شہید اکبرخان بگٹی نے ایک سندھی خاتون سے زیادتی پر وقت کے فرعون سے ٹکر لیکر امر ہوگئے اور یہ بلوچ سردار ہونے کا وہ شاندار اٹل پیمانہ ہے کہ اگر کوئی خود کو بلوچ نواب و سردار سمجھتا ہے تو اُس سے اس کا رتبہ یہی تقاضا کرتا ہے کہ وہ قوم کے عزت و وقار پر کوئی سمجھوتہ نہ کرے۔مگر بدقسمتی سے انگریز نے جاتے جاتے بلوچ نواب و سرداروں کو وظیفہ خور بنا کر بدلے میں اُنکا شجاعت ،بلوچیت اور آنکھوں کا پانی سمیت مردانگی کے تمام اوصاف ساتھ لے گیا اگر کچھ رہ گیا ہے تو صرف مونچھے ہیں جنہیں پاکستان نے پکڑرکھے ہیں ۔انگریز کے بعد پاکستانی خفیہ اداروں نے نئے سینکڑوں سردار میر و ٹکری و سیاسی لیڈر بنائے تاکہ پُرانے والے کسی مقام پر اگر ناکارہ ہوئے یا مقررہ تنخواہ سے زیادہ مانگنے لگے تو اُنھیں قابو میں رکھنے نیم البدل ہمہ وقت دسترس میں رہے انھوں نے چُن چُن کر ایسے لوگوں کو بھرتی کیا جو خیر سے پہلے سے تمام بلوچی اوصاف سے فارغ تھے اورگراؤٹ میں پہلے والوں سے بھی کئی آگے تھے اوراب بات یہاں تک پہنچی ہے کہ پُرانے اور نئے نوکر منظورنظر رہنے کیلئے ایک دوسرے سے تعبیداری میں سبقت لے جانے کوئی بھی موقع جانے نہیں دیتے اس لئے اُنکو بلوچستان میں جو قوم کی اجتماعی تذلیل ہورہی ہے بالکل بھی دکھائی نہیں دیتا نہیں توآج بانُک ماہ جبین ،بانُک نمرہ ،بانُک صغریٰ ،بانُک نصرت ،بانُک افسانہ سمیت جیسی بلوچ بچیاں جو مہینوں سے فورسز یا اُنکے پشت پناہی میں چلنے والے ڈیتھ اسکواڈز کے غنڈوں کے تحویل میں ہیں اُنکے بے بس والدین بھائی عزیز در در سر ٹکرا رہے ہیں مگر کوئی اُنھیں سُننے والا نہیں اور یہ سردار و نام نہاد سیاسی لیڈرزتماشائی بنے ہیں۔

جوقوت بی وائی سی کی شکل میں لوگوں کو ایسے موقعوں پر متحرک کر کے ریاست کو اپنے فیصلوں پر نظرثانی کرنے مجبور کرتا تھا اُسے ریاست نے انہی قوتوں کے زریعے ساتھیوں سمیت پابند سلاسل کیا اور اُنکے دیگر ساتھیوں میں کچھ کو اشتہاری قرار دیا کچھ کے نام فورتھ شیڈول میں ڈال کر انکی سرگرمیوں کوہر لحاظ سے محدود کیا اور میدان کو ان کیلئے خالی کیا جو بلوچ مسلے کو صوبہ بلوچستان کا مسلہ بتانے بضد ہیں اور اسکی غلط تشریع کرکے اُسے پاکستانی الیکشن ،فارم سنتالیس اور پاکستانی آئین پر عمل درآمد جیسے ثانوی باتوں سے جوڑ کربلوچ تحریک آزادی کو قوم اور دنیا کے سامنے ایک مہم جوئی ظاہر کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ایسے میں جب ریاست تحریک آزادی کو دبانے پُرامن جدوجہد کرنے والی بلوچ خواتین کو نشانہ بنا رہی اور یہ سب نام نہاد قوم کے والی وارث خاموش ہیں تو اس سے صاف ظاہر کہ یہ لوگ ریاست کے اس گھناؤنے کام میں شریک ہیں نہیں تو بلوچ بچیوں کو اُٹھا کر غائب کرنا تو دور کی بات ہے اُنکی طرف غلط نظروں دیکھنے والوں کے یہ اُنکھیں نوچ لیتے۔

بی وائی سی کو ان زرخریدوں نے کیسے ریاست کیساتھ مل کر غیر فحال کرایا اُسے سمجھنے کیلئے پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک حقیقی واقعہ یاد کرتے ہیں کہتے ہیں راولپنڈی میں یحیٰ خان کے زمانے میں اسکے پالیسیوں کے خلاف ایک بہت بڑا پُرجوش جلوس نکلا اور جلوس کا رُخ جنرل کے گھر کی طرف تھا یہ دیکھکر انتظامیہ انتہائی پریشان ہو گئی کیونکہ وہ دیکھ رہے تھے کہ یہ جلوس اُن سے قابو میں نہیں آنے والا اور اگر یحیٰ خان کے گھر تک پہنچ گئے توکچھ بھی ہو سکتا ہے۔یحیٰ خان کو رپورٹ مل رہی تھی اُس کے بھی پسینے چوٹنے لگے ہال میں ادھر اُدھر ٹہل کر سگار پر سگار سلگا کر کش پر کش لگا کر گویا موت کا انتظار کررہا تھا۔آئی جی پنجاب راؤ رشید کو کوئی راستہ نظر نہیں آرہا تھا کہ ایسے میں اُس کے زہن میں ایک شیطانی خیال آیا اور اُس نے پاکستان کے سب سے بڑے تخریبی جماعت جماعت اسلامی کے امیر سے رابطہ کیا کہ وہ کسی طرح سے اس جلوس کا رُخ موڑ دے ہماری پولیس فورس تو بالکل بے بس ہے ۔امیر نے یقین دلائی کہ اب آپ بے فکر رہیں اور جنرل صاحب سے کہیں اطمنان رکھے سب ٹھیک ہو جائے گا ۔ بس کیا ہوا آپ نے ہنگامی بنیادوں پر جماعت اسلامی کے نوجوانوں کو جلوس میں شامل ہونے اور اُسے اپنے قابو میں لانے کے احکامات دئے دیکھتے ہی دیکھتے جماعت کے لڑکے پیدل جلوس میں شامل ہوئے پہلے اُنکے نعروں کے جواب دینے لگے مگر کچھ دیر بعد نعروں کا کمان سنھبالتے ہوئے اُن کا رُخ امریکہ مردہ باد ہندو مردہ باد فحاشی نہیں چلے گی شراب فروشی نامنظور جیسے نعروں کی طرف موڑ دیا۔ اپنے نعروں سے جلوس کو ایسے گرما دیا کہ اُنھیں بالکل پتہ ہی نہیں چلا کہ کب وہ راولپنڈی کے شراب کے دکانوں پر ٹوٹ پڑے توڑ پھوڑ شروع ہوئے جس کو جو ہاتھ لگا لے کر بھاگنے لگا اور یوں جلوس جو جنرل یحیٰ کو لتاڑنے نکلا تھا چند شراب کی دکانوں میں توڑپھوڑ اور لوٹ کھسوٹ کے بعد خود بخود منتشر ہوگیا۔

جب وائی سی کی قیادت ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سمیت گرفتار ہوگئی تو پورا بلوچستان کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں احتجاجی جلسے شروع ہوئے اور وہ جس جوش و جذبے سے شروع ہوئے تھے اُنھیں سنھبالنا بالکل بھی ریاست کے بس میں نہیں تھا امکان یہی تھا کہ اگر ھفتہ دس دن کے اندر ماہ رنگ بلوچ کو ساتھیوں سمیت رہا نہیں کیا گیا تو کوئٹہ جانے والی اور بلوچستان کو دیگر صوبوں سے ملانے والی شاہراہوں کو بلوچ خواتین و بچے بوڑھے دھرنا دے کر بند کریں گے ایسے میں ریاست کیلئے راولپنڈی کے جماعت اسلامی کا تخریبی کردار بلوچستان میں بی این پی مینگل نے ادا کیا شروع میں لکپاس دھرنے میں بی وائی سی قیادت کی رہائی کیلئے نعرے لگے جو بعد میں آل پارٹیز کانفرنس تک پہنچتے پہنچتے سرفراز بگٹی مردہ باد اور فارم سنتالیس کی گورنمنٹ نامنظور جیسے نعروں کیساتھ اختتام پذیر ہوئے۔حالانکہ اُنکے ڈرامے کا اسکرپٹ بہت ہی بھونڈا اور ناقاص تھا وڈھ میں ایف سی کے ہاتھوں بے گناہوں پر فائرنگ و شہادتوں سے لے کر ناکام خودکُش حملے تک اور اپنے پارٹی کے عام ورکروں کو تھانے میں بند کرانے تک جن کو بعد میں ضمانت پر رہا کیا گیا مگر جو اصلی لوگ تھے وہ رہا نہیں ہوئے اور یہ سارا ڈرامہ انہی لوگوں کو اندر کرکے توڑنے کیلئے تھا۔

بی وائی سی تحریک کو منتشر اور غیر فحال کرنے کے بعد ریاست نے بلوچ خواتین پر حملوں کو تیز کیا مذکورہ بالا بلوچ بچیاں بی وائی سی قیادت کے پابند سلاسل کرنے کے بعد اغواء ہوئے ہیں لیکن اُن کے کیلئے کسی نے نہ آواز اُٹھائی نہ دھرنا دیا حالانکہ لکپاس دھرنے کو بلوچ ننگ و ناموس کے حفاظت سے منسوب کیا گیا تھا ۔اگر یہ نعرہ حقیقی اور اخلاص سے لگایا جاتا تو یہ جماعت اور اس کے ساتھ آل پارٹیز میں شریک جماعتیں ان بچیوں کی با حفاظت بازیابی کیلئے مشترکہ جدوجہد کرتے مگر چونکہ اُنکا نعرہ کھوکھلا اور لوگوں کو منتشر کرنے کیلئے تھا اس لئے نہ وہ بعد میں ماہ رنگ بلوچ اور ساتھیوں کیلئے کچھ کرنا در کنار سابق سینیٹر مشتاق آحمد کی طرح گزشتہ سات مہینوں میں ایک بار اُن سے جیل میں یا عدالت میں ملنے کی کوشش بھی نہ کر سکے نہ جبری گمشدہ بچیوں کی بازیابی کیلئے کچھ عملی کر سکے اور نہ ہی بعد میں پنجگور میں ایک اور ماں اور بیٹی کے اغواء اور زیادتی پر اُن کا غیرت جاگا جو بچی پاکستانی فورسز کے حیوانیت کا شکار ہو کر زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسی۔

کچھ لوگ ان کا دفاع کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ بہت سے سردار و سیاستداں اسمبلیوں میں نہیں ہیں اور جو اسمبلیوں میں ہیں اُنکے مدافع کہتے ہیں وہ تو اپوزیشن میں ہیں اس لئے کچھ نہیں کر سکتے۔اُن کیلئے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور منظور پشتین کی مثالیں کافی ہونی چائیں جو نہ اسمبلیوں میں تھے نہ اسمبلیوں میں جانے کا ارادہ رکھتے پھر بھی ایسی پُرامن احتجاجی مظاہرے کئے جو ریاست کیلئے ناقابل برداشت رہے چنانچہ ننگی جارحیت سے ریاست اُنھیں جھوٹے بے سر و پا کیسز میں الجھا کر عوام سے دور رکھ رہی ہے ۔ مختصراً اگر کسی کو کچھ کرنا ہو تو وہ وسیلے ڈھونڈتا ہے اگر کچھ نہیں کرنا چاہتا اور نیت ٹھیک نہیں تو سکوت کیلئے سو بہانے بنا سکتا ہے۔

( ختم شُد)