زاہدان(ھمگام نیوز) رپورٹ کے مطابق، ہفتہ 7 مارچ 2026 کی علی الصبح ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری فوجی اور ڈرون جھڑپوں کے دوران ایران کے دشتیاری میں واقع دریائے کلانی کے علاقے میں ایک بلوچ ایندھن بردار بلوچ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔

شہید ہونے والے ایندھن بردار بلوچ کی شناخت طیب بلوچ ولد محمد حسن کے نام سے ہوئی ہے جو پاکستانی مقبوضہ بلوچستان کے علاقے جیونی کے گاؤں گنز کا رہائشی تھا۔ اس کی شناخت مقامی ذرائع نے تصدیق کے بعد ظاہر کی ہے۔

ذرائع کے مطابق، فوجی کشیدگی کے دوران فائر کیا گیا ایک ڈرون دریا میں چلتی ہوئی اس کشتی پر گر کر ٹکرا گیا جس میں مذکورہ بلوچ ایندھن بردار سفر کر رہا تھا۔ اس حادثے کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی شہید ہو گیا۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ ڈرون کس فریق کا تھا اور آیا یہ ایرانی، امریکی یا اسرائیلی ڈرون تھا۔ تاہم مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈرون کا گرنا اسی فوجی تصادم کے تناظر میں پیش آیا۔

مزکورہ بلوچ ایندھن بردار کی میت گزشتہ روز دوپہر کے وقت اس کے آبائی علاقے میں سپرد خاک کر دی گئی۔