‎بلوچ قومی آزادی تحریک کا مطالعہ جہاں سے بھی شروع کریں ہمارے لیڈروں کا زبردست کردار رہا ہے۔ نواب نوروزخان سے لے کر مرحوم نواب خیربخش مری اور ڈاڈائے قوم شہید نواب اکبر خان بگٹی کے قربانیاں اور جہد پوری قوم اور دنیا کے سامنے عیاں ہے جنہوں نے ہمیشہ بلوچ قومی مفاد کیلئے اپنے زندگیاں وقف کیں اور جب پاکستان کے ساتھ بلوچ قوم کی بقاء کو لاحق خطرات محسوس کیئے تو انھوں نے بلوچستان کی  جنگ ازادی کی بنیاد اپنے بے مثال قربانیوں اور خود سے رکھا جس میں کسی مڈل کلاس کا اتنا کوئی خاص کردار نہیں تھا۔ لیکن ماضی میں بلوچ تحریک کو ناکامی کا سامنا ہوا تو ان ناکامیوں کا سبب کہی نہ کہی  مڈل کلاس طبقہ  رہا ہیں چاہے نواب نوروز کی گرفتاری  ہو یا افغانستان سے نواب خیربش مری کے واپسی یا پھر نواب اکبر بگٹی کے شہادت یہ سب تاریخ کا ایک حصہ ہے۔ ‎ لیکن پھر بھی ہم سمجھتے ہیں کہ بلوچستان کی آزادی کی اس موجودہ تحریک میں ہر طبقے کے لوگوں کی کردار واضع ہیں اس سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ اس تحریک میں سردار، نواب، مڈل کلاس، امیر غریب، پڑھے لکھے ڈاکٹر، وکیل اور ان پڑھ چرواہوں، کسان، عورتیں بوڑھے، بچے سب کی قربانیاں شامل ہیں… ‎مگر ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ایک گروہ کی جانب پھرسے مڈل کلاس کا نعرہ لگایا جارہا ہے جو اس مہم کے شروعات میں پاکستان نے لگایا تھا پھر ڈاکٹر مالک کے گلے میں گھنٹی باندھ کر لٹکا دیا گیا۔جو انھوں نے اقتدار تک بجاتے بجاتے چھوڑ دیا، بڑے افسوس کی بات یہ ہے کہ اب کچھ آزادی پسند لوگ اس گمراہ نعرے کو خوب پیھلا رہے ہیں، اتحاد سے لیکر اختلافات تک وہی جاہلیت سوچ پر بیٹھے ہوئے پاکستانی  جرنیلوں کے باتوں کو دوہراتے چلے آرہے ہیں تاکہ ان کے گروہی سیاست میں کچھ فائدہ ہوسکے لیکن اصل میں اس مہم کا آغاز پاکستان نے تب کیا تھا جب بلوچستان کی عوام اپنے بزرگوں کی سربراہی میں پاکستان کی لوٹ مار کے خلاف بات کرنے لگے اور پاکستانی سیاستدان اور جرنیل یہی سمجھے کہ بلوچستان میں قبائلی نظام اور سرداری، نوابی سسٹم کو ختم کیا جائے تو بلوچوں کی آزادی تحریک دم توڑ دیگی لیکن ریاست پاکستان اس مہم کو کامیاب نہ کرسکا مگر اب ایک بار پھر آزادی کے تحریک کی صفوں میں بیٹھ کر کچھ لوگوں کے زبان پر بھی یہی نعرہ ہے پتہ نہیں کہ کب تک گاتے رہے گے؟ ‎گزشتہ روز بلوچ مسلح آزادی پسندوں تنظیموں کی جانب سے ایک اہم اعلان کیا گیا کہ بلوچ سرزمین کی آزادی جنگ میں لڑنے والے تین تنظیموں کے درمیان اشتراک عمل پر اتفاق ہوا ہے جس میں بی آر اے، یونائیٹڈ بلوچ آرمی اور لشکر بلوچستان شامل ہیں انہوں نے دیگر مسلح تنظیموں کو بھی اس اتحاد میں شامل ہونے کی دعوت دی  ۔ ‎اس کے بعد سوشل میڈیا میں بلوچ مسلح تنظیموں کے درمیان ہونے والے اس اتحاد کو مقصد کے حصول کی طرف ایک مثبت قدم کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ لیکن ساتھ ساتھ اس اتحاد سے فیس بک اور ٹوئٹر میں کچھ لوگ اختلافات کا اظہار بھی کررہے ہیں جس میں بی این ایم اور ڈاکٹر اللہ نظر کے ساتھی سب سے زیادہ ناخوش نظر آتے ہیں۔ ‎لیکن بڑے افسوس کے ساتھ یہ سوال کہنا پڑرہا ہے کہ بی ایل ایف اور بی این ایم جیسے قومی ادارے آخر کیوں ہمیشہ اتحاد سے بھاگتے ہیں؟ ایک طرف تو بی این ایم اور بی ایل ایف کے سربراہ ڈاکٹر اللہ نظر صاحب اخباری بیانات سے دعوی کرتے ہیں کہ آزادی پسند دوست اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کریں، دوسری جانب یہ لوگ اتحاد سے منہ موڑ دیتے ہیں جیسے ان کے سامنے اتحاد و قومی یکجہتی کی  کوئی حیثیت نہ ہو۔ اس سے مجھ سمیت کئی لوگوں کو محسوس ہوتا ہے کہ یہ ادارے خود اس سازش کا حصہ ہیں کہ بلوچ قوم میں اتحاد و اتفاق نہ رہے۔ ‎بلوچ مسلح تنظیموں کی اتحاد ہماری کامیابی کا امید اور دشمن کی مایوسی ہے اس اتحاد و یکجہتی کا چراغ  ہمیں جو دکھائی دے رہا ہیں۔ بلوچوں کی حالیہ تاریخ میں اسکی نظیر نہیں ملتی یہ ہماری قومی یکجہتی اور ہم آہنگی کا بے مثال مظاہرہ ہے، اسکی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ اتحاد و اتفاق سے ہمارے درمیان بڑھتی ہوئی نفرتیں اور دوریاں ختم ہونگے اور ‎بلوچ مسلح تنظیموں کے درمیان اس اتحاد کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ دیگرمسلح گروپس اور سیاسی جماعتوں اور ہر بلوچ اپنا کردار ادا کریں کیونکہ اتحاد واحد ذریعہ ہے جس سے ہم دشمن کی تمام سازشیں ناکام بنا سکتے ہیں۔