دنیا میں آزادی کی تحریکیں ہمیشہ ظلم، جبر اور قربانیوں کے نتیجے میں کامیاب ہوئی ہیں۔ جب غلامی کے اندھیرے ختم ہونے لگتے ہیں، تو جبر کرنے والے اپنی طاقت کا آخری زور لگاتے ہیں۔ بلوچستان کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے— جہاں گزشتہ 77 سالوں سے ظلم کی سیاہ رات چھائی ہوئی ہے، لیکن ہر رات کے بعد ایک نئی صبح آتی ہے۔بلوچستان پر ظلم کی تاریخ 1948 میں جب بلوچستان کو پاکستان میں زبردستی شامل کیا گیا، تب سے آج تک یہاں کے باسیوں کو اپنی سرزمین پر غلام بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بلوچ عوام نے ہمیشہ اپنی زمین، ثقافت اور تشخص کی حفاظت کے لیے جدوجہد کی، لیکن ہر بار ریاستی جبر کا سامنا کرنا پڑا۔ کبھی فوجی آپریشنز، کبھی مسخ شدہ لاشیں، کبھی جبری گمشدگیاں، تو کبھی معاشی استحصال— بلوچستان کو ایک میدانِ جنگ بنا دیا گیا ہے۔

پاکستانی فوج نے طاقت کے نشے میں بلوچستان کو اپنی جاگیر سمجھ رکھا ہے۔ مست ہاتھی کی طرح یہ طاقتور ادارہ بلوچوں کے سروں پر دوڑ رہا ہے، ان کے وسائل لوٹ رہا ہے، ان کی شناخت مٹانے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ ظلم ہمیشہ زیادہ دیر تک قائم نہیں رہتا۔

اسلامی اور تاریخی پس منظر

اسلامی تاریخ میں ہمیشہ آزادی کی جدوجہد کو اہمیت دی گئی ہے۔ جب نبی اکرم ﷺ نے اسلام کی دعوت دی، تو قریش کے ظالم حکمرانوں نے کمزور مسلمانوں پر بے پناہ ظلم کیے۔ حضرت بلالؓ کو دہکتے پتھروں پر لٹایا گیا، حضرت سمیہؓ کو نیزہ مار کر شہید کیا گیا، اور حضرت یاسرؓ کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ لیکن جیسے جیسے اسلام کا نور پھیلنے لگا، قریش کی مزاحمت بڑھتی گئی۔ بالآخر ظلم کی طاقت ماند پڑ گئی اور حق کا بول بالا ہوا۔ اسی طرح، تاریخ میں الجزائر، فلسطین، آئرلینڈ، ویتنام اور دیگر قوموں نے اپنی آزادی کے لیے جدوجہد کی اور کامیابی حاصل کی۔ بلوچ عوام بھی اپنے حق کے لیے مسلسل قربانیاں دے رہے ہیں، اور قربانیوں کے بغیر آزادی ممکن نہیں۔

بلوچستان: آزادی کے قریب؟

آزادی کی تحریک کو اگر ایک بچے کی پیدائش سے تشبیہ دی جائے، تو جتنا وہ لمحہ قریب آتا ہے، ماں کو اتنی ہی زیادہ تکلیف ہوتی ہے۔ اسی طرح، بلوچستان میں بھی آج جبر اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے— لاپتہ افراد کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے، فوجی آپریشنز میں شدت آ رہی ہے، وسائل کو بے دردی سے لوٹا جا رہا ہے، اور مظلوم عوام کی آواز دبائی جا رہی ہے۔ یہ تمام علامات اس بات کی گواہ ہیں کہ غلامی کی زنجیریں ٹوٹنے کے قریب ہیں۔ جیسے جیسے بلوچوں کا شعور بیدار ہو رہا ہے، ویسے ویسے ریاستی جبر میں اضافہ ہو رہا ہے۔ لیکن تاریخ کا سبق یہی ہے کہ جب ظلم حد سے بڑھ جائے تو اس کا زوال شروع ہو جاتا ہے۔

پاکستانی فوج اور ریاستی ادارے شاید یہ سمجھتے ہیں کہ طاقت کے زور پر بلوچ عوام کو ہمیشہ کے لیے غلام بنایا جا سکتا ہے، لیکن وہ بھول گئے ہیں کہ طاقت کبھی بھی ہمیشہ نہیں رہتی۔ بلوچ عوام کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، اور قربانیوں کے بعد آزادی کی روشنی ضرور طلوع ہوگی۔ جیسا کہ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا” (بے شک ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے) سورۃ الانشراح: 6 یہ آیت بلوچ عوام کے لیے امید کی کرن ہے— آزمائشیں سخت ضرور ہوتی ہیں، لیکن ان کے بعد آزادی کا سورج طلوع ہوتا ہے۔ بلوچستان کے زخم ضرور گہرے ہیں، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جو قومیں صبر اور استقلال سے اپنی جدوجہد جاری رکھتی ہیں، وہی آخرکار آزادی کی منزل تک پہنچتی ہیں۔