آخری گولی اپنے آپ پر مار کر امر ہونگے، لیکن دشمن کے سامنے سر نہیں جھکائینگے۔ شہید طارق کے آخری وائس (میدان جنگ میں رابطہ نسیم بلوچ سے) دس جون تقریباََ 3.30 کے وقت مجھے فون کال آیا میں نے دیکھا فراز کا نمبر تھا ۔ اس دوران فراز بلوچ ایک تنظیمی مشن اور ایک سفر پر تھا ۔ فراز مجھ سے ہمیشہ مسج کے ذریعے حال احوال کرتے تھے۔ آج اس کے کال پر میں تھوڑا پریشان ہوگیا۔ اللہ کا نام لےکر کال اٹینڈ کرکے ” ہیلو بولا ” فراز نے نہایت اطمینان سے پہلے حال احوال کیا جب میں نے گولیوں کی آواز سنی تو پوچھا یہ فائر کون کررہا ھے فراز نے جواب دیا کہ ہم 2 گھنٹے سے فوج کے گھیرے میں ہے ہمارے درمیان مقابلہ جنگ جاری ہے۔ پہلے میں نے سمجھا شائد مزاق کررہا ھے اگر سنگت دشمن کے ساتھ دو بہ دو جنگ میں ہے تو اتنی ریلیکس اور بالکل اطمینان سے کیسے بات کررہا ہے۔ پر مسلسل فائرنگ کی آواز سن کر مجھے یقین ہوا کہ سنگت جنگی حالت میں ہے میرا پہلا سوال فراز سے یہ تھا کہ آپ لوگوں کے پاس پانی ہے ؟ فراز نے جواب دیا نہیں۔ اور کہا کہ ہم دو دن اور دو رات سے مسلسل سفر پر ہیں کچھ خشک روٹی تھے وہ بھی کل رات ختم ہوگئے تھے پانی بھی رات کو ختم ہوگی ہے۔ ہمارے (کلّی) مشکیزہ خشک ہے ہمارہ ارادہ تھا کہ صبح سویرے کسی قریبی ٹیوب ویل یا چشمہ سے پانی برلینگے۔ لیکن قریب ٹیوب ویل کے پاس بندے تھے۔ ہم یہی انتظار میں تھے کہ ٹیوب ویل خالی ہوجائے تو ہم پانی کے لئے جائینگے۔ اور ہمارے پاس (چنتہ) سفری بیگ بھی ہے جس میں چائے بنانے کے سامان ہے لیکن پانی نہ ہونے کی وجہ سے ہم چائیے نہ بناسکے۔ یہ انتظار ختم نہیں ہوا کہ فوج پہنچ گیا۔ میں نے پوچھا نکلنے کا چانس ہے ؟ کیونکہ فراز جان پہلے بھی کئی میدان جنگ میں دشمن کو پیچھے دھکیل کر فتح یاب ہوکر نکلا ہے۔ لیکن اس نے کہا ہم ایک کمرے میں ہیں۔ چاروں اطراف پر دشمن نے مورچہ کیا ہے۔ میں نے کہا پھر آپ کے پاس کونسا آپشن رےگیا ہے۔ اس نے کہا ہمارے پاس بہت سے آپشن ہیں۔ ایسے حالت میں ہم آخری گولی تک جنگ کرسکتے ہیں۔ لڑسکتے ہیں، مرواسکتے اور مرسکتے ہیں۔ لیکن نکلنا بہت مشکل ہے۔ کیونکہ ہمارے سامان اور بندوقوں کے گولیاں بہت کم ہیں۔ اس نے بہادرانہ انداز میں کہا ہم پھر بھی کوشش کرینگے کہ رات تک جنگ کو برقرار رکھ سکے، یا دشمن کو پسپہ کردیں۔ اس کے بعد شائد کہ فتح یاب ہوجائے۔ یقیناََ یہ باتیں سن کر میں پرشان ہوگیا ۔ وہ میرے پریشانی دیکھ کر کہنے لگا پریشان مت ہوجاو اور مجھے حوصلہ دیتے ہوئے کہا یہ جنگ تسلسل ہے جو بلوچستان کے آزادی تک جاری رئے گا۔ اگر آج نہیں تو کل شہید ہونا ہے آج اس جنگ کو جیت کر نکل جائے کل کسی اور میدان جنگ میں شہیادت کا رتبہ پائینگے۔ میرا خوائش بچھنا نہیں بلکہ میرا فرض یہ ہے کہ جس مشن پر تنظیم نے مجھے زمہ داریاں سونپی ہے۔اُس مشن کو پائے تکمیل تک پہنچاکر دم لوں۔ لیکن اب یوں لگتا ہے کہ اس مشن کو شاید میں مکمل نہ کرسکوں ۔ لیکن مجھے یقین ہے یہ مشن میرے دوست ضرور پورا کرکے دم لینگے۔ وہ مجھے کچھ کہنے والے تھے کہ اس دوران گولیوں اور دھماکوں کی آواز زیادہ ہوگیا۔ مسلسل فائرنگ اور دھماکوں کی آواز گونج رئے تھے۔ اور یکدم فون کٹ ہو گیا۔ میرے پریشانی بہت زیادہ ہوگیا۔ تین گھنٹے بعد واپس فراز جان کے کال آیا۔ اور بولا کے وہ ہمارے قریب آئے تو ہم نے بھی ان پر شدید حملہ کردیا تھا۔ کئی ایف سی اہلکار مردار ہوئے ہیں جن کےلاشیں سامنے میدان پر پڑھے ہیں اور کچھ لاشیں لے جانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ اب ان کا دستہ بہت پیچھے چلا گیا ہے۔ لیکن ہمارے بندوق کے گولیاں بہت کم رئے گئے ہیں۔ تھوڑی خاموشی کے بعد اس نے کہا اگر میرے وجہ سے کوئی تکلیفی ہوا ہے تو مجھے دل سے معاف کرنا اور سارے دوستوں کو کہنا کہ مجھے بخش دیں۔ اور ہمیشہ کے لئے میرے لئے دعا کریں۔ تھوڑی خاموشی کے بعد کہا کہ وقت بہت کم ہے۔ ایک غیر مسلح دوست کے نام لیکر کہا کہ اُس کو میرے طرف سے بہت سلام دینا اور اسے کہنا کہ آپ کے بھائی آخری گولی تک دشمن سے لڑتا رہا۔ لیکن دشمن کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ حالانکہ دشمن لاؤڈ اسپیکر میں بار بار آواز دیتا ہے کہ سرنڈر کرو ہم آپ لوگوں کو نہیں مارینگے۔ لیکن میں اس مٹھی کے قسم کہاکر کہتا ہو کہ آخری گولی اپنے آپ پر چلاکر دم لونگا۔ لیکن دشمن کے سامنے جھک نہیں جاونگا۔ دوست کو بولنا آپ کے فراز اپنے دوست عمران کے ساتھ سرزمین کے لئے قربان ہوگیا ہے۔ اس دوران وہ وقفے وقفے سے فائر کرتا رہا۔ اور شہید عمران جان سے بھی مخاطب ہوتا رہتا اُس کو جنگی حکمت عملی کے کمانڈ دیتا رہتا۔ اس دوران بڑے بڑے دھماکوں کے آواز آئے، جو کئی منٹس تک خاموشی کے بعد واپس کہتا ،جان۔ میں جلدی بولتا جی جی۔ کیا ہوا فراز پُل ؟ اس نے تسلی بخش انداز میں کہا کچھ نہیں ہمارے اوپر مارٹر فائر کررئے ہیں۔ پھر کہا دشمن نزدیک آرئے ہیں۔ سنگت میں آپ کو پانچ منٹ بعد کال کرتا ہوں ذرا ان حرام زادوں کو پیچھے دھکیل دوں۔ اور فون کٹ ہوگیا۔ میرے کیفیت مت پوچھو ۔ جو اپنے جان کے ٹکڑے کو شہید ہوتے ہوئے محسوس کررہا تھا۔ اور اس کے آخری گولی کے انتظار میں تھا۔ اس دوران میرے دماغی کیفیت یاد ماضی کے طرف تیزی سے چلا گیا۔کہ فراز جان سے وہ کونسی غلطی سرزد ہوا ہے کہ مجھ سے معافی مانتا ہے۔ کب سے ہم نے ایک ساتھ زندگی گزارہ ہے غلطی دور کی بات اُس کے چہرے پر کبھی غصہ نہیں دیکا۔ وہ محبت کرنے والا فرشتہ صفت دوست تھا۔ پہاڑ ی(ڈوک) زندگی بہت تکلیف دہ اور مشقت انگیز ہوتا ہیں۔ ہر وقت جنگ کے لئے چاق و چوبند ہونے کے ساتھ ساتھ تنظیمی مشن اور کیمپ کے لئے راشن لانے کے لئے 6 سے 10 دن پیدل سفر کرتے تھے اس دوران بھوک، پیاس، سخت سردی ، شدید گرمی، بیماری اور دیگر ہزار پریشانی کے باجود شہید فراز جان نے کبھی بھی گلہ کرنے کا موقع کسی بھی دوست کو نہیں دیا۔ وہ سب کے بھوج اپنے ناتوام کندوں پر اکیلا برداشت کرتے تھے، کبھی بھی فراز جان سے ایسے بات سرزد نہیں ہوا کہ جس سے کسی کے دلازاری ہو کر بات غلطی اور معافی تک پہنچ جائے ۔ اُس کے مسکراتی منہ سے ہمیشہ “جی” کے علاوہ کوئی بات ہی نہیں نکلتا۔ وہ خاموش مزاج انسان تھا۔ ہم دوست اس کے باتوں کے لئے ترستے تھے۔ ہر وقت ہم اس کو تنگ کرتے تھے کہ کچھ بولو مجلس کرو۔ تاکہ آپ کے مٹاس باتوں سے ہمارے دل کو ٹھنڈک ملے۔ لیکن وہ مسکراہ کر باتوں کو ٹال دیتا۔ اس لئے مجھے بہت عجیب لگا کہ فراز جان جیسے دوست ایک ایک سنگت کا نام لے کر کہتا ہے کہ ان کو کہنا اپنا حق مجھ پر معاف کریں۔ میں یقین اور ایمان کے ساتھ کہتا ہوں جب سے فراز جان بلوچ قومی تحریک سے وابسطہ رہا ہے کسی بھی دوست کا حق آپ کے اوپر نہیں ہے۔ کیونکہ آپ ایک خاموش مزاج، مخلص، ایماندار ،دور اندیش، شعوری، پکری سنگت رئے ہو۔ پھر فراز جان کے کال نہیں آیا۔ جنگ تیز ہوگیا تھا۔ فراز جان وقتاََ فوقتاََ وائس ریکارڈ مجھے بیجھتے رئے۔ اور جنگ کی صورت حال سے مجھے آگاہ کرتا رہا اس دوران سنگت نے قوم اور فیملی کے لئے آڈیو اور ویڈیو پیغام بھی دئیے ، بلوچ قوم کے نوجوانوں سے مخاطب ہوکر کہا کہ عظیم سرزمین کے لئے جنگ جاری ہے۔ لہذا ہر بلوچ کا فرض بنتا ہے کہ اس عظیم بامقصد اور مقدس سرزمین کے لئے اس جنگ کا حصہ ہوکر اپنا فریضہ سرانجام دیں۔ تاکہ مادر وطن دشمن کے پنجون سے آزاد ہوجائے ۔ اور دنیا کے سامنے دوسرے مہذب اور باوقار قوموں کے پہلے صف میں شامل ہوکر ہمیشہ کے لئے زندہ رئے، اس کے علاوہ تنظیم کے ( مَڈی ) جنگی سامان جو شہید فراز کے ساتھ تھے ان کے تفصیل اور لوکیشن دیا ۔ اس کے علاوہ سارے دوستوں کے نام پر ضروری پیغام دیتے رئے، جس تنظیمی مشن پر وہ کار فرمان تھا اس کے بیڑہ آگے لے جانے کے لئے بھی دوستوں کو تفصیل دیا۔ اور کہا کہ دوستوں کو کہنا کہ میرے مشن کو پائے تکمیل تک پہنچانا اب تمھارے کندوں پر ہیں۔ وقت کے کمی کی وجہ سے وہ مزید رابطہ نہ کرسکا۔ اس کے آخری مسج شام 6 بجے کے وقت آیا۔ اور کہا کہ دوست الودع ۔ الودع۔ بلوچستان کے مٹھی ہمیں پکار رہا ہے۔ یہ میرا آخری وائس ہے، اس کے بعد ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ہم وطن کے مہک میں جذب ہوجائینگے۔کیونکہ اب ہمارے پاس گولیاں ختم ہوگیا ہے۔ ہم نے کمرے میں ایک آگ لگائی ہے۔ میں اپنے اور عمران کے موبائل جلا رہا ہوں ۔ تاکہ ہمارے موبائلوں کے ذریعے دوستوں کے راز دشمن کے ہاتھ میں نہ لگ جائے۔ اب اس (چندراہ) بُزدل دشمن خود قریب نہیں آتے ہیں ۔ ہیلی کاپٹر کے ذریعے شدید شیلنگ کررہے ہیں۔ اس صورت میں ہمارے پاس دو راستہ ہے پہلا یہ کہ دشمن کے سامنے سرنڈر کرکے لمبی زندگی جینے کا فیصلہ کریں۔ دوسرا یہ کہ اپنے آخری گولی اپنے آپ پر پیوست کرکے ایک نظریہ بن کر ہمیشہ کے لئے امرہوجائے چونکہ ہم نے فیصلہ کرلیا ہے کہ دوسرے آپشن استعمال کرکے اپنے ایک دیرانہ خوائش پورا کرینگے۔ اب وقت بہت کم رئے گیا ہے ۔ ہم مزید جنگ کو بغیر اسلح کے روک نہیں سکتے۔ شہید فراز اب بھی مکمل پُر اعتمادی سے بات کررہا تھا میرے آنسو نہیں روکے جارئے تھے روتے روتے بس اتنا بول سکا آپ اپنا حق ہم سب دوستوں پھر بخش دینا۔ آپ نے اپنا فرض اور حق ادا کردیا آپ پر نہ میرا کوئی حق ہے نہ دوستوں کا اور نہ ہی سرزمین کا رئے گیا، مجھ سمیت پوری بلوچ قوم آپ پھر فخر کریگا سب شہیدوں کو سلام کہنا، میں نے وائس سینڈ کردیا۔ شائد وہ میرے وائس کے انتظار میں تھا۔ یوں وائس کو سنا تو بغیر کوئی جواب کہ وہ آف لائن ہوا۔ میں اس حلال زادے وطن کے حلالی بہادر بیٹوں کے ہمت، حوصلہ اور بہادری کو لفظوں میں بیان نہیں کرسکتا ہو۔ شہید عمران جان جو کہ 19 سال کا نوجوان تھا جو کچھ وقت پہلے مسلح ہوگیا تھا۔ اس نے کبھی بھی ایسے دوبہ دو جنگ کھبی نہیں دیکھا تھا مگر ایک منٹ کے لئے بھی اس کےقدم نہیں لڑکڑائے۔ پختہ نظریہ، وسیع زہین شعور اور فکر کے ساتھ آخری حد تک دشمن کے ساتھ نمرد آزمہ رئے۔ ایک دم کے لئے بھی کمسن نوجوان کا حوصلہ پست نہیں ہوا وہ اپنے سنگت اپنے بازو طارق جان کے ساتھ دشمن سے آخری دم اور آخری گولی تک لڑتا رہا اور دشمن کو نفسیاتی طورپر شکست دیکر بلوچ قوم کے سر فخر سے بلند کردیا۔ دشمن کو معلوم ہے کے دو سرمچار تین سو گولیوں کے ساتھ بھوکے پیاسے آٹھ گھنٹے تک ہمارے ساتھ لڑتے رئے اور آخر کار بلوچ زادوں کو شکست دینے کے لئے ہیلی کاپٹرز اور بکتر بند گاڈیوں کے ساتھ سینکڑوں فوجی دستوں کے سہارہ لینا پڑھا۔ اس کے باوجود بہت سے ایف سی اس جنگ میں گوادئیے۔ شہید طارق جان اور شہید عمران نے بہادری کی ایک مثال قائم کر کے بلوچ نوجوانوں کے لئے پیغام چھوڑا کہ ( وطن یا کفن ) اور بلوچستان کے آزادی تک بلوچ قوم اپنے جانوں کا نزرانہ پیش کرتے رئینگے۔