پاکستانی ریاستی میڈیا ہمیشہ سے بلوچ تحریکِ آزادی کو ایک “سازش” قرار دیتا آیا ہے۔ اسی ریاستی بیانیے کو صحافتی لبادہ پہنا کر بعض پاکستانی مشہور صحافی حامد میراسے عالمی سطح پر پیش کرتے رہے ہیں۔ بلوچ قوم دوست حلقوں میں حامد میر کو ایک ایسا چہرہ سمجھا جاتا ہے جو بظاہر انسانی حقوق اور جمہوریت کی بات کرتا ہے، مگر درپردہ پاکستانی و ایرانی ریاستی مفادات کا محافظ ہے۔

حامد میر کو 2014 میں قاتلانہ حملے کے بعد عالمی سطح پر ہمدردی ملی، اور انہیں “آزادی اظہار” کا علمبردار سمجھا گیا۔ مگر سوال یہ ہے کہ:جب ہزاروں بلوچ نوجوان جبراً لاپتہ کیے گئے۔جب خواتین اور بچوں کے ساتھ اجتماعی ظلم ہوا۔جب ایرانی سرزمین پر بلوچوں کو اجتماعی پھانسیاں دی گئی،تب حامد میر کہاں تھے؟ اور اگر کبھی ان واقعات کا ذکر بھی کیا، تو اسے ریاست کے نقطہ نظر سے “دہشت گردی” کے تناظر میں پیش کیا۔

بلوچ آزادی کی بین الاقوامی حمایت کو “غیر ملکی مداخلت” قرار دے کر رد کرتے ہیں۔بیرون ملک مقیم آزادی پسند رہنماؤں کو “ایجنٹ” یا “سیاسی طور پر ناکام” قرار دیتے ہیں۔ریاست نواز بلوچوں کو میڈیا میں جگہ دے کر تحریک میں اختلاف ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔

یہ طریقہ کار صرف صحافت نہیں بلکہ ایک سیاسی منصوبہ بندی اور پنجابی سازش کا حصہ سمجھا جاتا ہے، جس کا مقصد تحریک کو داخلی طور پر تقسیم اور عالمی سطح پر بدنام کرنا ہے۔

پاکستانی مقبوضہ بلوچستان کی طرح، ایرانی مقبوضہ بلوچستان (سیستان و بلوچستان) میں بھی بلوچ عوام بدترین ریاستی جبر کا شکار ہیں۔ معروف بلوچ شاعر “مولوی عبدالمجید مرادزئی” کی کو صرف اس لیے زندان میں اذیتیں دی گئی کیونکہ اس نے بلوچ قوم پر ظلم و جبر کو برداشت نہیں کیا اور ایرانی رجیم کو بلوچ قوم کا قاتل جانا اور خونی جمعہ جس میں سینکڑوں بے گناہ بلوچوں کو شہید کیا ۔ سینکڑوں سیاسی قیدیوں کو ایرانی رجیم کے منشاء سے سزائیںدیں، عالمی انسانی حقوق کے اداروں کی رپورٹس میں واضح ہیں۔

ایران کی ان کارروائیوں پر خاموش رہتے ہیں،ایران کی مخالفت کو “فرقہ وارانہ ایجنڈا” کہہ کر نظر انداز کرتے ہیں۔

ایرانی و پاکستانی ریاستوں کے اتحاد کو بلوچ دشمنی کے تناظر میں نہیں دیکھتے ۔یورپی یونین اور مختلف تھنک ٹینکس کے محققین نے پاکستانی میڈیا اور بلوچ تحریک پر کئی تحقیقی مقالات لکھے ہیں۔

ذیل میں چند اہم حوالہ جات پیش کی جا رہے ہیں:

1. Brad Adams (Asia Director – Human Rights Watch): “The enforced disappearances and the silence of mainstream Pakistani media, including popular anchors, are a calculated strategy to marginalize Baloch voices.” (2020 HRW Report on Pakistan) 2. Dr. Carlotta Gall (British journalist and author of “The Wrong Enemy”) “Pakistani journalists often use nationalistic framing to dismiss legitimate autonomy movements like that of the Baloch. The media silence isn’t ignorance—it’s complicity.” 3. European Parliament Resolution 2023/2730(RSP)

اس قرارداد میں بلوچ عوام پر ہونے والے مظالم کی شدید مذمت کی گئی اور میڈیا بلیک آؤٹ کو ایک سنگین انسانی حقوق کا بحران قرار دیا گیا۔

4. Amnesty International – Report on “Media Bias and Minority Silence in Pakistan” (2022)

“Mainstream journalists, under the guise of neutrality, often support state policies and delegitimize indigenous struggles including the Baloch nationalist cause.”

بلوچ قوم کے لیے یہ سوال محض صحافتی پالیسی کا نہیں بلکہ بلوچ قوم کی بقاء اور شناخت کا ہے۔ حامد میر جیسے صحافی کشمیر پر تو آواز بلند کرتے ہیں مگر بلوچ نسل کشی پر خاموش رہتے ہیں۔فلسطین کی مزاحمت کو “حق” کہتے ہیں مگر بلوچ مزاحمت کو “غداری” آزادی اظہار کے دعویدار ہیں مگر بلوچ رہنماؤں کو کوریج دینے سے کتراتے ہیں۔وہ صحافی نہیں بلکہ ریاستی پروپیگنڈا کا حصہ ہیں۔ بلوچ عوام ان پر اعتماد نہیں کرتے، اور دنیا کو بھی ان کے بیانیے کو چیلنج کرنا چاہیے۔

یورپی میڈیا اور دانشور وں سے اپیل ہے کہ وہ بلوچ تحریک کو براہِ راست سنیں اور رپورٹ کریں۔حامد میر جیسے متنازع صحافیوں کے بیانیے کو بغیر جانچ کے قبول نہ کریں۔بلوچ آزادی کی آواز کو بین الاقوامی سطح پر جگہ دی جائے تاکہ حقائق چھپ نہ سکیں۔