بلوچستان کے مقابلے میں جغرافیائی طور پر ایک بہت چھوٹا ملک، متحدہ عرب امارات، آج عالمی تنازعات کے حل کا ایک مؤثر avenue بن چکا ہے۔ یہ ہمارا ہمسایہ ملک ہے۔ برطانوی غلامی سے آزادی کے بعد اس ملک کے قبائلی سرداروں نے اپنی سرزمین کو اپنے گھر کی طرح سنوارا اور اپنی قوم کے ہر فرد کو family members کی طرح پرورش دی۔ آج یہی ہمارا ہمسایہ ملک ترقی کی اُس بامِ عروج پر پہنچ چکا ہے جسے دیکھ کر ایک ترقی یافتہ یورپی ملک بھی رشک کرتا ہے۔

اس کے برعکس ہم انگریز کی غلامی سے نکل کر پنجابی اور ہندوستانی مسلمانوں (مہاجر) کے نرغے میں آ گئے۔ پہلے ہمیں “راسخ اچھا مسلمان” بنانے کی مہم شروع کی گئی، ہماری بلوچی شناخت مٹانے کے لیے ہر طرح کی tactics آزمائی گئیں۔ ہمارے سرداروں کو بلیک میل کر کے ایسا غلام بنایا گیا جس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ سرداروں کے ساتھ ساتھ ہمارے متوسط طبقے یعنی وہ تعلیم یافتہ بلوچ نوجوان جو نسبتاً بہتر سیاسی زندگی کی تمنا رکھتے تھے، کو بھی گھر کا لونڈی بنا کر پیش کیا گیا کہ “یہ لو، تمہارا نمائندہ”۔ انہی کرپٹ عناصر کے ذریعے دنیا کو یہ باور کرایا گیا کہ یہی بلوچ کے حقیقی نمائندے ہیں۔

دوسری طرف بلوچ وسائل کو لوٹ کر پنجابی جرنیل Punjab Empire State کے لیے ایٹم بم بناتے رہے، اور بلوچستان کو ایک منظم containment policy کے تحت مسلسل پسماندہ سے پسماندہ تر رکھا گیا۔

اب اس غلامی کے اس vicious circle سے نکلنے کا واحد راستہ بلوچ کی اپنی قومی قوت ہے۔ میں ہمیشہ “قومی قوت” لکھتا آیا ہوں، کیونکہ میں کسی غیر نظریے کا مخالف ہوں۔ میں کسی نظریاتی بکواسیات کے چکر میں نہیں پڑنا چاہتا۔ میرا نظریہ فقط بلوچ ہے، اور فقط بلوچ قومی قوت کا نظریہ ہی سب سے بڑا نظریہ ہے۔

اس شیطانی چکر سے نکلنے کے لیے لازماً ہمیں مخصوص club lines سے نکل کر قومی سطح کی قوت درکار ہے۔ لیکن ہم بدقسمتی سے ماضی کے چکروں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ہماری سوچ ناکام طبقاتی تصورات پر اٹکی ہوئی ہے۔ اسی لیے ہمیں ماضی کی منفی سوچ اور ناکام تجربات سے باہر نکلنا ہوگا۔

تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی بلوچ قومی شعور اور قومی قوت کو متحد کرنے کی کوشش کی گئی، وہاں متوسط کی رگ پھوٹ پڑی۔ جب BSO کی بنیاد اس نظریے پر رکھی گئی کہ قومی شعور کو بیدار کیا جائے، تو نرسری کا یہ پودا پھل دینے سے پہلے ہی متوسط کے نعرے کی لائن پر تقسیم کر دیا گیا۔ یہ تقسیم آج تک Fragmentation متواتر بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ بی ایس او کو سب سے پہلے عبدالرحمن ظفر، صابر بلوچ اور امان اللہ گچکی نے “متوسط اور اینٹی سردار” کے نام پر تقسیم کیا ، پھر ڈاکٹر کہور، رازق بگٹی اور حبیب جالب نے اسی لائن پر “مزدور اینٹی قبائل” کے نام سے BSO کو تقسیم کیا۔ نتیجتاً قومی قوت کبھی ایک جگہ مرتکز نہ ہو سکی۔

جب موجودہ تحریک کی بنیاد رکھی گئی تو سابقہ کمانڈروں اور BSO زادوں کو بلا کر دعوت دی گئی کہ آئیں اس تحریک میں شامل ہوں۔ مگر یہاں بھی وہی and anti-tribal party politics کے نام پر اپنا الگ ڈیڑھ اینچ کا مسجد نما ڈھانچہ کھڑا کر کے درمیان میں دراڑ کی لکیر کھینچ دی گئی۔ ابتدا میں یہ لکیر اتنی واضح نہیں تھی اور اندرونی طور پر ایک coordination کا سلسلہ جاری تھا، لیکن وقت کے ساتھ تھوڑی سی طاقت ہاتھ آتے ہی یار دوستوں نے اس دراڑ کو اتنا وسیع کر دیا کہ اب انہیں قریب لانے میں شاید کوئی غیبی طاقت ہی مددگار ہو۔

وہ خیالات اور جذبات کہ ہم تحریک کی قومی قوت کو متحد کریں گے، ایک متبادل ریاستی قوت کے طور پر ابھریں گے، ثانوی معاملات میں نہیں الجھیں گے اور بلا تفریق تحریک کو قومی لائن پر استوار کریں گے سب خاک میں مل گئے۔ معمولی اختلاف کو ہوا دے کر دھڑلے سے ایک تنظیم بنا لی گئی، ایک پارٹی بنا لی گئی، اور اب تقریباً سب پارٹیاں exclusive clubs بن چکی ہیں۔

قومی قوت کی اس تقسیم کا خمیازہ آج بلوچ عورتیں اور نوجوان کمزور پوزیشن کی صورت میں بھگت رہے ہیں۔ اور نوجوانوں سے متوار یہی فرمائش ہو رہی ہے کہ آپ قربانی دو۔ بھئی آپ کی فرمائش سر آنکھوں پر لیکن وہ پلیٹ فارم تو فراہم کرو جہاں افرادی قوت کی نقصانات کم محاصل زیادہ ہوں۔ پتہ نہیں اس equation کی کوئی شعور ہے یا میرا پارٹی میرا تنظیم کی اجارہ داری کا ھوس۔

ہم کیا چاہتے تھے؟ کہاں جانا چاہتے تھے؟ ذرا تصور کیجیے کہ موجودہ دور میں، جب ہمارے گھر کے اندر ہی (ایرانی مقبوضہ بلوچستان) میں عالمی قوتوں کی مداخلت ہونے جا رہی ہے، اور ہماری ’’قومی قوت‘‘ موجود ہی نہیں کہ ہم ایک ناگزیر قوت کے طور پر reckon (شمار) ہو سکیں۔ تو پھر اس کی وجہ کیا ہے؟ ذمہ دار کون ہے؟ ظاہر ہے، ذمہ داری کسی نہ کسی پر تو عائد ہوگی۔ ہم ایک جغرافیہ میں ہیں، مگر شعوری طور پر الگ سوچھتے ہیں۔ اس لیے آپ بھی سوچیں اور ہم بھی سوچیں۔