لندن (ہمگام نیوز) ایف بی ایم کے ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان پر قبضہ ایک صدی سے زائد پرانی حقیقت ہے، اور اس طویل المیے کا ایک کڑوا پہلو یہ ہے کہ ہمارا وطن دو قابض ریاستوں، ایران اور پاکستان، کے مابین تقسیم اور پائمال ہے، اور نہ صرف یہ کہ دونوں قابضین بلوچ قومی شناخت و وجود کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے درپے ہیں بلکہ وہ اپنی اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیئے ایک دوسرے کا دست و بازوو بنے ہوئے ہیں۔ فری بلوچستان موومنٹ اس بات پر قائم ہے کہ ہماری جدوجہد کا واحد اور غیر مبہم ہدف مکمل بلوچ قوم کی آزادی ہے، اور یہ جدوجہد ان دونوں قابض ریاستوں کے خلاف موثر انداز میں اور بیک وقت جاری رہنی چاہیے۔ تاریخی حقائق اس امر کے گواہ ہیں کہ ایران اور پاکستان کے درمیان سیاسی، سفارتی یا نظریاتی اختلافات وقتاً فوقتاً ضرور سامنے آئے ہیں، لیکن جب بات بلوچ سرزمین پر قبضے کو مستحکم کرنے اور بلوچ عوام کی مزاحمت کو کچلنے کی آتی ہے تو یہ دونوں ریاستیں ہمیشہ ایک دوسرے کی پشت پناہی کرتی رہی ہیں۔ ماضی میں شاہ ایران کی غیر مذہبی حکومت نے پاکستانی ریاست کے ساتھ ملکر بلوچ قومی مفادات و تحریک آجوئی کو جتنا گزند پہنچایا ہنوزاسی پیمانے کا گٹھ جوڑ دونوں ممالک کے درمیان نہ صرف برقرار ہے بلکہ پہلے سے زیادہ منظم اور مربوط شکل اختیار کرچکا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ حالیہ عرصے میں اس گٹھ جوڑ کی تازہ مثالیں ایران و پاکستان کے درمیان مقبوضہ بلوچستان اور انکے اپنے شہروں میں ہونے والی خفیہ ملاقاتوں کی صورت میں سامنے آئی ہیں جہاں آٹھ مئی دوہزار چوبیس کو مقبوضہ بلوچستان کے شہر زاہدان میں ایرانی بارڈر گارڈز کے کمانڈر جنرل قاسم رضائی اور پاکستان کے قاض فوج کے نمائندوں کے درمیان ملاقات ہوئی، جس میں “بارڈر سکیورٹی اور انٹیلیجنس شیئرنگ” کے نام پر مشترکہ اقدامات پر اتفاق کیا گیا، لیکن درِپردہ ایسی نشستوں کا مقصد بلوچ قومی تحریک آجوئی کو کمزور کرنے کے لیئے معلومات و تفصیلات سمیت حکمت عملیوں کے حوالے ایک دوسرے کو آگاہ کرنا تھا تاکہ دونوں ملکر موثر انداز سے بلوچ تحریک آزادی کی جد و جہد کو کاؤنٹر کرسکیں۔ ازاں بعد جنوری 2025 میں مقبوضہ بلوچستان کے شہر تفتان کے قریب سرحدی چیک پوسٹ پر دونوں قابض ممالک کے عسکری و انتظامی حکام کی ملاقات ہوئی، جس میں باضابطہ طور پر “بارڈر مینجمنٹ میکانزم” کے فریم ورک پر پیش رفت کے حوالے سے بات چیت کی گئی، اسی دوران مشترکہ “سرحدی کمیٹیوں” کی تشکیل کا اعلان بھی کیا گیا، جن کا اصل مقصد بلوچ مزاحمتی سرگرمیوں کو کچلنا اور نام نہاد سرحد کے دونوں جانب سے بلوچوں کو اپنے ہی سرزمین پر نقل و حرکت سے روکتے ہوئے انہیں بے دخل کرنا تھا۔ یاد رہے کہ ایران و پاکستانی مقبوضہ بلوچستان میں کوئی بارڈرمنیجمنٹ کا تصور آج سے بیس پچیس سال پہلے وجود نہیں رکھتا تھا اور دونوں جانب مقیم بلوچ تواتراور بلا روک ٹوک کے نہ صرف آتے جاتے رہے ہیں بلکہ نام نہاد گولڈاسمتھ لائن کے دونوں اطراف بلوچ خاندانوں کی آپس میں ایسی نزدیکیاں اور رشتہ داریاں بھی ہیں جہاں ایک بھائی گولڈ اسمتھ لائن کے ایک طرف سالوں سے آباد ہے تو دوسرا بھائی دوسری طرف رہتا ہے یہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ بلوچ مقبوضہ ضرور ہیں مگر ایک دوسرے سے جدا ہرگز نہیں، محض بلوچ قومی تحریک آجوئی کو ختم کرنے اور باہمی گٹھ جوڑ کو مضبوط کرنےکے لیئے ہی پاکستانی و ایرانی قابضین بارڈر منیجمٹ جیسی ڈھکوسلوں کا سہارا لیتے ہیں اور ایسے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں کہ ان ملاقاتوں کے نتیجے میں بلوچ فرزندوں کی گرفتاریوں اور ایک دوسرے کے حوالے کرنے کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ متعدد مثالوں میں ایسے کارکن، جو محض عارضی طور پر دونوں قابضین سے بچنے کے لیے نام نہاد سرحد کے دوسری جانب بسنے پر مجبور ہوئے تھے، انہیں گرفتار کرکے واپس ایکدوسرے کے حوالے کردیا گیا۔ یہ سلسلہ واضح کرتا ہے کہ اب بلوچ قوم کے لیئے یہ پرانے اور وقتی حفاظتی طریقہ کار ناقابلِ عمل بن چکے ہیں۔ پارٹی ترجمان نے مزید کہا کہ افسوس ناک امر یہ ہے کہ ماضی میں کچھ بلوچ مزاحمتی حلقے زمینی حقائق کو نظرانداز کرکے وقتی سہولت یا عارضی امان کے لالچ میں ایسی پالیسیوں کو اختیار کرتے رہے جن کا فائدہ بالآخر قابض قوتوں کو پہنچا۔ کسی ایک ریاست سے خطرہ محسوس ہونے پر دوسری ریاست کے زیرِ قبضہ علاقے میں اعلانیہ پناہ لینا اور قابض کو ہمسایہ سمجھ کر اسے نجات دہندہ سمجھنے کی حکمتِ عملی خودکشی کے مترادف ہے۔ فری بلوچستان موومنٹ بلوچ عوام اور تمام مزاحمتی و سیاسی حلقوں پر یہ واضح کرنا چاہتی ہے کہ فری بلوچستان موومنٹ بلوچ قوم کواس تمام بندربانٹ اور مختلف اقوام کے زیر تسلط ہونے کے باوجود ایک ہی اکائی اور ایک سرزمین کا باشندہ سمجھتی ہے اور یہ نہ صرف ہماری پارٹی کی سیاسی پالیسیوں کی اساس ہے بلکہ یہ مبنی بر حقیقت امربھی ہے کہ پاکستان و ایران کسی بھی صورت میں بلوچ قوم کے دوست و خیرخواہ نہیں ہوسکتے، البتہ اپنے مفادات کی تکمیل کے لیئے وہ ہر بلوچ کو وسیع تر بلوچ قومی مفادات کے خلاف استعمال کرنا چاہتے ہیں جیسا کہ پاکستانی قبضہ گیر نیشنل پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی اور سرفراز بگٹی سمیت دیگر پارلیمانی گروہوں کو استعمال کرتی چلی آرہی ہے لہذا فری بلوچستان موومنٹ یہ سمجھتی ہے کہ ایران اور پاکستان کے درمیان بلوچ قوم کے خلاف موجود ہلاکت خیز گٹھ جوڑ کو نظرانداز کرنا، سیاسی اندھے پن اور فکری لاابالی کے سوا کچھ نہیں۔ ایف بی ایم یہ سمجھتی ہےکہ قومی آزادی کی تحریک میں شامل اسٹیک ہولڈرز کو ایسے ذرائع اور حکمتِ عملی اپنانی ہونگی جو دونوں قابض ریاستوں کے دائرۂ اثر سے مکمل طور پر آزاد ہوں، کیونکہ کسی کا پراکسی یا آلہ کار بن کر بلوچ اجتماعی مفادات کا تحفظ ہرگز نہیں کیا جاسکتا البتہ یہ حقیقت اپنی جگہ موجو ہے کہ علاقائی و عالمی سطح پر بلوچ کو اتحادی و دوست تلاشنے ہونگے لیکن ان اتحادی اور دوستوں میں ایران و پاکستان کو شامل کرنا یا ان دونوں قابضین میں سے کسی ایک کو خیر خواہ سمجھنا “ بلی کو دودھ کی رکھوالی “ پر مامور کرنے جیسا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ محدود مفادات اور انتہائی چھوٹے پیمانے کی تحفظ کے لیئے بلوچ قومی اجتماعیت کے بیانئے کو سبوتاژ کرنا نہایت ہی احمقانہ و مجرمانہ فعل ہے کیونکہ آزادی کی جد و جہد ممکنہ طور پر سینکڑوں سالوں پر محیط ہوسکتی ہے اگر ایسے میں کوئی ایک شخص محض اپنے آپ کو پوری قوم کا نجات دہندہ سمجھ کر مستقبل کی قومی بیانیئے کو مخدوش کردے تو یہ عمل قبضہ گیریت سے بھی بدترین بلوچ دشمنی ہوگی۔ جو لوگ بلوچ مقبوضہ علاقوں کو الگ سمجھتے ہیں وہ سرفراز بگٹی اور دیگر پارلیمانی پارٹیوں جیسی فکری انحتاط کا شکار ہیں کیونکہ پاکستانی لے پالک سرفراز بگٹی نے بھی کہا تھا کہ ہم ایرانیوں ( یعنی ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے باشندوں) کو واپس ایران بھیجیں گے، بلوچ قوم کو ایران و پاکستان میں تقسیم کرنے کا سوچ آئی ایس آئی اور ایرانی اطلاعات کی اختراع ہے، اور سیاسی بیانیے کی اس جنگ میں وقتی مفادات کے لیے ایرانی یا پاکستانی پروپیگنڈے کو تقویت دینا بلوچ دوستی نہیں ہوسکتی۔ ہم یہ بھی باور کراتے ہیں کہ قابض قوتیں نہ صرف عسکری اور انتظامی سطح پر اشتراک کر رہی ہیں بلکہ ان کی انٹیلیجنس ایجنسیاں بھی مربوط انداز میں بلوچ تحریکِ آزادی کو کمزور کرنے پر کام کر رہی ہیں۔ حالیہ سرحدی میٹنگز میں کیے گئے فیصلے اسی منصوبہ بندی کا حصہ ہیں۔ اس صورتحال میں قومی مزاحمت کو اپنی حکمتِ عملی، روابط، اور زمینی نیٹ ورکس کو اس انداز سے تشکیل دینا ہوگا کہ وہ کسی ایک قابض ریاست کے رحم و کرم پر ہرگز نہ ہوں، بلکہ دونوں قابضین یکساں طور پر بلوچ عوام کا دشمن ہیں، کیونکہ ایرانی مقبوضہ بلوچستان میں ابھی چند ہی ہفتے کے اندر درجنوں بلوچوں کو اعدام دینے کے ساتھ بہت سوں کو فیک انکاؤنٹرز میں شہید کردیا گیا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ فری بلوچستان موومنٹ اپنی جدوجہد میں کسی بھی قسم کی دوہری پالیسی کو رد کرتی ہے۔ ہمارا بیانیہ واضح اور دو ٹوک ہے، بلوچ قومی آزادی، ایران اور پاکستان دونوں کے قبضے سے نجات کے بغیر ممکن نہیں۔ اس لیے ہماری جدوجہد کی سمت اور دائرہ کار دونوں قابضین کے خلاف یکساں ہونا لازمی ہے، بلوچ قومی تحریک آزادی میں شامل تمام فریقین کے لیئے لازمی ہے کہ وہ زمینی حقائق کو مدِنظر رکھیں اور جذباتی یا وقتی فیصلوں سے گریز کریں اور کسی ایک قابض ریاست کے زیرِ اثر علاقے کو محفوظ سمجھنے کا فریب ترک کریں اور بلوچ قومی شناخت و بقا اور تحریک آزادی کی کامیابی کے لیے ایسی حکمتِ عملی اختیار کریں جو دونوں ریاستوں کے اثر رسوخ اور گٹھ جوڑ سے ماورا ہو۔ یہ لمحہ ہمارے لیے ایک کڑا امتحان ہے۔ قابض قوتیں مزید منظم ہو رہی ہیں، اس لیے بلوچ قومی مزاحمت کو بھی نئے دور کے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھالنا ہوگا۔ پرانے طریقے اب ناکافی ہیں، اور بقا کا واحد راستہ یہ ہے کہ ہم اپنی صفوں میں اتحاد، اصول پسندی، نظم و ضبط اور مکمل خودمختاری پیدا کریں، نہ صرف قابضین کے خلاف لڑائی میں، بلکہ اپنی حکمتِ عملی کے انتخاب میں بھی۔ یہاں ڈیورنڈ لائن کے اس پار منقسم بلوچ سرزمین کا ذکر کرنا بھی لازمی ہے کہ کس طرح پشتون اور بلوچوں کو پاکستانی مقتدرہ نے بہت دفعہ لڑانے کی کوشش کی ہے لیکن ہمارے مابین تاریخ روابط انتہائی مضبوط ہیں اور دونوں اقوام برطانوی سامراجی بندربانٹ اور سازشوں کا بھی براہ راست شکار رہے ہیں، پنجابی وہی قوم جو کچھ سالوں پہلے پشتونوں ( افغان ) کو پانچ پانچ سو ڈالرز کے عوض بیچ رہے تھے، لیکن بلوچ قوم و پشتونوں کے درمیان زیادہ تر باہمی اعتماد اور عزت و وقار کا رشتہ قائم رہا ہے فری بلوچستان موومنٹ اپنے تمام کارکنان اور بلوچ عوام کے ساتھ یہ عہد دہراتی ہے کہ ہماری جدوجہد کا محور ہمیشہ بلوچ قوم کی مکمل آزادی رہے گا۔ ہم نہ کسی قابض ریاست سے سودے بازی کریں گے، نہ کسی وقتی مفاہمت کے جال میں پھنسیں گے۔ یہ جد وجہد طویل ہے، لیکن اس کا انجام ہماری آزادی ہے، اور یہ آزادی، ایران و پاکستان دونوں کے قبضے کے مکمل خاتمے سے ہی مشروط ہے۔