ہمگام اداریہ

جدید تاریخ میں آزادی اور حقِ خود ارادیت کی تحریکیں شاذ و نادر ہی صرف دو فریقوں تک محدود رہتی ہیں۔ زیادہ تر حالات میں ”تین بنیادی کردار”سامنے آتے ہیں: قابض قوت، مقبوضہ قوم اور عالمی برادری۔ اگرچہ پہلے دو فریق براہِ راست جدوجہد میں مصروف ہوتے ہیں، لیکن اکثر تیسرا کردار، یعنی عالمی برادری، ہی وہ عنصر ہوتا ہے جو کسی آزادی کی تحریک کی کامیابی یا ناکامی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

دوسری جنگِ عظیم کے خاتمے اور 1945 میں اقوامِ متحدہ کے نظام کے قیام کے بعد عالمی برادری کا کردار مزید فیصلہ کن ہوتا گیا۔ آزادی کی تحریکیں شاذ و نادر ہی تنہا کامیاب ہوتی ہیں۔ سفارتی شناخت، بین الاقوامی سیاسی دباؤ، اقتصادی مدد اور جغرافیائی سیاسی اتحاد اکثر ان تحریکوں کے حتمی نتائج کا تعین کرتے ہیں۔

تاریخ میں اس کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ ویتنام کی آزادی کی جدوجہد میں بیرونی حمایت نے اہم کردار ادا کیا۔ روس اور چین دونوں نے ویتنامی تحریک کی نمایاں مدد کی، جس سے وہ طویل جدوجہد جاری رکھنے کے قابل ہوئے۔ اسی طرح انگولا کی جدوجہد میں بھی عالمی طاقتیں مختلف فریقوں کی حمایت میں شامل ہوئیں اور یہ تنازع سرد جنگ کے ایک اہم محاذ میں تبدیل ہوگیا۔ بیرونی طاقتوں کی شمولیت نے اس جدوجہد کے راستے اور اس کے نتائج دونوں پر گہرا اثر ڈالا۔

اسی طرح سابقہ یوگوسلاویہ کے ٹوٹنے کے عمل میں بھی عالمی طاقتوں کا کردار فیصلہ کن ثابت ہوا۔ امریکہ اور یورپی یونین کی سفارتی کوششوں، سیاسی حمایت اور مداخلت نے اس خطے میں نئی آزاد ریاستوں کے قیام کی راہ ہموار کی۔

1971 میں بنگلہ دیش کی آزادی کی مثال بھی اس حقیقت کو واضح کرتی ہے۔ اس جدوجہد میں علاقائی اور بین الاقوامی سیاسی عوامل نے اہم کردار ادا کیا۔ بھارت نے فوجی مداخلت کرتے ہوئے بنگالی آزادی پسندوں کی فیصلہ کن مدد کی، جس کے نتیجے میں پاکستانی افواج کو شکست ہوئی اور بنگلہ دیش ایک آزاد ریاست کے طور پر ابھرا۔ اسی طرح مشرقی تیمور کی آزادی بھی برسوں کی جدوجہد کے بعد ممکن ہوئی، جس میں عالمی برادری، خصوصاً اقوامِ متحدہ اور کئی ممالک نے سفارتی دباؤ، بین الاقوامی نگرانی اور امن فوج کے ذریعے اہم کردار ادا کیا، جس نے بالآخر آزادی کی راہ ہموار کی۔

یہ مثالیں ایک اہم حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ 1945 کے بعد سے عالمی برادری اکثر آزادی کی تحریکوں کی کامیابی میں فیصلہ کن عنصر ثابت ہوئی ہے۔ اس کی شمولیت یا حمایت کے بغیر آزادی کی تحریکوں کی کامیابی بہت کم دیکھنے میں آئی ہے۔

جب ایران اور پاکستان کے خلاف بلوچ آزادی کی جدوجہد کا جائزہ لیا جاتا ہے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ تاریخی طور پر عالمی برادری کا کردار محدود رہا ہے۔ طویل عرصے تک بین الاقوامی قوتیں یا تو خاموش رہیں، غیر جانبدار رہیں، یا انہیں ان ریاستوں کے ساتھ کھڑا سمجھا گیا جو بلوچستان پر قابض ہیں۔ عالمی سطح پر مؤثر توجہ کی اس کمی نے اس تحریک کے امکانات کو محدود رکھا۔

تاہم جغرافیائی سیاسی حالات مسلسل تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ عالمی سیاست میں اکثر یہ اصول کارفرما ہوتا ہے کہ “دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے”۔ جب عالمی طاقتوں کے درمیان رقابتیں تبدیل ہوتی ہیں تو ایسے مواقع پیدا ہوتے ہیں جن سے پہلے نظرانداز کی گئی تحریکیں بھی توجہ اور حمایت حاصل کر سکتی ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ پیش رفت کو اس بات کا اشارہ سمجھا جا سکتا ہے کہ بعض بین الاقوامی رقابتیں اس انداز میں تبدیل ہو رہی ہیں جس سے ایران پر دباؤ بڑھ رہا ہے، اور اس کے نتیجے میں بلوچ قوم کے مؤقف کو عالمی سطح پر زیادہ توجہ ملنے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔

ایسے حالات میں سیاسی تنظیم اور عوامی حمایت انتہائی ضروری ہو جاتی ہے۔ جو تحریکیں عالمی حمایت حاصل کرنا چاہتی ہیں انہیں مضبوط اور واضح سیاسی وژن، مؤثر قیادت اور تنظیمی ہم آہنگی کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے، اور دنیا کو یہ یقین دلانا ہوتا ہے کہ پوری قوم ان کی قیادت میں متحد ہے اور آزادی کے نعرے کو اپنا چکی ہے. اس صورت میں ایران اور پاکستان سے *متحدہ بلوچستان کی آزادی*۔ جب پوری قوم آزادی کے مطالبے پر متحد ہو جائے تو اس سے سیاسی جماعت یا تحریک کی ساکھ اور صلاحیت مضبوط ہوتی ہے اور وہ عالمی برادری کے سامنے اپنے مؤقف کو زیادہ مؤثر اور منظم انداز میں پیش کر سکتی ہے۔

اسی تناظر میں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ ایک منظم سیاسی تحریک کے بغیر، انتشار، غیر واضح اہداف، نظم و ضبط کی کمی اور اندرونی اختلافات کسی بھی تحریک کی ساکھ اور وقار کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، چاہے وہ اندرونی سطح پر ہو یا بین الاقوامی سطح پر۔ ایسی کمزوریاں نہ صرف تحریک کی داخلی طاقت کو متاثر کرتی ہیں بلکہ عالمی برادری کے سامنے اس کی سنجیدگی اور اعتبار کو بھی کمزور کر دیتی ہیں۔

اس سلسلے میں فری بلوچستان موومنٹ (FBM) نے بین الاقوامی اور مقامی سطح پر بلوچستان کے مسئلے کو اجاگر کرنے کے لیے قابلِ ذکر کوششیں کی ہیں۔ تاہم یہ کہ آیا یہ کوششیں وسیع تر بین الاقوامی حمایت میں تبدیل ہوں گی اور آیا آزادی کی جدوجہد کامیابی حاصل کرے گی یا نہیں، اس کا زیادہ تر انحصار اس بات پر ہے کہ بلوچ قوم اس سیاسی تحریک کو کس حد تک اپنی حمایت فراہم کرتی ہے۔

تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ عالمی سیاست میں تبدیلی کے لمحات غیر متوقع مواقع پیدا کرتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا بلوچ قوم اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے متحد ہو کر اپنی آواز کو مضبوط بنائے گی اور اپنی جدوجہد کو دنیا کے سامنے اتحاد، عزم اور واضح مقصد کے ساتھ پیش کرے گی۔