شال :(ہمگام نیوز) بلوچ یکجہتی کمیٹی نے 18 سالہ طالبعلم ضمیر ڈگارزئی کے ماورائے عدالت قتل کی مذمت کی ہے۔ انہیں 3 مارچ 2026 کو حراست میں لے کر آٹھ روز تک لاپتہ رکھا گیا، جس کے بعد 11 مارچ کو لاش برآمد کی گئی۔ بی وائی سی کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں ماورائے عدالت قتل اور جبری گمشدگیاں بلوچ نوجوانوں کو نشانہ بنا کر منظم پالیسی کے تحت ہورہی ہیں۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے پنجگور سے تعلق رکھنے والے 18 سالہ طالبعلم ضمیر ڈگارزئی بلوچ کے ماورائے عدالت قتل کی شدید مذمت کی ہے۔

 

انہوں نے کہا ہے کہ پنجگور کے رہائشی ضمیر بلوچ ولد ناصر ڈگارزئی کو 3 مارچ 2026 کو پنجگور کے علاقے چتکان کے مقام تار آفیس سے ڈیتھ اسکواڈز نے حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کر دیا تھا۔ آٹھ روز تک لاپتہ رہنے کے بعد 11 مارچ 2026 کو ان کی لاش پنجگور کے علاقے سے برآمد ہوئی۔

 

بی وائی سی کے مطابق یہ واقعہ متاثرہ خاندان کی طویل اور المناک تاریخ کی عکاسی کرتا ہے۔ ضمیر کے والد ناصر کو بھی 2011 میں جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا۔ بعد ازاں انہیں گولیاں مار کر لاش پھینک دی گئی تھی، تاہم وہ زندہ بچ گئے اور علاج کے بعد دوبارہ جبری گمشدگی کا شکار بنا کر بالآخر قتل کر دیے گئے۔ آج اسی ظلم کا تسلسل ان کے بیٹے کے ساتھ بھی دہرایا گیا ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کا سلسلہ ایک منظم پالیسی کی شکل اختیار کر چکا ہے، جہاں بلوچ نوجوانوں اور طلبہ کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔   تنظیم نے سوال اٹھایا کہ آخر وہ کون سا ریاستی نظام ہے جو اپنے ہی شہریوں کے ساتھ اس طرح کے جرائم کی اجازت دیتا ہے۔ پنجگور میں بلوچوں کی لاشیں پھینکنے کے واقعات معمول بنتے جا رہے ہیں، جو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ بی وائی سی نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا فوری نوٹس لیں اور بلوچ عوام کے تحفظ اور انصاف کے لیے کردار ادا کریں۔