تحریر ۔ محراب بلوچ
عالمی سیاست کے موجودہ دور میں براہِ راست ریاستی جنگیں نایاب ہو رہی ہیں ۔ بڑی طاقتیں اپنے مفادات کے تحفظ اور مخالفین کو کمزور کرنے کے لیے بالواسطہ (Proxy) حکمتِ عملی اختیار کرتی ہیں، جس کے تحت تنازعات کو دیگر ممالک میں منتقل کر کے وہاں کے وسائل، سیاسی ڈھانچے اور عسکری توازن پر قابض ہونے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ ایران اسرائیل سے ہار چکا ہے اور اسرائیل کی عمارتوں کو ایران نے بہت نقصان پہنچایا ہے ۔ اب ایران اسرائیل سے اپنا بدلہ کچھ اس طرح سے لے گا کہ وہ اپنے پروکسیوں کو ایک بار پھر سرگرم عمل کرے گا ، جہاں ایران کو موقع ملے وہ اسی جگہ سے اپنے پروکسیوں کے ذریعے اسرائیل یا اسرائیلیوں پر حملہ آور ہوتا ہے ، جہاں تک بات اسرائیل کی بدلہ لینے کا ہے تو ان کے پاس سارے آپشنز ہیں ، پہلا اور سب سے بڑا آپشن امریکہ اور یورپ کی کمک اسرائیل کے ساتھ ہے دوسرا ایران میں وہ علاقے شامل ہیں جن کو قاجار نسل سے تعلق رکھنے والے شہنشاہ اور ملا رجیم نے جبری قبضہ کر رکھا ہے ۔ اگر اسرائیل ایران سے براہ راست جنگ نہیں کرے گا تو ان کے پاس بلوچ ، کرد سمیت اہوازی اور دیگر مظلوم و مقبوضہ اقوام کو کمک کرنے کا آپشن ہے ۔
علاوہ ازیں ،تاریخی طور پر دیکھا جائے تو افغانستان کی جنگ (1979۔1989) اس پالیسی کی واضح مثال ہے، جہاں امریکہ نے سوویت یونین کو ایک طویل جنگ میں الجھا کر معاشی اور عسکری طور پر کمزور کر دیا ۔ اس کے نتیجے میں سوویت یونین ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوا اور عالمی طاقتوں کے توازن میں بنیادی تبدیلی آئی ۔ اسی طرزِ فکر کا تسلسل شام کی خانہ جنگی (2011–تا حال) میں بھی نظر آتا ہے، جہاں مختلف بیرونی طاقتوں نے مداخلت کر کے مقامی تنازع کو بین الاقوامی سطح پر پھیلا دیا ۔ اس عمل کا بنیادی مقصد روس اور ایران جیسے حریف ممالک کے اثر و رسوخ کو محدود کرنا اور شام پر ان کے کنٹرول کو کمزور کرنا تھا ۔ بالآخر یہ ممکن ہو پایا اب شام پر وہی رہنما قابض جس کو امریکہ نے اپنے دہشتگرد لسٹ میں ٹاپ پر رکھا تھا اب نیا شامی رہنما امریکہ کی آنکھوں کا تارا ہے کیونکہ روس ، ایران اور ترکی سمیت کئی دیگر ممالک کا اثر ختم ہوگیا اب شام امریکہ کے ہاتھوں میں چلا گیا ۔ شام سے امریکہ کیا حاصل کرنا چاہتا ؟ شام کے ہاتھوں اپنا جنگ کس ملک سے ساتھ لڑے گا ۔ یہ بات کی بات ہے ، لیکن شام امریکہ کے اشاروں پر وہ سب کچھ کر گزر جائے گا جو امریکہ چاہتا ہے ، یعنی ایک اور پروکسی آمریکہ کو مل گیا ۔
مزید برآں، امریکہ اور اس کے اتحادی اسرائیل کو بھرپور عسکری و مالی امداد فراہم کرتے ہیں تاکہ مشرقِ وسطیٰ کے عرب ممالک پر دباؤ قائم رکھا جا سکے ۔ اس پالیسی کا بنیادی ہدف خطے کو غیر مستحکم رکھ کر اس کے توانائی وسائل اور جغرافیائی اہمیت پر بالواسطہ تسلط قائم کرنا ہے۔ اسی طرح یمن میں حوثی گروہوں کو پسِ پردہ مدد فراہم کر کے سعودی عرب اور خلیجی ممالک پر مسلسل دباؤ برقرار رکھا جاتا ہے ۔
اس کی بہت ساری مثالیں ہیں ،روس کو مزید کمزور کرنے کے لیے یوکرین کی جنگ (2022–تا حال) ایک حالیہ مثال ہے، جہاں امریکہ نے بالواسطہ سیاسی حمایت اور مالی امداد فراہم کر کے روس کو ایک طویل اور مہنگی جنگ میں الجھا دیا، جس کے معاشی اور عسکری اثرات آج بھی روس پر نمایاں ہیں۔
اکثر یہ سوال اٹھتا ہے کہ امریکہ یہ سب کس طرح ممکن بناتا ہے؟ عام تاثر یہ ہے کہ امریکہ کی طاقت اس کی بے پناہ دولت، جدید ہتھیاروں اور بڑی فوج میں مضمر ہے، مگر حقیقت اس سے زیادہ پیچیدہ ہے ۔ ہتھیار تو روس کے پاس بھی ہیں، بڑی افواج چین اور بھارت کے پاس بھی موجود ہیں، اور دولت سعودی عرب جیسے ممالک کے پاس بھی وافر مقدار میں ہے ۔ امریکہ کی اصل طاقت اس کی مستقل اور دور اندیش خارجہ پالیسی، مضبوط ادارہ جاتی نظام، سماجی و اخلاقی اقدار، اور حقیقی جمہوری ڈھانچے میں پوشیدہ ہے ۔ یہی وہ عوامل ہیں جو امریکہ کو اپنے مخالفین کے مقابلے میں زیادہ مستحکم اور فیصلہ کن بناتے ہیں۔
یہ فرق ہی امریکہ کو نہ صرف عالمی سطح پر اپنے مفادات کے تحفظ کے قابل بناتا ہے بلکہ اسے ایسی پالیسیاں وضع کرنے کی صلاحیت بھی دیتا ہے جو مخالف طاقتوں کو براہِ راست لڑائی کے بغیر کمزور کر سکیں ۔















