“عوام حقوق مانگتی ہے قومیں آزادی “ ہمیں اس مرحلے سے گزرنا تھا، شاید یہ مرحلہ بھی آنا تھا کہ ہم انسانی حقوق کی اس قدر پاسداری کریں کہ امن کا سفید پرچم اٹھا کر ریاست کو یقین دہانی کرانی پڑے کہ “ہم امن کے طلب گار ہیں” شہر اقتدار میں دہائیاں دیتے پھریں کہ “ ہم بندوق والے دہشت گرد نہیں ہیں “ اور اس پہ عجب تماشہ یہ ہو کہ سامراج کے پہرہ دار و چالاک دانشور ہماری پذیرائ کرتے پھریں اور ہم اُن کے دل و جان سے قدردان بنیں یہی کالونئیل ذہن کی عکاسی ہے ۔ شاید ہمیں تاریخ میں یہ مرحلہ بھی دیکھنا تھا کہ جب اپنے لوگوں کی جبری گمشدگی کی آواز اٹھائیں تو ساتھ معذرت خواہانہ انداز میں وضاحت بھی دینی پڑے کہ زید و بکر معصوم ہیں ان کا بلوچ قومی تحریک سے واسطہ نہیں گویا جن کا واسطہ و تعلق تحریک سے ہو تو ان کا اٹھانا جائز بنتا ہے ، اس کے لیےہم پہلے سے ہر حد تک جانے کو تیار بیٹھے ہیں ، حتی کہ دنیا کو دکھانے کے لیے ہمیں اپنے ہی جہد کاروں کی گر مذمت کرنی پڑے تو بلا جھجک کرتے پھریں تاکہ ثابت کرسکیں کہ ہم انسانی حقوق کے پاسدار ہیں ، بندوق بردار دہشتگرد نہیں ہیں ۔ یاد کیجیے وہ منظر جب ایک عورت سے انٹرویو لیا جا رہا تھا۔ سوال کرنے والے نے “مڈل ایسٹ” کہا تو اس نے فوراً ٹوکا اور کہا: “No, No, No”۔ وہ کہتی ہے کہ یہ اصطلاح بذاتِ خود ایک “کالونئیل اصطلاح” ہے۔ وہ اسے آگے بڑھنے ہی نہیں دیتی جب تک اس اصطلاح کی وضاحت نہ کر لے۔ بتاتی ہے کہ جب “مڈل ایسٹ” کہا جاتا ہے تو لندن کو مرکز مان کر ہمیں “مڈل” کہا جاتا ہے۔ لندن کی مرکزیت ہم کیوں قبول کریں؟ ہماری اپنی ایک تاریخ اور پہچان ہے۔ لندن کو مرکز مان کر ہمارے وطن کو “مڈل ایسٹ” کہنا دراصل ہماری شناخت کو ختم کرنے کے مترادف ہے۔ جبکہ یہاں ہم معذرت خواہانہ لہجہ اپناتے ہیں ، درحقیقت انسانی حقوق کا اپنا ایک پیٹرن ہے، جو ہمیں اس مقام پہ لاکھڑا کرتا ہے جہاں ہم ظالم کی بندوق کی بجاۓ مظلوم کی بندوق کی مذمت کرنے پر مجبور رہتے ہیں ، کیونکہ دنیا کبھی بھی آپ سے یہ نہیں کہے گی کہ “ظالم کی بندوق کی مذمت کریں” بلکہ وہ آپ پر ہر دروازہ ایک ایک کرکے بند کرتی ہے ، انسانی حقوق ایک ایسا روڈ میپ ہے جس پہ نہ چاہتے ہوۓ بھی ہمیں چلنا پڑتا ہے ، دنیا کو دکھانا پڑتا ہے اور دنیا کی ڈیمانڈ ہی یہی ہے ، “ امن دکھاؤ ، جمہوریت کی دہائ دو ، آئین کی بات کرو “ تاکہ آپ امن کے چاہنے والے ایکٹویسٹ نظر آہیں ۔ ہم جمہوریت ، آئین و قانون کے پاپند ہیں ، ہماری آواز سُنی جاۓ، ہماری داد رسی کی جاۓ، اور پھر ہم دن گنتے جاتے ہیںُ کہ آج ہماری پرامن احتجاج کے چار ہزار پانچ سو پندرہ دن مکمل ہوۓ ، اس طرح ہم خود ہی دنیا کی توجہ ایک قومی جنگ سے انسانی حقوق کی تحریک کی طرف موڑنے کو اپنی کامیابی سمجھتے ہیں، اور دنیا ہمیںُ پریس ریلیز کی حد تک داد رسی دیتی ہے ، اس دوران ریاست ایک ہی رٹ لگاتی ہے کہ “ایسا نہیں چلے گا” انسانی حقوق کی آڑ میں دہشت گردوں کی حمایت نہیں ہونے دیں گے” ، یوں قابض ریاست اور مظلوم کے درمیان سوشل میڈیا پہ نوک جھونک چلتی رہتی ہے کہ تو نے یہ کیا جواب ملتا ہے تو نے وہ کیا ، اور بدقسمتی سے کسی حد تک دونوں طرف سے کردار کشی کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے ، اصل بیانیہ کہیں کھوجاتا ہے بات “تو تو ۔ میں میں” تک رہ جاتی ہے ، ایک طرف یہ رٹہ لگایاُجاتا ہے کہ آپ دہشتگرد ہو دوسری طرف سے یہ کہ ہم دہشتگرد نہیں ہیں ہمارے قدردان سامراج کے پہرہ دار دانشور دہشتگرد ریاست کو سمجھاتے پھرتے ہیں کہ یہ لوگ انسانی حقوق کے علمبردار جمہوریت کی آواز ہے یہ لوگ دہشتگرد نہیں ، دہشتگرد تو پہاڑوں میں لڑ رہے ہیں ، اور ہم بینرز اٹھا کر آنسو پونچھتے ہوۓ ان کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں کہ ہم نے بندوق نہیں اٹھائ ، ہم دہشتگرد نہیں ، ہمیں انصاف دو ، ہم انسانی حقوق کے علمبردار ہیں یعنی ریاست کے دیے ہوۓ اصطلاحات کو من و عن قبول کرکے ہم جہدکاروں سے دنیا کے سامنے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہیں اور اسے اپنی کامیابی سمجھتے ہیں ۔ یہ بات بہت پہلے سے ہی نواب ھیر بگش مری واضح کرچکے تھے کہ “جو بھی سامراج کے منہ پہ تھوکتا ہے سامراج اسے دہشتگرد کہتا ہے” بلکل ہم سامراج کے منہ پہ تھوکنے والے وہ جہد کار ہیں جسے قابض ریاست دہشتگرد کہتی ہے ،، ہمارا بیانیہ معذرت خواہانہ نہیں جارہانہ ہونا چاہیے، “تو تو ۔میں میں” کی نوک جھونک سے اب آگے بڑھنے کا وقت آچکا ہے ، جس طرح ہم شہری حقوق سے آگے بڑھ کر انسانی حقوق کے اس مرحلے تک پہنچے، اب ہمیں اس مرحلے کو پار کرنا ہوگا ، تاکہ انسانی حقوق کی بجائے قومی حقوق کی بات کرسکیں ۔ ہماری گفتگو میں وہی وزن ہونا چائیے جو غسان کنفانی کے بیانیے میں تھا ، جب ان سے پوچھا گیا کہ اسرائیل و فلسطین کا “سول وار” کب ختم ہوگی تو وہ انٹرویو لینے والے کو ادھر ہی فورا ٹوک دیتے ہیں کہ یہ “سول وار” نہیں جنگ ہے ، ان کے مطابق اصل مسئلہ ہی یہیں سے پیدا ہوتا ہے کہ جب ہم ایک جاری “جنگ” کو “سول وار” کہتے ہیں،وہ بھی اسی عورت کی طرح اسے آگے نہیں بڑھنے نہیں دیتے جب تک سیاسی اصطلاح کی درستگی نہیں کردی۔ اسی طرح ہمیں ہمیں بھی “مظلومیت کا رونا رونے”کے بجاۓ یہ حقیقت دنیا کے سامنے رکھنی ہے کہ یہاں ایک قومی جنگ جاری ہے جس کی پاداش میں ہمارے لوگوں اٹھاۓ جارہے ہیں، مارے جارہے ہیں ، ہمیں یہ بات تاریخی ، سیاسی و اخلاقی حوالے سے دنیا کو واضح کرنا ہوگی ، کہ یہ انسانی حقوق کی نہیں قومی آزادی کی جنگ ہے ، تاکہ دنیا کو پہ یہ حقیقت اآشکار ہو کہ ریاست انسانی حقوق پر نہیں بلکہ قومی سرزمین و قومی حقوق پہ قابض ہے ، اور بزور بندوق اپنی قبضہ گیریت کو برقرار رکھے ہوۓ ہے ، ہمیں اپنی آنے والی نسل کو اس مظلومیت کے رونے والے بیانیے سے نکالنا ہوگا ،ہمیں ہر اس سیاسی اصطلاح کو پامال کرنا ہوگا جو ریاست کے دانشور بظاہر ہمدردی میں بڑی چالاکی سے ہم پہ تھونپ رہے ہیں ، چاہے وہ “مڈل کلاس قیادت” کا اصطلاح ہو ، یا “تعلیم یافتہ قیادت “ ہونے کا اصطلاح ، کیونکہ ایسی تقسیم شروع دن سے ہماری قومی تحریک میں نہیں ہے جہاں تک ہماری سیاسی شعور کی بات ہے تو خود ہماری سیاسی شعور کی انتہا یہ ہے کہ ہم نے اپنے ہر سیاسی جاری کردہ بیان میں حتی الامکان کوشش کی ہے کہ” بلوچ قوم “ کی جگہ “بلوچ عوام” لکھیں اور خوش فہمی کی انتہا یہ ہے کہ اس طرح ہماری” قومی تشکیل” ہوگی ۔ ہمیں عوام اور قوم ، انقلاب اور آذادی جیسی اصطلاحات کے فرق کو سمجھنا ہوگا کہ “عوام حقوق مانگتی ہیں اور قومیں آذادی “















