بلوچستان، وہ سرزمین جو قدرتی خزانوں سے مالا مال ہے، مگر دہائیوں سے جبر و استبداد کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہے۔ یہاں کی ہر وادی، ہر پہاڑ، اور ہر ذرّہ گواہ ہے اس جدوجہد کا، جو ہمارے سرمچاروں نے اپنی جانوں کے نذرانے دے کر جاری رکھی ہے۔ ایک سیاسی کارکن ہونے کے ناتے، میرے دل میں ہر اُس شہید کا درد اور ہر زندہ سرمچار کی امید دھڑک رہی ہے جو بلوچستان کی آزادی کے لیے دن رات سرگرم ہے۔
آج بلوچستان کے طول و عرض میں کئی تنظیمیں سرگرم ہیں۔ ان سب کی راہیں چاہے مختلف ہوں، مگر ان کا مقصد ایک ہی ہے: بلوچستان کی مکمل آزادی۔ یہ تنظیمیں اپنے اپنے طریقے سے، اپنی حکمتِ عملی کے ساتھ، دشمن کے خلاف برسرِ پیکار ہیں۔ سرمچاروں نے نہ صرف دشمن کے فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، بلکہ پاکستانی قابض فوج کو وہ زخم دیے ہیں جن کا مداوا ممکن نہیں۔
آج دشمن کی حالت یہ ہے کہ بلوچستان کے پہاڑوں میں موجود فوجی چھاؤنیاں محض قلعے بن کر رہ گئی ہیں، جن میں فوجی اپنی جان بچانے کے لیے چھپے بیٹھے ہیں۔ خوف کی یہ فضا سرمچاروں کی ہمت، حوصلے، اور قربانیوں کا ثبوت ہے۔ دشمن کے ایک جرنیل کا یہ کہنا کہ “یہ چند پندرہ سو مٹی بھر لوگ ہم سے بلوچستان چھین لیں گے؟” — خود اس بات کا اعتراف ہے کہ یہ چند نہیں، ہزاروں حریت پسند ہیں، جو اپنی مٹی سے وفاداری کا حلف اٹھا چکے ہیں۔ پندرہ سو سے زائد نوجوان اس جدوجہد میں شہید ہو چکے ہیں، اور ہزاروں ابھی زندہ ہیں، تیار ہیں، اور قسم کھا چکے ہیں کہ اپنی آخری سانس تک لڑیں گے۔
پاکستانی ریاست اور اُس کی فوج کی طرف سے جو ظلم، جبر، لاپتہ افراد کی داستانیں، اجتماعی قبریں، اور روزانہ کی بنیاد پر انسانی حقوق کی پامالی ہو رہی ہے۔ وہ کسی بھی زندہ قوم کو بیدار کرنے کے لیے کافی ہے۔ یہی بیداری آج بلوچستان کے ہر کونے میں محسوس کی جا سکتی ہے۔ ہر نوجوان، ہر ماں، ہر بزرگ اب یہ عزم کر چکا ہے کہ وہ اس جبر کو مزید برداشت نہیں کرے گا۔
ہم جانتے ہیں کہ آزادی کی یہ راہ کٹھن ہے، قربانیوں سے بھری ہوئی ہے، مگر تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں نے استقلال اور حوصلے سے کام لیا، اُن کی منزل کبھی دور نہیں رہی۔ بلوچ سرمچاروں کی یہ تحریک محض جنگ نہیں، یہ ایک نظریہ ہے، زندہ رہنے، باعزت جینے اور اپنی شناخت بحال رکھنے کا نظریہ۔
ہمیں یقین ہے کہ وہ دن جلد آئے گا جب سورج بلوچستان کی پہاڑیوں پر ایک آزاد ریاست کے پرچم کے ساتھ طلوع ہوگا، اور ہر بلوچ اس سرزمین پر سر اٹھا کر جیے گا۔
بلوچستان زندہ باد، آزادی پائندہ باد۔















