لندن (ہمگام نیوز) فری بلوچستان موومنٹ کے صدر اور بلوچ آزادی پسند رہنما حیربیار مری نے ایکس ( ٹویٹر ) پر اپنے پیغام میں سوال اٹھاتے ہوئے لکھا کہ پاکستان کا جولائی کے مہینے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت کرنا عالمی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ وہ ریاست جو مقبوضہ بلوچستان میں جنگی جرائم اور سنگین زیادتیوں میں ملوث ہے، کیا وہ ریاست جس نے دہشت گردی اور جہاد کو برآمد کر کے دنیا کو کھلے عام دھمکیاں دی ہیں، کیا وہ اب امن، استحکام اور پرامن تنازعات کے حل پر لیکچر دے گی؟

بلوچ رہنما نے مزید کہا کہ وہی ریاست جو نہ صرف نفرت کی تبلیغ کر رہی ہے بلکہ کشمیر میں دوسرے مذاہب کے خلاف بھی اس پر عمل پیرا ہے۔ پاکستان میں اقلیتی مذہبی گروہوں کو مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کرنے والے لوگوں کے لیے پاکستانی ریاست ایک سرپرست کا کردار نبھا رہی ہے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے نے کہا کہ وہ عالمی مسائل اور عالمی اختلافات کو سفارت کاری کے ذریعے حل کریں گے، یہ وہی ملک ہے جس نے افغانستان میں کئی دہائیوں کے خونریزی کو ہوا دی، 1970 کی دہائی میں لاکھوں بنگالیوں کو ذبح کیا اور ان کی تذلیل کی، اور اس وقت کے ایک بریگیڈیئر جنرل ضیاء الحق کے دور میں اردن میں ہزاروں فلسطینیوں کو قتل کیا۔ وہی ملک جس نے 1948 میں بلوچستان پر قبضہ کرنے اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 2 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسے غیر قانونی طور پر پاکستان کے ساتھ الحاق کرنے کے بعد سے اب تک لاکھوں بلوچوں کو قتل اور لاپتہ کیا ہے۔

حیربیار مری نے مزید لکھا کہ جب خان آف قلات کے چھوٹے بھائی شہزادہ عبدالکریم کو پاکستان کے ساتھ مذاکرات کرنے کے لیے کہا گیا اور اس کے بجائے اسے 17 سال قید میں رکھا گیا یا آپ نے کیسے بلوچ رہنما نواب نوروز خان کو اپنے پہاڑی قلعوں سے اتروا کر مذاکرات کرنے کی پیشکش کی اور پھر انکے ساتھیوں اور بیٹوں کو پھانسی پر لٹکا دیا اور وہ نوے سال عمر میں وہ شخص جیل کے اندر رحلت فرماگئے۔ پاکستان اور اداروں نے دونوں بار قرآن پر حلف لیا مذاکرات کرنے کا، مقدمہ چلانے کا نہیں، پھر دو بار قرآن کی سرعام بے حرمتی کی۔

جب ملزمان کو سزا دی جاتی ہے تو بین الاقوامی اعتبار ختم ہو جاتا ہے۔ احتساب کو کبھی استحقاق سے نہیں بدلنا چاہیے۔