لکم دینکم ولی دین یعنی سب کا اپنا اپنا دین کے تصور کو لیکر جب ہم اپنی نجات کے راہوں کے بارے سوچھتے ہیں تو مسئلہ یہ پیش آتا ہے کہ اسی تصور یا نظریہ یعنی سب کا اپنا اپنا دین ہے نے قوم کی اجتماعی قوت کو منتشر کیا ہے۔ وہ یوں کہ پارٹیوں یا تنظیموں کی وجود کا تصور یہ بتاتی ہے کہ قوم کی اجتماعی قوت انہی پارٹیوں یا تنظیموں کی شکل میں وجود تو رکھتی ہے لیکن الگ الگ پارٹیوں اور تنظیموں کی شکل میں منقسم و متشر بھی ہے۔ ہم ایک آزاد قوم نہیں ہیں بلکن ایک مقبوضہ قوم ہیں۔ روایتوں کے بنیاد پر تنظیم کاری اور انکی تشکیل مقبوضہ قوم کی جہد آجوئی کے تقاضوں کو پورہ نہیں کرتے۔
بقول سابق امریکی صدر رونالڈ ریگن کے‘‘ کمزوری جارحیت کو دعوت دیتی ہے’’، بلوچ قوم پاکستانی اور ایرانی جارحیت کے شکار ہیں، طاقت کو صرف طاقت ہی روکھ سکتی ہے، بلوچ قوم کا ایک قومی طاقت ہے لیکن وہ منقسم و مفقود ہے۔
جبکہ دوسری طرف ازاد ریاست کی شکل میں کسی بھی قوم کی اجتماعی قوت اس کی قومی اداروں یعنی قومی پارلمنٹ، قومی معیشت اور قومی فوج کی شکل میں وجود رکھتی ہے۔ اگر کوئی آزاد قوم جنگ جانے سے پہلے اپنی قومی معیشت اور عسکری قوت کو دیکھتی ہے۔ ہمارے پاس قوم کی اجتماعی قوت کے حامل بنیادی اہم ادارے یعنی قومی معیشت اور قومی فوج نہیں ہے، ہماری قومی قوت کمزور ڈانچوں والے تنظیموں کی شکل میں منقسم ہیں۔ اور بد قسمتی سے مجھ جیسے عقل کے اندھے انہی شمبلان شمبلان تنظیموں کو قومی ادارہ بھی گردانتے ہیں۔ موجودہ پارٹیاں اور تنظیمیں اگر مضبوط شکلوں میں ہوتیں تو کچھ ڈھارس بندھا جاتا لیکن بقول پنجابیوں کے آوے کا آواہ ہی بگڑ چکا ہے۔
موجودہ دور میں قومی ترجیحات اور قومی پالسیوں کا از سر نو تعین کا سوال بھی ابھر چکا ہے۔ انکے بارے انفرادی طور پر فیصلہ لینا ممکن نہیں جبتک اس میں قومی اپروچ شامل نہ ہو۔
تحریک آزادی کے متحرک تریں اور سنئرتریں جہدکاروں کو اپنی اپنی چینلوں کے زریعے اس بات کو اپنے لیڈروں کے ہاں گوشگزار کرانا چاہے کہ اجتماعی طاقت کا حصول انتہا ناگزیر ہوچکی ہے۔ موجودہ تمام انفرادی پارٹیاں اور تنظیمیں قومی تحریک کے تقاضوں، لوازمات اور ضروتوں کو پورہ کرنے سے قاضر ہیں۔ قومی تحریک کی لوازمات اور تقاضوں کی پورہ کرنے کیلئے چار سادے مگر اہم و بنیادی فیصلے کرنے ہونگے۔
سب سے پہلے تمام آازاد پسند اسٹیک ہولڈرز ایک امبریلہ آرگنائئزئشن کے تحت جمع ہوں یہ امبریلہ آرگنائزیشن تمام اسٹیک ہولڈروں کے نمائندوں پر مشتمل ایک نمائندہ قومی کونسل تشکیل دے جس کی حیثیت ایک پارلمنٹ کی ہو اور یہ پارلمنٹ ایک جلا وطن حکومت کا چناؤ کرے۔ اس کے ساتھ ہی قومی فوج کا تشکیل ایک مشترکہ کمانڈ اینڈ کنٹرول کے تحت انجام پائے۔انہی اداروں کی تشکیل کے بعد بلوچ کیلئے دنیا سے کمک اور سپورٹ کا حصول بہت آسان ہوگا۔ اور قوم کو کم از کم نفسیاتی بھی رلیف ملے گی۔















