بلوچ اور بلوچستان تاریخ کے ہر دور میں مزاحمت غیرت اور استقامت کے ساتھ پہچانے گئے ہیں یہ سرزمین اپنے عظیم پہاڑوں بے انتہا ریگستانوں اور پُر شور سمندر کے ساتھ عظمت اور آزادی کی علامت رہی ہے مگر یہ تمام قدرتی و تاریخی طاقت اس وقت ہی معنی رکھتی ہے جب اس کے باشندے متحد ہوں۔
اگر ہم بلوچ ایک آواز بن جائیں اگر قبیلوں اور شہروں کے درمیان کوئی فاصلہ نہ رہے اور سب ایک ساتھ کھڑے ہوں تو پھر دنیا کی کوئی طاقت ہمارا مقابلہ نہیں کرسکتی نہ ایران کا قابض ریاست بلوچ قوم کو شکست دے سکتی ہے اور نہ پاکستان کی قابض قوت ہمیں خاموش کرسکتی ہے پوری انسانی تاریخ گواہی دیتی ہے کہ کوئی بھی قوم چاہے چھوٹی ہی کیوں نہ ہو اگر متحد ہو تو ناقابلِ شکست بن جاتی ہے۔
بلوچوں کی طاقت کسی مسلط کردہ سرحد یا سیاسی تقسیم میں نہیں بلکہ اس خون میں ہے جو ہم سب میں مشترک ہے اس مادری زبان میں ہے اس قدیم ثقافت میں ہے اور اس غیرت میں ہے جو نسل در نسل ہماری رگوں میں دوڑتی آئی ہے دشمن ہمیشہ ہماری صفوں میں دراڑ ڈالنے کی کوشش کرتے رہے ہیں مگر یہی اتحاد ہے جو ان کے تمام منصوبوں کو خاک میں ملا سکتا ہے۔
آج ہمیں پہلے سے کہیں زیادہ بیداری اور اتحاد کی ضرورت ہے ہمیں یہ جاننا ہوگا کہ ہمارے درمیان چھوٹے سے چھوٹا اختلاف بھی دشمن کا سب سے بڑا ہتھیار ہے ہمیں سیکھنا ہوگا کہ آزاد اور سربلند مستقبل کی واحد راہ یہی ہے کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوں اور ایک عظیم اور متحد بلوچستان تعمیر کریں۔
متحد بلوچستان کا مطلب ہے ایک ایسی قوم جسے نہ کوئی فوج اور نہ کوئی عالمی طاقت شکست دے سکے یہ اتحاد کوہِ تفتان کی مانند ایک آتش فشاں بن سکتا ہے جس کی آگِ مزاحمت اور غضب کو کوئی بھی طاقت بجھا نہیں سکتی۔
آؤ ہم تفرقے کو چھوڑ دیں آؤ بلوچستان کو دوبارہ یکجہتی کی طرف لے جائیں صرف اتحاد کے سائے میں ہم اپنی تقدیر رقم کرسکتے ہیں آزادی کو اپنی سرزمین پر واپس لا سکتے ہیں اور دنیا کو دکھا سکتے ہیں کہ بلوچ اگر متحد ہو تو ناقابلِ شکست ہے۔
امید ہے ایک آزاد خوشحال اور متحد بلوچستان کے لیے















