تہران (ہمگام نیوز) سینٹر فار ہیومن رائٹس اِن ایران (CHRI) ایران میں مظاہرین کی جانوں کے حوالے سے انتہائی اور فوری تشویش کا اظہار کرتا ہے، جہاں اسلامی جمہوریہ ایران کی سیکیورٹی فورسز ملک گیر انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کے دوران مظاہرین پر مہلک فائرنگ کر رہی ہیں۔
CHRI کو قابلِ اعتماد عینی شاہدین سے اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ تہران، مشہد اور کرج کے علاقوں میں اسپتال زخمی مظاہرین سے بھر چکے ہیں۔ یہ وہ واحد علاقے ہیں جہاں سے ہمیں معلومات حاصل ہو سکی ہیں؛ ملک کے کئی دیگر حصے، بالخصوص پسماندہ شہر، بھی اسی طرح شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔
ملک بھر میں ہلاکتوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ CHRI نے متعدد شہروں میں براہِ راست گولیوں کے استعمال اور ریاستی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے اسپتالوں پر پرتشدد حملوں کی دستاویزات جمع کی ہیں، جبکہ 8 جنوری کی رات بڑے پیمانے پر قتلِ عام کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں جو تاحال غیر مصدقہ ہیں۔ 9 جنوری کی رات دوبارہ بڑے احتجاجی مظاہروں کے منصوبے شدید خدشات کو جنم دے رہے ہیں کہ مزید بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہو سکتا ہے، خاص طور پر اسلامی جمہوریہ کے رہنماؤں کے حالیہ بیانات کے پیشِ نظر جن میں کہا گیا ہے کہ حکومت “پیچھے نہیں ہٹے گی”، “تخریب کاروں” کے ساتھ “کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی”، اور مظاہرین کو سزائے موت تک دی جا سکتی ہے۔
ایران میں مکمل انٹرنیٹ اور مواصلاتی بندش انتہائی تشویشناک ہے: ماضی میں حکومت عموماً مظاہرین کے بڑے پیمانے پر قتل سے قبل یہی قدم اٹھاتی رہی ہے۔ 2019 میں جب ملک بھر میں احتجاج شروع ہوا تو ایرانی حکام نے مکمل انٹرنیٹ بند کر دیا، جس کے بعد ایک ہزار سے زائد مظاہرین کو قتل کر دیا گیا۔
دنیا بھر کی حکومتوں اور اقوام متحدہ کے اعلیٰ حکام کو اجتماعی طور پر اور بھرپور انداز میں اس ابھرتے ہوئے انسانی المیے کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے، تہران سے اپنے سفیروں کو واپس بلانا چاہیے، اور کھلے عام نیز براہِ راست سفارتی چینلز کے ذریعے ایرانی نمائندوں کو یہ پیغام دینا چاہیے کہ ان غیر قانونی ہلاکتوں اور دیگر سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اسلامی جمہوریہ کو سیاسی، معاشی اور قانونی طور پر جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔
جن ممالک کے ایران میں سفارت خانے موجود ہیں، انہیں زمینی صورتحال کی فعال نگرانی کرنی چاہیے اور تمام دستیاب محفوظ مواصلاتی ذرائع، بشمول سیٹلائٹ انٹرنیٹ، استعمال میں لانے چاہئیں تاکہ صورتحال سے متعلق معلومات عالمی برادری تک پہنچ سکیں۔ سفارتی مشنز کو اپنی موجودگی استعمال کرتے ہوئے ایرانی حکام پر دباؤ ڈالنا چاہیے کہ وہ مظاہرین کے خلاف مہلک طاقت کے استعمال کو فوری طور پر بند کریں۔
تمام ممکنہ کوششیں کی جانی چاہئیں کہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں فوری اور ہنگامی بنیادوں پر ایرانی عوام کو انٹرنیٹ رسائی فراہم کرنے کے ذرائع فعال کریں تاکہ وہ ایک دوسرے سے رابطہ کر سکیں اور دنیا کو ان مظالم سے آگاہ کر سکیں جو حکومت کر رہی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی موجود ہے؛ حکومتوں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کو فوری طور پر مل کر اسے ایران کے اندر دستیاب بنانا چاہیے۔
اسلامی جمہوریہ کا طریقۂ کار سب پر عیاں ہے: انٹرنیٹ اور خبروں پر پابندی، مظاہروں کو کچلنے کے لیے بڑے پیمانے پر قتل، اور پھر حالات کو معمول پر لانا۔ دنیا کو اس طریقۂ کار کی تکرار پر خاموش تماشائی نہیں بننا چاہیے۔















