی عہد کو ان کی رہائش گاہ تک پہنچایا تھا اور محمد بن سلمان نے اپنے آپ کو پاکستان کا سعودی عرب میں سفیر قرار دیا تھا۔ حال ہی میں سعودی عرب کی آئیل تنصیبات پر حملے کے بعد پاکستانی وزیر اعظم نے اظہار یکجہتی کے طور پر ریاض کا دورہ کیا تھا اور ایران پر الزام لگائے بغیر اس حملے کی مذمت کی تھی۔
کشمیر میں بھی سعودی ایران کے تصادم کی تپش محسوس کی جاسکتی ہے۔ بہترین ظاہری تعلقات اور پاکستان کی پریشانیوں کے باوجود سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات اگست میں ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کو اسکی خودمختار حیثیت سے الگ کرنے کے بھارتی فیصلے پر زیادہ تر خاموش رہے ہیں۔ خلیج میں ہندوستان کے بڑھتے ہوئے معاشی پھیلاؤ کے باوجود یمن اور قطر کے تنازعے کے دوران پاکستان نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو اپنے موقف سے آگاہ کیا ہوگا۔
ایران اپنے طرز عمل میں زیادہ سیدھا سادا رہا ہے، حیرت انگیز طور پر ایران نے کشمیر کے حوالے سے ہندوستانی اقدامات کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ تاہم کشمیر میں شیعہ برادری پر خصوصی طور پر توجہ مرکوز کرکے تہران نے پاکستان کے لئےسر درد میں کافی اضافہ کیا ہے جو روایتی طور پر خود کو جنوبی ایشیاء میں مسلمانوں کا واحد محافظ کی حیثیت دیتا ہے۔
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیرمیں ایک بڑی تعداد میں شیعہ برادری کی شراکت ہے جو عددی اعتبار سے مسلمان آبادی کا ایک چوتھائی حصہ ہے۔ مزید برآں، اسرائیلی روزنامہ “ہارٹز” کی رپورٹ کے مطابق کشمیر کو آئی آر جی سی نے زینبیون کے لئے مبینہ طور پر بھرتی کرنے کا ایک اہم مرکزو میدان بنا دیاہے۔ اس رپورٹ کے مطابق، زینبیون کے متعدد سابق فوجی پہلے ہی مشرق وسطی سے ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں لوٹ چکے ہیں۔اس بات کے واضح شواہد موجود ہیں کہ ایران اور سعودی محاذ آرائی کے اثرات پاکستان میں پہلے ہی دیکھے جاسکتے ہیں۔ پاکستان میں شیعہ برادری کی کثیر تعداد اور ماضی میں رونما ہونے والے فرقہ وارانہ تشددکے واقعات اس شُبے کو مزید توانا کرتے ہیں کہ ایران سعودی تنازعہ اور محاذ آرائی خطے کے دیگر ممالک کی نسبت پاکستان کو زیادہ خطرے سے دوچار کر سکتا ہے۔اسلام آباد نے کم از کم 2014 کے بعد سے ہی ایسے خطرات کو بھانپ لیا تھا اور اب تک ان پر بہتر انداز میں قابو پاتا رہا ہے، ابھی بھی سب کچھ ختم نہیں ہوا، لیکن سعودی عرب اور ایران کے مابین کوئی بھی محاذ آرائی دراصل دنیا میں شیعہ سنی تنازعے کی شکل اختیار کرکے سامنے آئی گی اور ان کے مابین ہونے والے کسی بھی محاذ آرائی کے نہایت خطرناک نتائج برآمد ہوسکتے ہیں جو پاکستان کو عدم استحکام اور داخلی انتشار و مسائل کا شکار کرسکتے ہیں لہٰذا پاکستان کا کردار نہایت اہم ہے جو آنے والے کسی بھی داخلی انتشار سے دور رہنے کے لئے دونوں ممالک کو درحقیقت دونوں فرقوں کے تنازعے کو سب سے زیادہ اہمیت دیکر حل کرنے کی اولین کوشش کرنی چاہئیے۔















