بلوچ خواتین سے مبینہ جنسی تشدد
مسئلہ غیرت کا نہیں اجتماعی قومی طاقت کا ہے
داد شاہ بلوچ
سب سے پہلے تو یہ بات واضح ہوجائے کہ پاکستان بحیثیت ایک قبضہ گیرریاست کے بلوچ قومی دشمن ہے، اس میں کوئی دو رائے نہیں ہونی چائیے کہ ایک دشمن کے ناطے اس سے ان تمام اعمال و کردار کی توقع رکھنی چائیے جو کہ ایک دشمن فریق سے رکھی جاتی ہیں، دشمن جتنا بڑا، دشمنی جتنی شدید اور دشمنی کا حجم اور پھیلاؤ جتنا زیادہ اور دائرہ جتنی وسیع ہوگی تو یقینا دونوں اطراف سے کاروائیوں کا میعار، حجم اور شدت و دائرہ بھی اسی حساب سے زیادہ ہوتی ہیں، پاکستانی ریاست کو فی الحال بلوچ قوم کے ساتھ ایک انخلا یا بیدخلی کی کوششوں پر مبنی طویل المعیاد جنگ کا سامنا ہے، قوموں کے مابین لڑی جانے والی جنگیں محدود پیمانے پر شروع ہوکر چلتے چلاتے وسیع پیمانے پر منتقل ہوجاتے ہیں اور طول پکڑتے ہمہ جہتی یعنی ” ٹوٹل وار ” میں تبدیل ہوجاتی ہیں، جب جنگ طول پکڑ لے تو دشمن اپنی ناکامیوں اور تھکاوٹ کو چھپانے کی خاطر ان تمام لوگوں کو جنگ میں گسھیٹنے کی کوشش کریں گی جو باقاعدہ اس جنگ میں فریق نہیں ہیں، ” ٹوٹل وار کی تعریف میں کہا جاتا ہے کہ
In the modern era, the idea of Total War is defined as: “Total war is warfare that includes any and all civilian-associated resources and infrastructure as legitimate military targets, mobilizes all of the resources of society to fight the war, and gives priority to warfare over non-combatant needs. The American-English Dictionary defines total war as “war that is unrestricted in terms of the weapons used, the territory or combatants involved, or the objectives pursued, especially one in which the laws of war are disregarded.”
اب پاکستان چاہے لاکھ کہہ دے کہ وہ محض بلوچ جنگجوؤں سے لڑ رہا ہے لیکن حقیقت میں وہ ایک ہمہ جہتی جنگ لڑرہی ہے جس میں بچے بوڑھے عورتیں اور مال مویشی سب کے سب اس کے نشانے پر ہیں ان سب کو اپنی جنگی برتری کے لیئے حسب ضرورت استعمال کیا جاتا ہے جنگی قوانین کی پامالی اسی ” ٹوٹل وار” کی کڑیاں ہیں، طویل المدتی جنگوں میں طبعی یا ظاہری قوت سے زیادہ اعصابی قوت کا کردار اہم ہوتا ہے، یعنی قوت برداشت، جنگ میں ہونے والی عمل اور اسکے رد عمل میں سرزد ہونے والے واقعات سے کس حد تک ایک قوم اپنی قوت برداشت کو نہ چھوڑتے ہوئے استقامت کا اظہار کرسکے گی یہ اسکی نفسیاتی جیت اور دشمن پر نفیساتی دباؤ بڑھانے جیسی احساس برتری کی اثرات پیدا کریگی، دوران جنگ کسی ایسے دشمن سے جس میں احساس برتری کا رجحان بدرجہ ہائے اتم موجود ہو اور وہ دشمن قوم کو اپنی مقبوضہ سمجھتی ہو تو وہاں کسی بھی کسی قسم کے واقعے کی وقوع پذیر ہونے کے امکانات ہمہ وقت روشن اور موجود رہتے ہیں، انسانیت سوز مظالم، جبری اغوا، گرفتاریاں، گاؤں اور بازاروں کا صفحہ ہائے ہستی سے ملیامیٹ کرنا، آبادیوں کی جبری منتقلی، مسخ شدہ لاشوں اور اجتماعی قبروں سمیت عقوبت خانوں میں دسیوں سال سے بدترین تشدد کے تجربات جیسی حربے روز اول سے پاکستان اور بلوچ کے رشتے کی تشریح کرتے ہوئے چلتے چلے آرہے ہیں، لیکن ان سب سے ایک قدم آگے جاکر بلوچ خواتین کو درجنوں کی تعداد میں اغوا کرکے فوجی کیمپوں میں منتقل کرنے کی بھی وقتا فوقتا اطلاعات مقامی میڈیا یا سوشل میڈیا میں آتی رہی ہیں، خود اللہ نظر کی بیوی اور ایک اور تنظیم سے وابستہ جہدکار اسلم بلوچ کی ہمشیرہ اور ایک دو اور بلوچ خواتین کو ایک ساتھ گرفتار کرکے لے جایا گیا اور کچھ دنوں بعد ان سب کو میڈیا کے سامنے لاتے ہوئے شال اور چادریں پہنا کر رخصت کیا گیا، ماضی میں مری اور بولان سے بھی درجن بھر خواتین کو اغوا کرکے کیمپوں میں رکھا گیا، مشکے اور آواران میں بھی خواتین کو اغوا کرنے ان پر تشدد کرکے انہیں جان سے مارنے کی بھی واقعات ریکارڈ پر موجود ہیں، لیکن ابھی حال ہی میں خاران کے علاقے واشک سے درجن بھر خواتین کو فوجی کیمپ لے جاکر یا دھوکے سے بلا کر ان سے عصمت دری یا جنسی تشدد کے واقع کا دعوی اللہ نظر کی جانب سے سب سے پہلے میڈیا پر شائع ہوا، پھر اسکے بعد بہت سے لوگوں کی طرف سے اس امر کی مذمت کی گئی، اس سلسلے میں بیانات دیئے گئے، عالمی اداروں کو آواز دیا گیا ان کو متوجہ کرنے کی کوششیں ہوئیں، سوشل میڈیا پر محدود پیمانے کی مہم چلائے گئے، مظاہرے ہوئے گو کہ واقع کو اب دس روز سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہیں، ہم ادھر ادھر دیکھتے رہے کہ کہیں اس واقعے کے حوالے سے کوئی ایسا ثبوت منظر عام پر آجائے تاکہ اس امر کی غیر جانبدارانہ اور آزادانہ بنیادوں پرتصدیق کی جاسکے، لیکن ابھی تک کوئی خاطر خواہ تصدیقی بیان، نقطہ یا بات سامنے نہیں آئی ہے۔
تصدیقی بیان یا نقطے سے مراد یہ کہ جن خواتین پر جنسی تشدد کا دعوی کیا جارہا ہے کیا وہ اسی بلوچستان کے باسی نہیں ہیں، اگر ہیں تو یقینا کسی قبیلے یا اسکی کسی شاخ سے انکا تعلق بھی ہوتا ہوگا، انکا نام پتہ اور خاندانوں کی سیاسی پس منظر بھی ہوتی ہوگی کہ وہ کون تھے اور کس وجہ یا کس بنیاد پر ان کو لے جاکر جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا، آیا انکی کوئی بیان یا ویڈیو ریکارڈ کرکے میڈیا پر نہیں لائی جاسکتی تھی کیونکہ وہ متاثرہ ہیں سب پہلے تو انصاف انکی ذات کو ملنی چاہیئے تھی پھر یہ مسئلہ قوم یا قوم کے دیگر حلقوں سے تعلق رکھتی ہوگی، آیا جو تنظیمی یا پارٹیاں اپنے آپ کو ماس پارٹی و عوامی پارٹی اور ادارے کے بہترین شکل کہتے اور کہلواتے ہوئے نہیں تھکتے کیا انکا کوئی نمائندہ یا ہمدرد اس علاقے میں جاکر انکی نام پتے اور قبائلی و خاندانی نسبت معلوم نہیں کرسکتی تھی، مان لیتے ہیں کہ ویڈیو بناکر ناقابل تردید ثبوت لانا قدرے دشوار ہے اس لیئے اسکا ہم دوش ان کو نہیں دیتے لیکن جو دعوی اللہ نظر کی جانب سے کیا گیا، کیا وہ اپنے آپ میں بطور ثبوت دنیا کو قابل قبول ہوسکتی ہے، یا یوں کہہ لیجئیے کہ قوم کو دی جانے والی اطلاع اتنی معتبر نہیں ہونی چاہئے کی جس میں شک کی گنجائش کم سے کم ہو، البتہ دشمن سے کسی بھی قسم کی حرکت کی توقع ہمہ وقت رکھنی چاہیئے کیونکہ وہ اعلانیہ طور پر دشمن ہے لیکن شک کا اظہار الگ چیز ہے اور کوئی دعوی کرنا الگ بات ہے، اس طرح کے دعوؤں سے جنہیں ہم دنیا کے سامنے ثابت نہ کرسکیں اور ہمارے پاس ثبوتوں اور حقائق جیسے اعداد و شمار کی قلت ہو تو کیا دنیا محض ہماری دعوے کی حقیقت تسلیم کریگی، گو کہ دنیا ہزارہا ثبوتوں اور گواہوں پر مبنی دیگر واقعات پر بھی خاموش ہے جیسے کہ مسخ شدہ لاشوں، اغوا نما گرفتاریوں اور اجتماعی قبروں جیسے معاملات پر لیکن اس میں اتنا ہے کہ کئی میڈیا کا نمائندہ کوئی انسانی حقوق کا نمائندہ یا عالمی اداروں یا ملکوں سے متعلق کوئی شخص اگر ہم سے کل کو ثبوتوں، اعداد شمار اور دستاویزی حقائق کے بارے دریافت کرے تو کم از کم ہم انکے سامنے کچھ نہ کچھ نامکمل ہی سہی مگر رکھ دیتے ہیں، لیکن اس معاملے دعوی کیا گیا کہ درجن بھر سے زائد خواتین کے ساتھ اجتماعی آبرو ریزی ہوئی اور ان میں سے ایک کی حمل کو بھی ضائع کروایا گیا، ان کے نام کیا تھے، کس خاندان و قبائل سے تعلق رکھتے تھے اور قومی تحریک کے حوالے سے انکی وابستگی کیا تھی کن وجوہات کے بنیاد پر ان کے ساتھ اس طرح کا گھناؤنا عمل کیا گیا ان تمام بنیادی سوالوں یا ثبوتوں کے متعلق ہمارے دعوی کرنے والے دوست خاموش ہیں، یہ کہنا کہ محض بلوچ ہونے کی بنیاد پر ہی انکے ساتھ اس طرح کا ناقابل عمل حرکت کیا گیا اور بلوچ ہونا ہی انکا جرم ٹھرگیا تو یہ چیز شاید بلوچ سیاسی میدان عمل میں نعرے کے طور پر کچھ کام دے سکے کچھ لوگوں کی جذبات میں ہیجان پیدا کرسکے لیکن حقائق اور دستاویز کی جگہ دنیا کے سامنے اس طرح کے دعوئے محض اور صرف ہماری جگ ہسائی ہی کی سبب بنیں گی اور کچھ نہیں، دنیا حقائق اور ثبوتوں کی بنیاد پر فیصلہ کرتی ہے، ابھی تک نہیں کررہی ہے تو اور بات ہے لیکن جب وہ ہماری بات سنے گی تو کچھ ٹھوس حقائق اور ناقابل تردید شواہد کی بنیاد پر ہی بات سنی جائیگی اس طرح کی بچگانہ حرکتوں سے ہم دنیا کی حمایت حاصل کرنے سے زیادہ اسے کھوتے ہوئے چلے جائیں گے۔
شیرو مری المعروف جنرل شیروف بھی بڑے ہی واشگاف الفاظ میں اپنے ایک انٹریو میں ایسے کچھ کہتے ہیں کہ دوران جنگ ہماری بچیاں منڈیوں میں فروخت ہوئی ہیں، لیکن وہ بات آج کی نہیں ہے اس بات کو تقریبا آج اٹھائیس تیس سال گزرچکے ہیں گو کہ اس میں سچائیاں ہیں، بسا اوقات اور بہت سارے مقامات پر اس طرح کی واقعات اس وقت کی جنگ میں بھی سامنے آتے رہے ہیں، پاکستانی فوج نے اپنی شکست کا غصہ نکالنے کے لیئے معصوموں پر مظالم کے پہاڑ اس وقت بھی ڈھائے تھے اور آج بھی وہی پہاڑ توڑے جارہے ہیں، لیکن بلوچ اجتماعی قوم پرست سیاست کے لیئے یہ چیز ہمیشہ ایک مسئلہ رہا ہے کہ ایسے حساس موضوعات و مسائل پر ہم نے صرف دعوے دیکھے ہیں کوئی ثبوت یا اثباتی نقطے موجود نہیں تھا، کوئی ایسا شواہد یا قرائن موجود نہیں کہ ہاں واقعی یہ ہوا ہے اور یہ ناقابل تردید سچائی بن چکی ہے، دعوے کے علاوہ بھی کچھ ہے جو دنیا یا قوم دیکھنا چاہتی ہے، یعنی جو ستم رسیدہ ہے وہ بات کرسکتی ہے، وہ سامنے آسکتی ہے وہ اپنے اوپر گزرجانے والی جان کن لمحات کو بیان کرسکتی ہے اور دنیا کے سامنے خود اپنے آپ کو اپنی کیس سمیت پیش کرسکتی ہے لیکن ہم نے آج تک ایسا ہوتا ہوا نہیں دیکھا، اس تحریک کے شروعاتی دنوں میں ایک عورت جو کہ بلوچ مزاحمت کی نشانی کے طور پر پاکستانی مظالم کے خلاف علامت بن کر ابھری وہ تھی زرینہ مری، اس پر منیر مینگل نے دوران حراست جنسی تشدد اور طرح طرح کے واقعات کے انکشافات کیئے، لیکن وہ بات منیر مینگل اور باقی بلوچ تنظیموں یا پارٹیوں کی خالی خولی دعوؤں سے آگے نہ بڑھ سکی یعنی نہ اسکا کوئی بھائی سامنے آسکا نہ ہی اسکے خاندان سے کوئی فرد نے آکر اس بات کی تصدیق کی ہاں زرینہ مری یا کسی اور نام سے ہمارے خٓاندان کے کسی خاتون کو عرصہ دراز سے اغوا کرکے غائب کیا گیا ہے اور جو بیان کیا جارہا ہے وہ ہماری خاندان کا فرد ہے، اس بات کو آج قریبا 15 برس بیت گئے ہیں اور اب تو کچھ علامتی تصویروں کے علاوہ کوئی خاص اسکا ذکر بھی نہیں کیا جاتا ہے، تمام پارٹی و تنظیموں سمیت منیر مینگل بھی اسکا ذکر بھول چکے ہیں، یہ بھی ہماری قوم کا خاصہ ہے کہ ہر گزرتے واقعے اور دعوے کو چھوڑ کر کسی نئے دعوے کی دامن تھام لو اور ہر نئے واقعے کے ساتھ پیچھے والے واقعے پرانے ہوتے جاتے ہیں اور سیاست چلتی رہتی ہے لیکن کوئی واقعہ اور اس سے جڑے کردار اپنے منطقی انجام کی جانب نہیں بڑھتے۔
سماجی حوالے سے عزت اور غیرت کو بنیاد بنا کر یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ ہاں ان لوگوں کے ساتھ یہ قبیح واقعہ ہوا تو ہے فوج نے انکے عورتوں بچوں کو اغوا تو کیا ہے لیکن وہ سامنے آنے اور اس پر مزید بات کرنے سے اس لیئے کتراتے ہیں کہ ان کی عزت کو مزید نہ اچھالی جائے اور مزید بدنام ہونے کے ڈر دامن گیر رہتا ہے تاکہ سماج کے اندر ان کو مزید خفت اٹھانا نہ پڑے، یا پھر قبضہ گیر فوجی کی طرف سے شاید ڈر اور مزید تشدد وجبری اغوا کا خوف ان تمام خاندانوں کو سامنے آنے سے روکتی ہے، مارے ڈر کے بہت سارے لوگ حقیقی اور اہم معاملات پر گوشہ نشینی اختیار کرلیتے ہیں، لیکن یہ عام لوگوں کی بات ہورہی ہے جو کہ ریاست کے تشدد اور مظالم سمیت سماج کے اندر بدنام ہونے سے ڈرتے ہیں، اگر یہی کوئی توجیح قومی جنگ میں شامل پارٹیاں اور تنظیمیں پیش کرنے لگ پڑیں تو میرے خیال میں یہ ایک سیاسی ناکامی کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں کہ لوگ مرے جارہے ہیں اور بے آبرو ہورہے ہیں لیکن وہ آواز اٹھانے سے اس لیئے ڈرتے ہیں انکو مزید تشدد کا شکار نہ کیا جائے یا سماجی حوالے سے وہ مزید بے آبرو نہ ہوجائیں اور قوم کے نام پر سیاست کرنے والی پارٹیاں بھی عام عوام جیسا برتاؤ کریں، یہ ایک حقیقت ہے کہ بہت سارے لوگ ان معاملات پر خاموش ہوجانے میں ہی غینمت دیکھتے ہیں، لیکن قومی معاملات میں ایسا نہیں ہوتا بلکہ جو پارٹی اور زمہ داران ہیں جو اپنے آپکو اس حوالے سے زمہ دار گرادنتے ہیں یہ انکی زمہ داری ہے کہ وہ ان معاملات پر حقائق کا کھوج لگا کر سامنے لائیں کیونکہ اس طرح اگر فوج روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں کی تعداد میں بلوچ خواتین پر جنسی تشدد کرتا رہے لیکن ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے دنیا اس طرف کبھی بھی متوجہ نہیں ہوگی اور ہمارے دعوے اور سیاسی بیانات حقیقت پر مبنی ہونے کے باوجود کوئی خاطر خواہ نتائج پانے میں ہمیشہ ناکام ہی رہیں گے، اسکی بنیادی وجہ ہماری سیاسی غیر سنجیدگی کے رویے ہیں، اور دوران جنگ ایسے واقعات کا منظر عام پر آجانا بہت ساری چیزوں کو متنازعہ فی بنانے کو کافی ہیں، ہم دعوے کرتے کہ پاکستان جنگی قوانین کا پاس نہیں رکھتا جو یقینا سچ ہے اور دوسری طرف انہی عسکری تنظیموں کی جانب سے ایسی مثالیں سامنے آتی ہیں جو کہ خود کراہت و نقاہت کے سبب بنے جارہے ہیں، مثلا قریبا 2 سال پہلے دشت میں ماہل نامی ایک بوڑھی بلوچ عورت کو اس کے نواسے سمیت مار دیا گیا اور اس میں شک ایک بلوچ آزادی پسند عسکری پارٹی کی طرف گیا، اسکے بعد تربت کے قریب ایک گاؤں میں رات کے وقت ابھی کچھ مہنے پہلے جمیلہ نامی خاتون کو ماردیا گیا اور اسکے کچھ دنوں بعد اسکے بھائی کو جو کہ ایک آذادی پسند عسکری تنظیم کے تحویل میں تھا کو غداری اور دشمن سے ساز باز کے الزام میں مار دیا گیا، اس میں بھی شک اسی گروہ کی جانب گیا مسئلہ مرد یا عورت کا نہیں ہے مسئلہ رجحانات اور رویوں کا ہے، کوئی ملزم مجرم ثٓابت ہونے تک سزا کا حقدار نہیں ہے اور کوئی بھی مجرم چاہے مرد ہو یا عورت معافی کے لائق نہیں ہے، لیکن ہمارے کچھ لوگ یہ بنیادی قانونی کلیہ بھول چکے ہیں، ان سب چیزوں نے ملکر ایک ایسا غیر سنجیدہ اور بے یقینی کی سیاسی ماحول کو جنم دیا ہے جہاں بہتیرے حقیقی واقعات پر ہونے والے دعوؤں پر بھی آسانی سے یقین کرنا مشکل سا ہوکر رہ گیا ہے، عالمی میڈیا اور ادارے اپنی جگہ خود علاقائی عوام بھی ان واقعات سے جڑے دعوؤں کے اصلیت پر مشکوک سے رویے کا اظہار کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، بسا معاملات میں حد سے زیادہ احتیاط برتنی پڑیگی، سنجیدگی کے اظہار اور رویوں میں تبدیلی کے علاوہ خالی خولی دعوؤں سے سینکڑوں سال گزرجانے کے بعد اور ہزارہا عصمت دریوں کے واقعات کے علاوہ بھی دنیا آپکی جانب متوجہ نہیں ہوگی۔
سوشل میڈیا پر بہت سارے لوگ اس بات پر سیخ پا نظر آتے ہیں کہ بلوچ کے غیرت پر حملہ ہوا ہے اور بلوچ خاموش ہیں، لیکن بات یہ ہے کہ مسئلہ قطعا غیرت کا نہیں مسئلہ سیاسی طور پر اجتماعی قومی قوت کا ہے، اجتماعی سیاسی قوت اگر مضبوط بنیادوں پر تشکیل پاسکے تو قوم کی عزت، حرمت اور اسکی ناموس پر کوئی بھی دوسری طاقت ہاتھ ڈٓلنے سے پہلے سو بار سوچے گی، سب سے بڑی اور شرمناک بات کسی قوم کے لیئے یہی ہے کہ اس کے پاس اجتماعی بنیادوں پر تشکیل پذیر کوئی سیاسی قوت نہ ہو باقی ساری چیزیں اسکے بعد آتی ہیں، چاہے وہ کشت و خون ہو، اجتماعی قبروں کا ملنا ہو، دشمن کے ہاتھوں روزانہ کی بنیاد پر مسخ شدہ لاشوں کا ملنا ہو یا پھر خواتین بچوں کو گرفتار کرکے انکے ساتھ فوجی کیمپوں میں ہونے والی مبینہ اجتماعی زیادتیوں کے واقعات ہوں، سوشل میڈیا پر رونے دھونے اور سر دھننے سے کہیں اچھا ہے کہ کارکن اپنے سیاسی جماعتوں کے کرتا دھرتاوں کو اس بات پر مجبور کریں کہ وہ اجتماعی بلوچ سیاسی قوت کے محاز کی تشکیل کی کوششوں میں اپنی کردار ادا کرتے ہوئے خلوص اور نیک نیتی کا مظاہرہ کرے اسکے علاوہ کوئی اور چارہ و رستہ نہیں ہے، اس کے لیئے ہاں سے ہاں ملانے کی سیاسی مصلحت اور چاپلوسی کے رویوں کو چھوڑنا ہوگا اور خلوص نیت سے اس بات پر سوچ بچار کرتے ہوئے لیڈرشپ پر اس حوالے سے دباؤ بڑھانی ہوگی کیونکہ بلوچ آذادی کے حوالے سے کوئی بھی کوشش بغیر اجتماعی قوت کے حصول کے کارگر ثابت نہیں ہوسکتی، اور یہی وہ منتشر سیاسی قوت کی کمزوری کے اسباب ہیں کہ آج دشمن کے پنجے ہماری صفحوں کو پچھاڑ کر ہماری ماں بہنوں بیٹیوں کی دامن تک پہنچ چکی ہیں، اگر دشمن کی اس غلیظ کردار پر روک لگانی ہے تو سب سے پہلے انتشار کی رستوں کو روکو اور ان کرداروں کو بے نقاب کرو جو کہ سطحی اور فروئی مفادات کی خاطر آج بلوچ اجتماعی طاقت کا دھڑن تختہ کرچکے ہیں اور حقیقی سیاسی مفادات کی حصول کے بجائے جھوٹ کے سہارے سب سے آگے نکلنے کی تگ و دو میں ہیں، آج کی دنیا میں اجتماعی سطح پر قوموں کی عزت اور غیرت انکی سیاسی اجتماعی قوت پر منحصر ہے اگر آپ کے پاس ایک ایسی قوت ہے جس سے آپ دشمن کے بنیادوں کو ہلا کر رکھ سکیں تو پہلے دشمن ایسا کوئی بھی عمل کرنے سے پہلے سو بار سوچے گی اور اگر جذبات کی شدت اور ردعمل کی نفسیات سے مغلوب دشمن کوئی ایسا عمل کر گزرے تو اسے ایسا جواب ملے کہ ساری دنیا کی نظریں آپ پر مرکوز ہوجائیں اس کے بغیر لاکھ جتن کرلیں کوئی شنوائی نہیں ہونے والا، سوشل میڈیا میں ٹکڑوں میں بٹ کر کسی مدعے پر بات کرنے سے نہ کل کچھ حاصل ہوا تھا نہ ہی آج کچھ ہاتھ آنے والا ہے، قومی اجتماعی طاقت کے دھڑن تختہ کرنے والے قوتوں کے گریبان تک اب ہاتھوں کا پہنچنا لازمی ہے وگرنہ صورتحال یہی رہیگی اور بلوچ مرد اور بچے تو پہلے سے ہی مارے جارہے ہیں اب بلوچ خواتین کی بھی عزتیں عقوبت خانوں میں تار تار ہوتی رہیں گی اور کارکن اسی طرح چیختے چلاتے رہیں گے اور عالمی دنیا سے بندھی ہوئی امیدیں بار بار چکنا چور ہوکر مایوسی کی اتاہ گہرائیوں کی نظر ہوجائیں گی۔
ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے علاقے پہرہ(ایرانشہر) میں ہونے والی چشم کشا واقعے پرجہاں 41 بلوچ خواتین کی آبرو ریزی کی گئی، اس بہیمانہ واقعے پر بعض مخصوص حلقوں نے چھپ سادھ رکھی ہے اسی ضمن میں کسی دوست نے پیغام بیجھا کہ کہیں ڈاکٹر اللہ نظر کی خاران میں ہونے والی واقعے کی دعوی محض ایرانی قبضہ گیر قاجار کے کارندوں کے ہاتھوں عصمت دری کے شکار ہونے والے 41 بلوچ خواتین سے ہونے والی جنسی زیادتی کے مسئلے سے توجہ ہٹانے کے لیئے تو نہیں تھا تو اسکے جواب میں فورا میں نے اس سے باز پرس کی ایسا کوئی کیوں کرے گا، تو انہوں نے جوابا عرض کی تاکہ انکے ایرانی آقا قاجار پر عوامی غم و غصے کا لہر ذرا سی تھم جائے اور توجہ منتشر ہوکر دو جانب بٹ جائے، بات اصل میں سوچنے کی ہے کہ ایران میں جہاں 41 بلوچ عورتوں کی عصمت دری ہوئی ہے، ملزمان بھی پکڑے گئے انہوں نے اعتراف جرم بھی کیا لیکن اس معاملے کو چھوڑ کر واشک جیسا ایک مبینہ واقعے کی ذکر چھیڑ دی گئی اور ثبوت و شواہد کے میدان میں ایسا سناٹٓا کہ سوئی گرے تو شور مچائے، آج تک اللہ نظر سے لے اسکے چتھر چھایا میں جمع تمام لوگوں کی بیانوں میں کہیں پر بھی کوئی ثبوت، شواہد، گواہ یا حقائق کی طرف کوئی اشارہ نہیں ملتا بس یہی اطلاع دی جاتی رہی ہے کہ واشک میں بلوچ خواتین کے ساتھ جنسی تشدد کا واقعہ رونما ہوا ہے، کسی کی بھی ذریعہ معلومات و خبر کسی دوسرے سے مختلف نہیں تھی بلکہ سب نے اللہ نظر کی دعوی کی نقل کرتے ہوئے میڈیا میں محض اور صرف اس حوالے سے دعوے ہی کیئے ہیں، ادارہ و ماس پارٹی ہونے کے زعم میں مبتلا بی این ایم نامی ایک پارٹی نے لندن جیسے عالمی سیاسی مرکز میں بھی اس حوالے سے احتجاج کیا لیکن وہاں کے احتجاج کے بعد جاری ہونے والے پریس ریلیز میں بھی ایسی کوئی بات یا ثبوت و شواہد کی نشاندہی نہیں کی گئی تھی کہ جس سے عالمی میڈیا از خود اپنی تحقیقات کے لیئے کوئی راہ نکالتے بلکہ وہاں بھی وہی اطلاعاتی باتیں تھیں جو کہ پچھلے دس روز سے تواتر کے ساتھ الفاظوں کے بدلاؤ کے ساتھ دہرائے جارہے ہیں، ایک بندے نے وہاں گنتی کے 6 لوگوں سے خطاب بھی کیا لیکن وہی شکریے اور مزید اچھے مظاہروں کے واسطے مزید محنت کرنے کی دہائی کے علاوہ اس واقعہ پر کوئی بھی ٹھوس بات رکھنے کی کوشش نہیں ہوئی، اب اگر ہم اسے مبینہ نہ کہیں تو کیا کہیں، کوئی تحریک میں کاروان کے ساتھ شامل ہوکر قوم پر کوئی احسان نہیں کرتا کہ اسکی ہر بات کو ہم بلا چون و چرا مانتے جائیں بلکہ سب کو زمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی بات محض اپنی ذاتی و گروہی فائدے کے لیئے نہیں بلکہ تحریک کے اجتماعی مفادات کے پیش نظر رکھ کر رکھنی چائیے۔
ہم تنقید اس لیئے نہیں کرتے کہ ہمیں کسی تنظیم پارٹی یا رہنما سے کوئی ذاتی مسئلہ ہے یا ہمارے درمیان کوئی خاندانی و قبائلی چپقلش ہے بلکہ ہم تنقید اس لیئے کرتے ہیں تاکہ تحریک میں اس طرح غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے کی حوصلہ شکنی کی جاسکے، اگر اللہ نظر نے محدود معلومات کی بنیاد پر یہ بیان دیا تھا تو یہ دوسرے بیان داغنے والے پارٹیوں کی سیاسی اور اخلاقی زمہ داری بنتی تھی کہ وہ محض اس بات کو نقل کرکے ہو بہو دہرانے کے بجائے کچھ تحقیقات کرکے کچھ قابل قبول حقائق سامنے لے آتے یا کم از کم دنیا کو یہ بتاتے کہ اس جبر کے اصلی متاثرین کون لوگ تھے اور کیوں کر انکو پاکستانی فوج اپنی حوس کا نشانہ بنا چکے ہے، لیکن ثبوت و گواہوں سے تہی دامن ہوتے ہوئے ایسے لگتا ہے کہ اسکور کو برابر کرنے کے لیئے ایک دوڑ لگی ہے اور اس میں اول آجانے کی دھن میں رقصاں یہ لوگ پارلیمانی پارٹیوں کی طرح بس ایشو کو بنیاد بناکر اپنی سیاست کی دکان چمکانا چاہتے ہیں، اس سے اور تو کچھ حاصل نہیں ہوسکے گا البتہ اجتماعی تحریکی مفادات اور سنجیدہ رجحانات ضرور داؤ پر لگ جائیں گے جہاں دنیا ہماری ہر دعوے کو مشکوک بنیادوں پر پر رکھ کر اسے ردی کی ٹوکری کی نظر کردیگی، اسکا دوسرا نقصان یہی ہے کہ آذادی پسند سیاست میں بھی ایشو کی بنیاد پر پارلیمانی پارٹیوں کی نلکہ نالی کی بنیاد پر ہونے والی سیاست جیسا ایک مسئلہ سر اٹھاتا ہوا نظر آرہا ہے، ایک دوڑ ہے جس میں سب اول آنے کی کوششوں میں مقصد کو پیروں تلے روند کر آگے کی جانب سرپٹ دوڑے جارہے ہیں، یعنی جھوٹ اور سچ کا کوئی تمیز موجود ہی نہیں ہے، اس سے ان پارٹیوں کو نقصان نہیں ہوگا کیونکہ ریاضیاتی سادہ کلیے کے تحت ان پارٹیوں کے لیئے ایک نمبر ملنے کا مطلب یہی ہوگا کہ آج اگر وہ دوسرے درجے پر کھڑے ہیں تو اس طرح دوڑ میں سرپٹ بھاگ کر کچھ لوگوں کی ہمدردیاں بٹور کر وہ شاید دوسرے سے تیسرے درجے پر آکر فائز ہوجائیں لیکن جو مجموعی تحریک کی صورتحال ہے اصل نقصان اس اجتماعی محاذ پر ہے اگر آج اللہ نظر اور بی این ایم و دیگر چیلے چپاٹے اپنی غیر مصدقہ دعوؤں کے زریعے کچھ سیاسی ہمدردیاں بٹور کر دوسروں سے بڑھ کر تیسرے درجے پر ترقی کریں گے لیکن انکی اس ایک درجے کی پیشرفت تحریک کو مجموعی حوالے سے شاید 12 کے درجے سے اٹھا کر 6 کے درجہ پر پھٹک دے گی، اگر کسی کو یہ اجتماعی نقصان کا تخمینہ سمجھ میں آگیا تو وہ کبھی بھی اس ایک درجے کی پیشرفت کو لے کرکے نازاں نہیں ہوگا بلکہ اس پر تاسف کا ہی اظہار کرے گا، ایرانی مقبوضہ بلوچستان میں ہونے والی چشم کشا اور حقائق سے بھرپور واقعات پر آنکھیں موند کر واشک اور خاران میں اسی طرز کی مبینہ واقعے کا ذکرکرکے ثبوتوں اور حقائق کو تشنہ چھوڑ دینا بہت سے خدشات کو جنم دیتا ہے، ہم پاکستانی فوج اور اسکی حواریوں سے اس غلامی کی زندگی کے ہر گزرتے لمحے میں یہی توقع رکھتے ہیں کہ وہ وہی کرگزرے گا جو اسکے بس میں ہو، عصمت دری تو خیر آزمائی ہوئی گر ہے لیکن چاہے کوئی ادنی واقعہ ہو یا کوئی بہت ہی بڑٓا اور ناقابل یقین واقعہ ہو یہ ضرور یاد رہے کہ کسی بھی واقعے کی سرزد ہونے کی دعوی کرنے والے لوگوں کی یہ بھی زمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس واقع کے حوالے سے دنیا کے سامنے کم از کم ان واقعات کی حقائق تک پہنچنے کا راستہ ضرور واضح کردیں، کم سے کم مقدار میں ثبوت فراہم کرنا دعوی کرنے والوں کی سیاسی زمہ داری بنتی ہے وگرنہ ایسے ثبوتوں سے عاری اور عجلت زدگی میں کی گئی دعوؤں کا خمیازہ پوری بلوچ اجتماعی تحریک کے سنجیدہ بنیادوں کو بگھتنا پڑے گی۔















