جولائی 1989 کو پیرس میں G7 کی سمٹ میں ایف اے ٹی ایف (فنانشل ایکشن ٹاسک فورس) تشکیل دیا گیا۔ جس کا بنیادی مقصد غیر قانونی رقوم کی ترسیل کی نگرانی کرنا ہے۔ اس فورم میں انہی  ممبر ممالک نے  اپریل 1990 میں پہلی دفعہ کالے دھن کیخلاف تجاویز پیش کی گئی ۔ بعد میں اس کی مزید  آبیاری کی گئی، ٹاسک فورس نت نئے سفارشات پیش کرتا رہا، نئی صدی کی اکتوبر 2001 میں ایسے 8 سفارشات پیش کئے گئے جس نے ٹاسک فورس کی عزم کو وسیع تر بنایا، ان میں دہشتگردوں کو رقوم کی فراہمی کیخلاف ان ممبر ممالک کا مشترکہ مشن شامل تھا۔ فروری2012 میں ایف اے ٹی ایف کے سارے سفارشات کی تشہیر کی گئی۔ منی لانڈرنگ کیخلاف مؤثر اقدامات، دہشتگردوں کو رقوم کی فراہمی اور بین الاقوامی مالیاتی نظام کی موثر نگرانی جیسے نقاط شامل تھے، انھی معیاری سفارشات کی قبولیت نے تنظیم کو مزید متحرک اور بااثر بنادیا۔ ایف اے ٹی ایف کے 37 ممبران ہیں۔ جس میں تقریباً تمام طاقتور ممالک شامل ہے۔ اسے War on Terror کے بانیوں کے تحفظات پیش کرنے کا بھی ایک مثبت پلیٹ فارم سمجھا جاتا ہے جہاں دہشتگردی کے خلاف جنگ میں غیر مخلص، دوغلا پالیسی یا دہشتگردوں کی مالی تعاون فراہم کرنے والے ممالک کے خلاف بِل پیش کیا جاتا ہے جس کی قبولیت کے بعد اسے ‘grey’ یا ‘black list’ میں ڈالا جاسکتا ہے۔ گرے لسٹ میں مذکورہ ریاست کو چند مدت دیا جاتا ہے تاکہ اصلاحاتی اقدامات کرکے بین الاقوامی مالیاتی نظام پر پورا اترے یا جو الزامات اس پر  لگا ہو وہ ان کا ازالہ کرسکے۔ اگر ریاست ایسا کرنے میں ناکام رہا تو اسے بلیک لسٹ میں شامل کیا جاتا ہے جسےNCCT (Non Cooperative Countries or territories) بھی کہا جاتا ہے اور بین الاقوامی مالیاتی پابندیاں عائد کی جاتی ہیں۔ پاکستان کےساتھ ایف اے ٹی ایف کا ناطہ رواں دہائی میں کافی الجھنوں کا شکار رہا۔ 2012 سے 2015 تک پاکستان گرے لسٹ میں شامل رہا۔ پاکستان نے ٹھیک سے سانس ہی نہ لی تھی کہ (FATF) کی گرے لِسٹ پھر سےخونخوار گدھ کی طرح پاکستان کی سر پرمنڈلاتاہوا بیٹھ گیا ۔ امریکہ کی جانب سے پاکستان کیخلاف اس قرارداد کی پیشکش جس کی حمایت جرمنی، فرانس اور برطانیہ کو حاصل ہے، دراصل پاکستان کی افغان طالبان ، داعش اور ان سے منسلک تنظیموں کی مالی معاونت کی اعتبار سے کی گئی ہے۔ امریکہ پاکستان پر بارہا الزام لگاتا رہا ہے کہ حقانی نیٹ ورک ،جماعۃ الدعوہ، جیش محمد، لشکر طیبہ کے بانی لیڈران کو پاکستانی حکومت کی پوری حمایت حاصل ہے اور مذکورہ تنظیموں کو محفوظ پناہ گاہیں بھی فراہم کی جارہی ہیں جو دہشتگردی کو ختم کرنے میں بڑی رکاوٹ ثابت ہورہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نئے سال کا ٹویٹر پیغام جس میں پاکستان کو دھوکے باز، ناقابلِ بھروسہ پارٹنر قرار دیا۔ ٹرمپ انتظامیہ نے ان کو مزید فنڈز بھی جاری کرنے سے اجتناب کیا۔ دوسری طرف پاکستان تمام الزامات کو مسترد کرتی آئی ہے۔ ایف اے ٹی ایف کا منعقد ہونے والا سیشن سے ایک ماہ پہلے پاکستان میں ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے ان تمام شرپسند تنظیموں کو کالعدم قرار دے دیا گیا تھا جنھیں اقوامِ متحدہ نے دہشت گرد قرار دیا ہوا ہے۔ اس آرڈیننس کے نفاذ کے بعد ملک میں انڈیا اور امریکہ کو مطلوب شدت پسند رہنما حافظ سعید سے منسلک تنظیم جماعت الدعوۃ اور اس کے نام نہاد فلاحی ونگ فلاحِ انسانیت فاؤنڈیشن کے خلاف کریک ڈاؤن بھی کیا گیا۔ گزشتہ برس اگست میں ایک نئی پارٹی ملی مسلم لیگ کا اسلام آباد میں اعلان کیا گیا جس کا سربراہ سابقہ کالعدم جماعۃ الدعوہ کے مرکزی عہدیدار سیف اللّٰہ خالد ہیں۔  ایم ایم ایل 2018 کے انتخابات میں بھی شرکت کا ارادہ رکھتی ہے۔ بعض مبصرین کے مطابق ایم ایم ایل جماعۃ الدعوہ کا متبادل ہے جس میں حافظ سعید کو بانیوں میں شمار کیا جارہا ہے۔ دنیا تشویش کا اظہار کررہی تھی کہ نومبر میں لاہور ہائی کورٹ نے حافظ سعید کو تمام الزامات سے بری کردیا۔ اس عمل نے نا صرف دنیاکی تشویش میں اضافہ کیا بلکہ دہشتگردی کے خاتمے میں شامل تمام فریقین کے سامنے پاکستان کی دوغلی پالیسی مزید عیاں ہوئی۔ یاد رہے گزشتہ برس افغان طالبان کے سربراہ ملا منصور کی پاکستان میں موجودگی اور ہلاکت، لشکر طیبہ کے اہم کمانڈر زکی الرحمان کو ضمانت کی درخواست پر رہا کرنا۔ یہ ماضی قریب کی وہ مثالیں ہیں جو ثابت کرتی ہیں کہ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان ایک ناقابلِ بھروسہ فریق ہے۔ ایف اے ٹی ایف کا ایک ہفتہ جاری اجلاس کے ابتدا میں پاکستان کے حمایت میں ترکی، چین، سعودی عرب اور جی سی سی رہے۔ پاکستانی وزیر خارجہ خواجہ آصف نے ٹویٹ پر قوم کو پیغام دیا کہ پاکستان کو واچ لسٹ میں شامل کرنے کی تمام تر کوششیں ناکام ہوچکی ہیں۔ دوسری طرف بھارتی ذرائع ابلاغ اس دعوے کو مسترد کرتی رہی۔ جبکہ دوسرے ہی دن سعودی عرب، جی سی سی اور چین نے پاکستان کے خلاف ووٹ ڈالے جو ایک گیم چینجر ثابت ہوا۔چین جسے پاکستان اپنی دیرینہ ساتھی قرار دیتارہا ہے اور وہ سعودی عرب کو  10،000 اضافی فوجی بھیجنے کا اعادہ کیا پر کچھ کام نہ آیا۔ بالآخر ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو 2018 جون کے مہینے میں ‘grey list’  میں شامل کرنے کا فیصلہ کیاہے۔ پاکستان کی تمام تر سفارتی کوششیں اس کے کسی کام نہ آئے۔ معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق گرے لسٹ کے کافی منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ اس  معاملے پر مالیاتی و اقتصادی امور کے ماہر “عابد سلہری” نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘اس گرے لسٹ میں نام آنا پاکستان کے لیے اقتصادی، سفارتی اور ایک سماجی دھچکا ثابت ہو گا۔ ‘سب سے بڑا اثر تو پاکستان کے بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ تعلقات پر پڑے گا، پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ، پاکستانی کی مالی ساکھ، ان سب کو بڑا دھچکا لگے گا۔ اس کے علاوہ پاکستان کی ساکھ کو بھی بڑا نقصان پہنچے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ‘پاکستان امن بحال ہونے کے بعد سرمایہ کاروں کو اپنے یہاں لانے کی جو کوشش کر رہی ہیں، انھیں نقصان پہنچے گی۔ اس کے علاوہ پاکستان کی طرف سے جو بھی پیمنٹ، یا سافٹ لون آنے والے ہوں گے اس کی زیادہ کڑی چھان بین ہو گی۔ ایسے حالات اور اس جیسے موقعے پر اس فہرست میں آنے سے پاکستانی ریاست اس کا متحمل نہیں ہو سکتا۔’ عابد سلہری کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس سال جولائی میں نیپال میں ایشیا پیسیفک گروپ کا اجلاس ہو گا جس میں پاکستان شمولیت کے عمل سے گزر رہا ہے۔ اگر پاکستان کا نام ایف اے ٹی ایف کی فہرست میں آیا تو اس کی شمولیت خطرے میں پڑ جائے گی۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا وہ بیان جہاں انھوں نے پاکستان کو سفارتی حوالے سے تنہا کرنے کا فیصلہ کیا تھا آج انہوں نے اپنے عمل سے عملا یہ ثابت کرکے دکھا دیا۔ اور اب بھی امریکہ سمیت بین الاقوامی قوتیں پاکستان کو اس خطے میں اہم جز سمجھتے ہیں کیونکہ چین جیسی توسیع پسند سامراج اور ایران جیسی مزہبی فاشسٹ اسٹیٹ کا مقابلہ فقط ‘بخشو’ کے ذریعے ہی کیاجا سکتا ہے۔