شاید کسی معصوم کی آخری چیخ تھی جس نے اسے جگا دیا تھا یوں تو یہاں وقفے وقفے سے چیخ و پکار کی آوازیں آتی رہتی تھیں لیکن وہ ان سب کی عادی نہیں تھی کیوں کہ آج اس گیارہ سالہ دروشم کی یہاں پہلی تھی آج ظلم کے داستان نے کچھ پنوں کا تقاضا اس کی زندگی سے بھی کیا تھا دو گھنٹے پہلے جنسی زیادتی کے بعد وہ بے ہوشی کی حالت میں یہاں پھینکی گئی تھی اندرونی چوٹوں اور ناک زمین پر لگنے سے ناک کی ہڈی بھی ٹوٹ گئی تھی جس سے خون بہتے ہوئے اس کے منہ اور گالوں پر آکر شدید سردی کی وجہ سے جم گئی تھی وہ زخموں سے چور تھی آنکھ اندھیری سیاہ کمرے میں کھلی تو اسے لگا کہ شاید وہ اس حادثے میں اپنی آنکھیں بھی گوا بیٹھی ہے پھر اُسے ایک دھندلاتی ہوئی روشنی سیل کے دروازے کے نچلے حصے کی زمین پر پڑتی ہوئی نظر آئی جو شاید کسی فوجی درندے کے ہاتھ میں پکڑی سرچ لائٹ کی تھی جو وہ آنکھوں میں زخموں کی وجہ سے اچھی طرح دیکھ بھی نہ پائی اب جوں جوں اسے ہوش آتا گیا وہ اپنے زخموں سے چور بدن میں درد کی شدید لہر کو شدت سے محسوس کرنے لگی تھی جس وجہ رونے لگی اس کے ساتھ بیٹھی سہمی ہوئی ماہکان نے اسے سنبھالنے کی کوشش میں حرکت کی تو دروشم کو احساس ہوا کہ صرف میں ہی اس جہنم میں اکیلی نہیں یہاں اور کئی زندہ لاشوں کا بھی وجود ہے جو کمرے کے ایک کھونے میں خود کو فروری کی سخت سردی کی لہر سے بچانے کی کوشش میں بیٹھی ہوئی تھیں یہاں سردی سے بچنے کیلئے ہیٹر کا تو تصور بھی نہیں تھا ہیٹر تو ان کمروں میں افسروں کی سہولت ہوتا جہاں ان بہنوں سے زیادتی کی جاتی تھی جہاں جانے سے ان کیلئے موت بہتر تھی فوجی درندوں کو غلام قوم کی ان بہن بیٹیوں کا کیا خیال انہیں تو محض وہ شکار کی مانند سمجھتے وہ بھلا کیا انہیں یہاں سردی سے بچانے کیلئے کچھ مہیا کرتے وہ تو انہیں انسان ہی نہیں سمجھتے تھے وہ تو انہیں اپنی اور اپنے افسروں کے حوس کی خاطر مہینوں سے یہاں انہیں قید کرتے تھے اکثر لڑکیاں شدید ٹھنڈ سے بیمار ہوکر مر جاتی تھیں کچھ خود کو بھوکا رکھ کر ختم کرنا چاہتی تھیں اور جو لڑکیاں یہاں سردی سے بچ جاتیں انہیں حاملہ ہونے تک یہاں زندگی جیسے تلخ زہر کو پینا ہوتا تھا جب کوئی حاملہ ہوجاتی تو فوجی اسے مار کر اپنے بھوکے کتوں کو کھلاتے یہاں سے آزادی صرف موت ہی کی صورت میں مل سکتی تھی انہی زندہ لاشوں میں سے ماہکان بھی ایک تھی جسے بھی اپنی موت کی باری کا انتظار تھا ماہکان یونیورسٹی کی طالب علم تھی جسے کچھ مہینوں پہلے اسکے گاوں سے اغوا کر لایا گیا تھا ماہکان سے معصوم دروشم کا رونا سہا نہ گیا اور وہ ہاتھوں کے بل کھسکتے ہوئے اس کے پاس دلاسہ دینے آگے بڑھی تھی یہاں تو رونے بھی نہیں دیا جاتا تھا کہیں فوجی درندے سیل سے باہر اس کی آواز سن کر اسے مزید تشدد کا نشانہ نہ بنائیں اس لیے ماہکان اس کو چھپ کرانے آئی تھی ماہکان اس گپت اندھیرے میں دروشم کے زخموں سے انجان تھی اس نے اسےاٹھانے کی کوشش کی اس دوران ماہکان کا ہاتھ دروشم کی گردن کی پر چھوٹ پر پڑی تکلیف کی شدت سے وہ چیخ اٹھی مالکان نے فوراً اپنا ہاتھ اس کے منہ پر رکھ دیا کیونکہ کے آواز سننے بعد جو وہ کرتے اس کا تجربہ وہ پہلے کئی بار دیکھ چکی تھی ماہکان نے دھیرے سے کسی طرح دروشم کے سر کو اٹھا کر اپنی گود میں رکھا اور سردی سے کانپتا ہوئے ہاتھ اس کے سر پر پیر کر خاموشی سے اسے دلاسہ دے کر چھپ کرانے لگی لیکن سردی کی وجہ سے تکلیف میں اور بھی اضافہ ہونے لگا تھا وہ چیخ چیخ کر رونا چاہتی تھی لیکن رو نہیں پا رہی تھی شاید چیخنے چلانے سے اس کا گلہ بیٹھ گیا تھا جسکی وجہ سے گلے میں شدید درد محسوس کر رہی تھی بس سسکیوں کی ہی آوازیں آ رہی تھی کچھ دیر بعد ماہکان نے کانپتے ہوئے آواز میں جھک کر اس سے دھیرے سے پوچھا تمارا نام کیا ہے؟ کون ہو تم؟ کہاں سے ہو؟ کیا ہوا تمارے ساتھ؟؟ جس پر دروشم مزید رونے لگی شاید اسے ان مظالم کو بیان کرنے الفاظ نہیں مل رہے تھے ماہکان نے اپنا ہاتھ پھر سے اس کے منہ پر رکھ دیا تاکہ کمرے سے باہر کوئی اس کی آواز نہ سن سکے اور اس سے آہستہ رونے کا کہا وہ کچھ پل روتی رہی اور روتے ہی اس نے اپنا تعارف کروایا میرا نام دروشم ہے میں سوراب کی رہنے والی ہوں ہم کراچی گئے تھے واپسی پر میرے اور میرے بڑے بھائی کوچ میں آ رہے تھے کہ راستے میں کوچ کو ایف سی کی گاڑیوں نے روک دیا کوچ میں داخل ہوئے اور سب سے اترنے کا کہا میں اور میرے بھائی بھی اتر گئے وہ سب سے بدتمیزی کر رہے تھے یہاں تک کہ بزرگوں اور عورتوں کو بھی نہیں بخشا انھوں نے سب کے شناختی کارڈ چیک کیے ان کے ساتھ سیول کپڑوں میں ملبوس لوگ تھے جنہوں نے اپنے بدصورت چہرے کالے کپڑے سے کور کیے ہوئے تھے جو خفیہ ایجنسی کے کارندے تھے انہوں نے کچھ نوجوان لڑکوں کو سائڈ میں کڑا کر کے باری باری پوچھ گچھ کی ان نوجوانوں میں میرا بھائی شامل تھا شناختی کارڈ بار بار چیک کرکے مختلف سوال کیے گئے بھائی نے جواب دینا چاہا تو کارندے نے اسے تھپڑ مار کر گالیاں دیتے ہوئے کہا کہ اسے گاڑی میں ڈالو بھائی نے جانے سے انکار کیا تو اسے بندوق کے بٹ، لاتوں اور مکھوں سے مار مار کر زمین پر گرا دیا گیا جس پر میں ان کے پاس اپنے بھائی کو ان اس چھڑوانے گئی جس پر مجھے بھی سینے پر لات مار کر گرا دیا پریشانی میں مجھے درد کا احساس بھی نہیں ہوا میرے زہن میں اس وقت صرف یہی یہی تھا کہ کسی بھی طرح سے بھائی کو چڑوا لوں میں پھر بھائی کی پیچھے گئی تو ان کے افسر نے کہا اس لڑکی کو بھی لے آؤ کل یہ بھی ہمیں بدنام کرے گی جس پر انہوں نے مجھے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے کالے شیشوں والے ویگو گاڑی میں ڈال دیا میری آنکھوں پر پٹی کس کر باندھ دیا گیا اب مجھے صرف آوازیں ہی سنائی دے رہی تھیں ان کے افسر نے گالی دیتے ہوئے پنجابی میں کچھ کہا اور پھر مجھے اپنے بھائی کی زور سے چیخ سنائی دی مجھے لگا ان درندوں نے اسے مار ڈال دیا اسی دوران میرے ہاتھ کو پکڑ کر مجھے کچھ سونگھا دیا گیا جس سے میں بے ہوش ہو گئی، دروشم روتے ہوئے سسکیاں لیتے ہوئے یہ سب سنائی جا رہی تھی
ور ماہکان بھی اس کی باتیں غور سے سنتی جا رہی تھی اسے کوئی حیرت نہیں ہوئی کیونکہ یہاں آئی ہو بہنوں کے داستانیں اس بھی بدتر تھیں، دروشم نے روتے ہوئے مزید بتایا کہ جب میں ہوش میں آئی تو میرے آنکھوں پٹی کس کر باندھ دینے کی وجہ سے رومال میرے ناک کی کال کو چھیر کر گوشت کے اندر گھس گئی تھی جس کی وجہ سے میں بے حد تکلیف میں تھی لیکن مجھے خود سے زیادہ بھائی کی فکر تھی میں نے بھائی کو روتے ہوئے پکارا ان فوجیوں میں سے جو میرے ساتھ کھڑے تھے ایک نے میری نکل اتاری تو باقی درندے بھی ہنس پڑے اور مجھے یہ کہا گیا کہ تمہارے بھائی کے ٹکڑے بھی کر دیے ہونگے صاحب نے یہ سن کر میں بہت روئی انہیں برا سے برا کہا لیکن ان کی ہنسی برقرار رہی میں جتنا روتی مجھے کم لگتا ان کے قہقہوں میری آواز اتنی ڈھوب جاتی کہ مجھے خود ہی سنائی نہ دیتی اسی دوران بوٹوں کی آہٹ سنائی دی تو وہ چھپ ہوگئے کوئی افسر کمرے میں داخل ہوا تھا کمرے میں داخل ہوتے ہی اسکی بوٹوں کی آواز قریب سنائی دی وہ میری طرف لپکا اور مجھے سر پر ایک لات دے مارا جس سے میرا سر دیوار سے ٹکرایا پھر اس نے پنجابی میں کچھ بات کی اس آواز سے میں نے پہچان لیا کہ یہ وہی فوجی افسر ہے جس نے مجھے اور بھائی کو اٹھانے کا حکم دیا تھا اس نے پھر کسی سپاہی سے کہا کہ اس کی آنکھیں کھول دو سپاہی آگے بڑھا میری آنکھیں کھولیں تو میں ایک کمرے میں تھی جہاں دیواروں پر ہر جگہ لہو کے بہنے کے نشانات تھے کچھ نشان تو ایسے بھی تھے کہ لگ رہا تھا کہ وہ لوگوں کو پکڑ کر ان کے سر یہاں پٹک دیا کرتے تھے کہیں کیلوں کے ساتھ گوشت ٹکرے بھی دیوار سے لٹک رہے تھے کمرے میں بجلی کی ننگی تاروں کے ساتھ ساتھ خون آلود رسیاں بھی لٹک رہی تھیں جن سے وہ لوگوں کو لٹکا کر کرنٹ اور مختلف اذیتوں سے گزارتے ہوں گے ساتھ ہی کچھ فاصلے پر ایک خون سے لال ایک کرسی پڑی تھی جس کے نیچے کسی کے گوشت سے چمٹے ناخن اور تازہ خون چمک رہا تھا کرسی کے پیچھے دیوار پر گولیوں کے نشانات پر بھی خون تھا جیسے کچھ دیر پہلے ہی یہاں کسی کو موت کی نیند سلا دیا گیا ہو اور پھر زمین پر اسکے گھسیٹے جانے سے خون کے نشان کچ گئے تھے کرسی کے ساتھ ہی میں ایک لمبی سی ٹیبل تھی جس قسم قسم کے اوزار پڑے تھے جنہیں دیکھ کر دل کر رہا تھا کہ کسی طرح ان تک پہنچ جاؤں کوئی نوکیلا اوزار اٹھا کر اٹھا کر ان درندوں کے سینے چھیر ڈالوں اور اپنے بھائی کابدلہ لے لوں میرا خوف ان درندوں سے ختم ہو چکا تھا لیکن میرے ہاتھ اتنے سخت باندھ گئے تھے کہ ان میں خون جم گیا تھا جس کی وجہ سے وہ سن ہوچکے تھے پیروں میں ٹھیک سے کڑے رہنے کی صلاحیت باقی نہ رہی تھی فوجی افسر نے سپاہی سے کہا کہ اسے بھی لے آ سپاہی باہر چلا گیا میں نہیں سمجھی کہ وہ کس کی بات کر رہا ہے میں کمرے کو دیکھ کر یہاں ہونے والی ظلم کا اندازہ لگانے لگی جہاں انسانی زندگیوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک کے بعد ان کو ابدی نیند سلا دیا جاتا تھا ٹارچر کے لیے ہر طریقہ آزمایا جاتا تھا یہاں انسانی تکلیف کی حد کیا ہوگی جس سے دیکھ کر یہ اذیت دینے سے رک جاتے ہونگے میں انہی سوچوں میں تھی کہ کمرے فوجی سپاہی گھسیٹتے ہوئے لاتیں مارتے ہوئے میرے بھائی کو کمرے میں لے آئے وہ نیم بے ہوشی کی حالت میں تھا اس کی کمیز اتار دی گئی تھی چہرہ پہچان میں نہیں آ رہا تھا منہ ناک اور کان سے خون بہہ رہا جسم پر کئی جگہ کسی تیز دھار سے کاٹے جانے کے نشان تھے بندھے ہوئے دونوں ہاتھوں کی مختلف انگلیوں کو شاید ہتھوڑی مار کر مسخ کیا گیا تھا بھائی کو دیکھ کر میرے دل میں یہی آ رہا تھا کہ وہ اسے وہیں ایک ہی جھٹکے میں ختم کردیں تاکہ وہ ان اذیتوں سے بچ سکے جو اسے یہاں دیے جانے تھے سپاہیوں نے اس زمین پر الٹا پھینک دیا جس اسکا چہرہ زمین پر جا لگا فوجی افسر بھائی کے پاس گیا اس کو بالوں سے پکڑ کر اوپر کیا اور کہا کہ دیکھو کیوں تم لوگوں کو مرنے کا اتنا شوق ہے میں نے تمہیں سب کچھ دینے کا وعدہ کیا پیسوں اور سیکورٹی دینے تک کا کہا تم نے اپنے راز نہیں اُگلے کتنا مارا ہے تمہیں اب بھی وقت ہے بتا دو ورنہ تمارا حشر یہاں تماری بہن بھی دیکھے گی اور پھر جو اسکے ساتھ ہوگا وہ تم نہیں دیکھ نہیں سکو گے بھائی میری عزت کو بچانے کے لیے راز بتا تو سکتا تھا لیکن اس نے رازداری کی ٹان لی تھی منہ نہیں کھولا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اگر وہ اپنی بہن کی آبرو بچانے کیلئے راز فاشی کردیگا تو اس کے فکری دوستوں کو ان اذیتوں کا سامنا کرنا پڑتا اور ایک عظیم قومی مقصد کی تکمیل میں وقتی رکاوٹ اور اپنی بہن جیسی ہزاروں بہنوں کی آبرو کو خطرہ نہیں ٹل جاتا افسر نے پھر سپاہیوں سے کہا کہ اس کو تھوڑا رگڑا دو یہ سننا ہی تھا کہ سپاہی میرے بھائی پر ٹوٹ پڑے اسکے سینے اور سر میں بڑے فوجی بوٹوں سے لاتیں اور بندوق کے بٹ سے اسے مارنے لگے بھائی نے رسی سے بندھے ہاتھوں سے سر کو بچانے کی کوشش اور وہیں لیٹے ہوئے خود میں سمٹ گیا بھائی کا یہ حال مجھ سے دیکھا نہیں جا رہا تھا میں نے بھائی طرف بڑھنے کی کوشش کی تو ساتھ ہی کھڑے فوجی نے بالوں سے پکڑ کر مجھے دیوار کے کونے میں دے مارا جس سے دیوار پر لگی کیل نے میرے گردن کو زخمی کر دیا میں روتے ہوئے ان سے رحم کی بھیک مانگ رہی تھی اور دل ہی دل میں خدا سے بھی دعا گو تھی کہ اس درندے کے دل میں رحم آ جائے لیکن بھائی کی تکلیف سی نکلنے والی چیخیں رکنے کا نام ہی نہیں رہیں تھیں افسر نے کہا بس کرو فوجی سپاہی رک گئے اور ایک مرتبہ پھر سے بھائی کے بال پکڑ کر سر اوپر کیا تو چہرے پر سردی سے جم جانے والے زخموں سے تازہ لہو بہہ رہا تھا پھر پوچھا کہ اور کون کون ہیں تنظیم میں اور کیا منصوبہ ہے تم لوگوں کا بھائی جسمانی لحاظ سے کمزور ضرور تھا لیکن زہنی حوالے کافی مضبوط تھا اس نے رازدار رہنے کا تہیہ کرلیا تھا بھائی کے کچھ نہ بتانے پر افسر غصے سے لال پیلا ہونے کے ساتھ ساتھ بہت بے بس بھی دکھائی دے رہا تھا بھائی کا غصہ اپنے ہی سپاہیوں پر پنجابی گالیاں دے کر نکالنے لگا تھا کیونکہ بھائی سے وہ جو معلومات لینا چاہتا تھا
ہ اسے نہیں مل رہا تھا وہ وہ اسی غصے اور بے بسی کے ساتھ وہ ایک کرسی پر بیٹھ گیا جیب سے سگریٹ نکال کر سلگایا اور سر پر ہاتھ رکھ کر جھک کر بیٹھ گیا اور راز نکالنے کے لیے کوئی دوسرا طریقہ سوچنے لگا، اس درندے کی یہ حالت دیکھ کر لگ رہا تھا کہ وہ آزادی پسندوں کی کارروائیوں سے کس حد تک نفسیاتی مریض بن گئے ہیں جنہیں وہ مٹی بھر نام دیتے ہیں اور اپنے لئے دنیا کی بہترین فوجی ادارے جیسے تعریفوں کے پل باندھتے پھرتے ہیں اصل میں ان آزادی پسندوں کے وجود سے وہ کس قدر خوفزدہ ہیں انہیں اپنے جان کے لالے پڑے ہیں کب کہاں کسی کاروائی کا شکار بن جائیں گے، اس فوجی افسر نے کچھ دیر سوچنے کے بعد میری طرف دیکھا جس سے اس کی پریشانی کمی دکھنے لگی وہ کرسی سے اٹھ کر میرے پاس آیا اور بالوں سے پکڑ کر گھسیٹ کر مجھے کمرے کے بیچ میں لا کر چھوڑ دیا اور میرے ہاتھ بندھے ہاتھ کھولتے ہوئے بھائی سے مخاطب ہو کر کہا کہ تو اب بھی نہیں بتائے گا تو اب دیکھو تمہاری آنکھوں کے سامنے تماری بہن کے ساتھ کیا کرتا ہوں بھائی کو آج پہلی بار میں نے اتنے غصے میں نے دیکھا تھا اسے گالیاں دیتے سنا تھا اس نے ان درندوں بہت برا بھلا کہا گالیاں دیں کہا کہ تم بے غیرت ہو ہیرا منڈی کے پیداوار ہو جو کچھ کر سکتے ہو میرے ساتھ کرو میری بہن کو چھوڑ دو بھائی غصے سے اٹھنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن ظالموں نے کچھ ہی گھنٹوں میں اسے ٹارچر کر کے مفلوج بنا دیا تھا خون بہنے کی وجہ سے وہ اور بھی کمزور ہو گیا تھا جو بچی کچھی طاقت وہ لگا رہا تھا وہ اسکے سر پر رکھے بوٹ کی وجہ سے دب رہی تھی افسر کو اسکی باتوں کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا وہ میرے ساتھ بدتمیزی کر رہا تھا وہ بھائی کی بے بسی پر ہنس بھی رہا تھا اور میں روتے ہوئے خود کو بچانے کی کوشش کر رہی تھی جس پر اس نے مجھے تھپڑ مارے جا رہا تھا میں کھل کر رونا چاہتی تھی لیکن پل پل کے اذیتوں نے آنکھوں سے نمی بھی چین لی تھی کب کہاں کیسے دوپٹہ سر سے اتر کر گلے میں آ گئی کھینچا تانی میں کہاں میرے کپڑوں کے آستین کندھوں تک پٹ گئے تھے مجھے پتہ نہیں ہی چلا تھا فوجی افسر آگے بڑھ رہا تھا بھائی غصے میں بار بار ان سے کہتا کہ میری بہن کو چھوڑ دو تمہیں جو کرنا ہے میرے ساتھ کرو مجھے سزا دو لیکن اسے کچھ مت کرو لیکن اسے اپنی حوس کی فکر تھی اور یہ سب بھائی سے راز نکالنے کے لیے بھی کر رہا تھا اس نے میرے کپڑوں پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش تو اس کا ہاتھ میں نے اپنے ہاتھ سے دھکیل دیا جس پر وہ وہ غصے سے پاگل ہو گیا اور میرے چہرے دو تھپڑ مزید مارے سپاہیوں سے میرے ہاتھ پکڑنے کا کہا دو سپاہیوں نے میرے ہاتھ پکڑ لیے اس نے میرا خون آلود دوپٹہ کینچ کر میری گردن سے نکال دیا اور آگے بڑھا تو میں نے اس کتے کے منہ پر تھوک دیا کیونکہ میرے پاس اور کوئی راستہ نہیں تھا اس شیطان سے بچنے کا جس پر اس نے میرے چہرے پر زور زور سے تھپڑ اور مکھے مارے میری ایک آنکھ کو اپنے ہاتھ سے نوچ ڈال کر زخمی کردیا اسی دوران بھائی شدید غصے میں تھا اسے فوجی مار بھی رہے تھے وہ پاکستان مردہ باد کے نعرے لگا کر انہیں برے سے برا کہہ رہا تھا بھائی کے نعروں نے افسر کو مزید طیش میں لا دیا اس نے سپاہی سے کہا مار دے بلوچی کتے نُو سپاہی نے ٹیبل سے کوئی وزن دار ہتھوڑا نما اوزار اٹھا کر بھائی کے سر پر تین بار نہایت غصے سے وار کیا جس سے بھائی کے سر کے بیچ سے خون کا فوارا اچھلتا ہوا کمرے میں پھیل گیا اس طرح ان کتوں نے بے دردی سے مار کر اسے شہید کر دیا اور یہ کہنا تھا کہ دروشم اور زیادہ رونے لگی یہ سب سن کر ماہکان کے بھی آنسو جاری تھے اسے یہ خیال بھی نہ رہا کہ دروشم کے منہ پر ہاتھ رکھ کر اسے اس کی آواز سیل سے باہر جانے سے روک دیتی ماہکان کو اپنے دونوں شہید بھائیوں پر بیتنے والے اذیتیں یاد آ رہی تھیں، ماہکان کو اسکی ایک بہن دو بھائیوں سمیت کو کچھ ماہ پہلے سرچ آپریشن میں اغوا کیا گیا تھا اسے یہ بھی نہیں پتہ تھا کہ اسکی بہن زندہ بھی ہے یہ اسے بھی مار دیا گیا چھوٹے بھائی کو تو اذیت دے دےکر تیزاب میں ڈال کر شہید کردیا گیا تھا اور دوسرے بھائی کو مبینہ آپریشن میں مار کر اس کا تعلق آزادی پسند تنظیم سے جوڑ دیا گیا تھا جو ماہکان کو گزشتہ آپریشن میں اغوا ہونے والی کسی بلوچ بہن نے بتایا تھا وہ اپنی بھائیوں پر مظالم اور ان کی یاد میں رو رہی تھی کہ اسی دوران سیل کے باہر سے ایک کسی اور بہن کی چیخنے کے آوازیں آئیں ماہکان انہیں غور سے سننے کی کوشش میں تھی کیونکہ اسے اپنی بہن کی آواز سننی تھی وہ اکثر ایسا کرتی تھی تاکہ اسے اپنی بہن کے متعلق کچھ پتہ چل جائے وہ اگر یہاں اپنی بہن کی چیخیں سن بھی لیتی تو اسے اس کے زندہ ہونے کی کوئی خوشی نہیں ہوتی وہ یہاں موجود سب کے لیے موت کی دعا کرتی تھی تاکہ وہ سب یہاں سے آزاد ہو جائیں،جن چیخوں کو پہچاننے کی کوشش میں تھی وہ تیز ہوتی جا رہی تھیں شاید فوجی درندے اس بہن پر وحشیانہ تشدد کر رہے تھے اور پھر ایک دم سے وہ آواز بھی کسی لوہے کے اوزار کی آواز کے ساتھ ہی خاموش کر دی گئی اب کچھ وقت کے لیے خاموشی چھا گئی سب یہی سوچنے میں لگ گئے کہ اس بہن کے ساتھ آخر کیا ہوا ہوگا کچھ پل خاموش رہنے کے بعد ماہکان نے دروشم سے کچھ پوچھنا چاہا لیکن کوئی جواب نہیں آیا معصوم دروشم دم توڑ چکی تھی شاید اس بہن کی آخری چیخ کی شدت اس قدر تھی کہ دروشم کے کلیجے کو چھیرتی ہوئی نکل گئی تھی ماہکان کو مزید کچھ نہیں جاننا تھا کہ دروشم کے ساتھ اسکے بھائی کی شہادت کے بعد اور کیا ہوا تھا وہ تو بس اس کے عظیم بھائی اس قومی سپاہی کا نام جاننا چاہتی تھی جس نے زاتی خونی رشتے کو پس پشت ڈال کر قومی مقصد اور اپنے فکری دوستوں کی حفاظت کی خاطر بہن کی عزت تک کو داو پر لگا دیا تھا اور تنظیمی راز اپنے سینے میں دفن کر کے ہمیشہ کیلئے فنا ہو گیا تھا ماہکان کو دروشم کی موت کا کوئی دکھ نہیں ہوا کیونکہ وہ کسی بھی مظلوم انسان کی یہاں اس جہنم میں زندہ رہنے سے اس کے موت کو بہتر سمجھتی پھر بھی کسی انسانی جان کی اتنی ظالمانہ موت نے اس کے آنکھوں سے
آنسو بہا دیے تھے وہ بے جان سی ہوکر دیوار پر ٹیک لگا کر بیٹھ گئی اور اس قوم کی بے بسی اور بے ہسی پر سوچنے لگی کہ آخر اس قوم کی نفسیات کیا ہیں نہ یہ جاگنے کی حالت میں ہے اور نہ ہی مکمل سوئی ہوئی ہے یہ نیم بے ہوش قوم غلامی کے نشے میں ہے، جس نشے نے اس قدر مفلوج بنا دیا ہے کہ وہ قومی غلامی سے باشعور ہوکر بھی اپنی بے بسی کو بھی روتے ہوئے بیان کرینگے اور کسی معجزہ کی اتنظار میں بیٹھ جائیں گے لیکن خود کو اس بے بسی نکالنے کے لیے کوئی کچھ نہیں کریگا وہ عمل کی زمہداری بھی کسی اور پر ڈالے گا جو جنگ چل رہی ہے وہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ غلامی کے ناطے وہ بھی اسکا اس جنگ کا حصہ ہیں کبھی نہ کبھی ان کو یا ان کی آنے والی نسلوں کو یہ جنگ ضرور لڑنا ہے وہ کیوں غلامی کے سرور سے باہر نکل کر سوچتے نہیں یہاں تو یہ عالم ہے کہ کوئی نوجوان شب و روز روزگار کے تلاش خوار ہوتا رہیگا بالآخر بے روزگاری سے تنگ آ کر خود کشی تو کریگا لیکن جس کی وجہ سے وہ مرا اور اسکی نسلیں بھوکا پیاسا مرتے رہیں گے جو اسکی ماں بہنوں کے عزت کو یوں ہی تار تار کرنے کا مرتب ہو رہا ہے اس دشمن پر پھٹ نہیں پڑے گا، کوئی ایف سی کے چیک پوسٹوں پر تھپڑ کھا کر ماؤں بہنوں اور بزرگوں کی تذلیل دیکھ کر آئے روز اپنے ارد گرد قومی فرزندوں کی گرتی ہوئی مسخ لاشیں دیکھ کر اسے احساس غلامی بھی ہوگا آزادی کا مطالبہ لیکر جلسے جلسوں کا حصہ بھی بنے گا لیکن کیوں اسی دشمن کے کسی ڈی سی کے اچھے رویے سے وہ اپنے اور قوم کے اوپر ڈھائے جانے والے مظالم اپنے شہدا کے خون سے مزاق کر کے ان کے مشن کیلئے لیے جانے عہد ان سب فراموش کرکے چودہ اگست کی تقریبات خوش و خروش منائیں گا اور ان سپاہیوں کا کیا جو دشمن سے سالوں نبر آزما ہو کے تھک ہار کر یا کچھ مراعات یا پھر زاتی مفاد کی وجہ سے صفیں چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں کیا وجہ ہے لوگ کیوں اس تحریک سے بدظن ہوگئے ہیں کہ اپنی آنکھیں تک بند کر کے ہنسی خوشی غلامی کا لطف لینے لگے ہیں کیا یہ سب بھی لیڈر شپ کے غلط فیصلوں کا نتیجہ ہے ان کے شوق لیڈری میں تحریک کیا حال ہو گیا ہے اسکا زمہدار کون ہے کیوں تحریک گھوم پھر کر اسی جگہ پر آگئی کیا قومی تحریک سے کھلواڑ کا احتساب بھی ہوگا ان سے کوئی پوچھے گا بھی کیا وہ ان کا جواب بھی دینگے؟؟ اب ہمیں اور کتنے برس یا صدیاں لگیں گے ایک اچھی بنیاد بنانے میں اپنے بکھری طاقت کو سمیٹ کر تحریک کو مضبوط کرنے میں؟؟ طرح طرح کے خیالات اور مایوسی ماہکان کے زہن پر عاوی تھے لیکن وہ اس بات سے مطمئن تھی کہیں کچھ لوگ ہیں جو مخلسی سے جہد مسلسل کا حصہ ہیں جو ایمانداری سے اپنا خون بہا کر کر اس تحریک کو ایندھن فراہم کر رہے ہیں جو ہمیں آزادی اگر نہیں دے سکے لیکن کم از کم آنے والی نسلوں کو ایک مضبوط تحریک تو تما دینگے ماہکان انہی سوچوں میں کھوئی ہوئی تھی کہ کھٹاک سے سیل کا دروازہ کھلا ایک فوجی سرچ لائٹ ہاتھ میں لیے سیل میں داخل ہوا دروشم کی لاش کو فوجی بوٹوں سے روندتے ہوئے آگے بڑھا اور ماہکان کو بالوں سے سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئےافسر کے کے کمرے کی جانب لے گیا