جنگ ختم ہو جائے گی، سربراہ ہاتھ ملائیں گے، مگر وہ بوڑھی عورت اب بھی اپنے شہید بیٹے کا انتظار کرے گی۔محمود درویش کے یہ الفاظ آج غزہ کی ہر گلی، ہر ملبے اور ہر ماں کے دل سے سنائی دے رہے ہیں۔جنگ ختم ہوئی، مگر انسانیت مر گئی نیتن یاہو نے اعلان کیا کہ “یہ اسرائیل کے لیے ایک شاندار دن ہےاور حماس نے کہا “ہم اپنی قوم کے قومی حقوق سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ میدان کے دونوں کناروں پر صرف قبرستان بڑھے ہیں، اور جنگ کے تاجر امن کے فاتح بن بیٹھے ہیں۔اگر 60 ہزار معصوم فلسطینی مروا کر اسرائیل سے امن معاہدہ ہی کرنا تھا، تو حماس بندے مروا کر کیوں کرتی؟ کیا یہ ممکن نہ تھا کہ وہ وہی معاہدہ کم قیمت پر کر لیتی؟ یہ سوال اس جنگ کے دل میں ایک چیخ بن کر گونجتا ہے — وہ چیخ جسے سیاسی بیانات اور مذہبی نعرے دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہر جنگ بندی کا مطلب امن نہیں ہوتا۔ یہ معاہدہ بھی شاید ایک وقفہ ہے تاکہ دنیا تھک کر دوبارہ تماشائی بن جائے۔غزہ اب بھی محصور ہے، سمندر اب بھی بند، دوائیں اب بھی نایاب، اور بچوں کی چیخیں اب بھی زندہ ہیں۔ طاقتوروں نے اپنی کرسیوں کو مضبوط کیا، کمزوروں نے اپنے پیاروں کو دفن کیا۔1948 سے ہر فلسطینی نسل نے ایک ہی منظر دیکھا طاقتور میز پر بیٹھا، کمزور ملبے پر۔ امن کے ہر اعلان کے بعد قبضہ اور بڑھا، زمین اور سمٹی۔ یہ معاہدے نہیں، دھوکے ہیں جو تاریخ کے نام پر بار بار بیچے جاتے ہیں۔ یہ امن دراصل امریکہ، قطر اور مصر کے سفارتی توازن کا نتیجہ ہے، نہ کہ فلسطینی عوام کی جیت کا۔ ٹرمپ نے جس “مقدس مشن” کا ذکر کیا، وہ دراصل انتخابات، اثرورسوخ اور مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کی نئی تقسیم کا منصوبہ ہے۔ فلسطینی عوام کو ایک بار پھر شطرنج کی بساط پر پیادے بنا دیا گیا ہے۔ حماس کی پالیسیوں پر تنقید اپنی جگہ، مگر فلسطینی عوام کی قربانیاں کسی معاہدے سے چھوٹی نہیں ہو سکتیں۔ وہ جانیں جو گئی ہیں، وہ لاشیں جو ملبے کے نیچے رہ گئیں،وہ کسی سفارتی جیت سے زیادہ قیمتی ہیں۔یہی وہ سچ ہے جسے اسرائیل چھپانا چاہتا ہے اور دنیا نظرانداز کر رہی ہے۔درویش نے کہا تھا: “مجھے نہیں معلوم کس نے وطن بیچا، مگر میں نے اُن لوگوں کو دیکھا ہے جنہوں نے اس کی قیمت چکائی۔آج ہم جانتے ہیں — کس نے عزت بیچی، اور کن کے ہاتھ خون سے رنگے ہوئے ہیں۔معاہدے کے جشن منانے والے بھول جاتے ہیں کہ امن اگر ظلم کی بنیاد پر ہو، تو وہ امن نہیں، استعمار کی توسیع ہے۔یہ جنگ کسی کی جیت نہیں، بلکہ انسانیت کی اجتماعی ہار ہے۔حقیقی فتح وہ ہوگی جب فلسطینی ماں کا بیٹا زندہ لوٹے، جب غزہ کی گلی میں خوف نہیں، زندگی بولے۔تب تک ہر امن معاہدہ، ایک عارضی خاموشی ہے اور خاموشی، اگلی چیخ کا انتظار















