25 نومبر خواتین پر تشدد کے خاتمے کا عالمی دن
دنیا بھر میں 25 نومبر “عورتوں پر تشدد کے خاتمے کا عالمی دن” کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کے کنونشن کے مطابق حقوق، مساوات اور انصاف کے دعوے کیے جاتے ہیں، تقریریں ہوتی ہیں، قراردادیں منظور کی جاتی ہیں، انسانی حقوق کی تنظیمیں رنگین بینرز کے ساتھ تشدد کے خاتمے‘‘ کی بات کرتی نظر آتی ہیں۔
لیکن اس عالمی دن کے بیچ بلوچستان ایک ایسا خطہ ہے جو تمام عالمی بیانیوں، نعروں اور دعوؤں کو خود اپنی حقیقت سے جھٹلا دیتا ہے
یہاں عورت کے زخم ابھی تک تازہ ہیں۔ یہاں آنسو خشک نہیں ہوتے، کہ ایک نیا المیہ سامنے کھڑا ملتا ہے۔ بلوچستان میں خواتین پر تشدد کوئی حادثہ، کمزوری یا سماجی خامی نہیں یہ ریاستی پالیسی کی شکل میں برسوں سے جاری منظم جبر ہے
بلوچ خواتین پر تشدد ریاستی حکمتِ عملی
بلوچستان شاید دنیا کا وہ واحد خطہ ہے جہاں عورت کو اس کے اپنے جرم پر نہیں
بلکہ اس کے باپ، بھائی، بیٹے، منگیتر، خاندان یا صرف اس کے شعور کے جرم میں سزا دی جاتی ہے
یہاں عورت خطا کار نہیں ہوتی باشعور ہوتی ہے، اور یہی اس کا جرم قرار پاتا ہے۔
بلوچ خواتین کے ساتھ ہونے والا تشدد ایک منصوبہ بند حکمتِ عملی ہے، جس کا مقصد ہے
بلوچ معاشرے کو خوف میں مبتلا رکھنا
مزاحمتی آوازوں کو خاموش کرنا
خاندانوں کو توڑ کر سیاسی جدوجہد کو کمزور کرنا
خواتین کو نشانہ بنا کر اجتماعی سزا نافذ کرنا
وہ کہانیاں جو عالمی دنیا سے چھپی نہیں رہ سکتیں
زرینہ مری شعور کی سزا
2005 میں اپنے شیرخوار بیٹے کے ساتھ کوہلو سےجبراً لاپتہ کی گئیں
آج تک کوئی سرکاری وضاحت نہ آ سکی۔
گواہوں کے مطابق انہیں خفیہ عقوبت خانوں میں بدترین تشدد اور جنسی زیادتی کا سامنا کرنا پڑا۔
ان کا جرم: تعلیم دینا، شعور بیدار کرنا، سچ کا ساتھ دینا
نسرینہ بلوچ 15 سالہ بچی جسے بلوچ ہونے کی سزا دی گئی
حب چوکی کے ایک گھر سے اٹھایا گیا۔
نہ کوئی مقدمہ، نہ سیاسی وابستگی، نہ کوئی الزام—
صرف بلوچ ہونا ہی کافی تھا۔
ماہ جبین بلوچ سوال پوچھنے کا جرم
بیسمہ کی معذور طالبہ،
29 مئی 2025 کو جبراً لاپتہ۔
وہ ایک تعلیم یافتہ بلوچ نوجوان تھی،
جس کے پاس صرف ایک “سوال کرنے” کی صلاحیت تھی
نازیہ شفیع تشدد میں سانس لینے سے محروم
پنجگور سے اٹھایا گیا۔
وحشیانہ تشدد اور مبینہ زیادتی کے بعد اسپتال لائی گئیں، جہاں دم توڑ گئیں
یہ پیغام کہ اگر بلوچ عورت سر اٹھائے گی تو اس کا انجام موت ہے
کریمہ بلوچ جو دنیا کے کسی خطے میں بھی محفوظ نہ رہ سکی
جبری گمشدگیوں کے خلاف عالمی آواز
دھمکیوں کے باعث کینیڈا ہجرت کی۔
20 دسمبر 2020 میں لاپتہ ہوئیں، چند دن بعد لاش ملی
دنیا بھر کے اداروں کی خاموشی نے ثابت کیا کہ بلوچ عورت کے لیے کوئی ملک محفوظ نہیں
جبر کی تین شکلیں بلوچ خواتین کی تقسیم
ریاستی جبر نے بلوچ عورت کو تین طبقات میں بانٹ دیا ہے
وہ عورتیں جو قید و بند میں ڈاکٹر مہرنگ بلوچ ، بیبو بلوچ ،گلزادی بلوچ
اور دیگر متعدد کارکنان
آٹھ سے زائد مہینوں سے بغیر ٹرائل کے جیلوں میں بند ہیں
ان کا جرم صرف صوتِ حق ہونا ہے
وہ جو سفری پابندیوں میں قید ہیں
انہیں سرحدوں، ائیرپورٹس اور شہروں تک محدود کر دیا گیا ہے
اقراء بلوچ، سمی دین جان،ڈاکٹر صبیحہ بلوچ، ڈاکٹر شلی بلوچ ناز گل ،سید بی بی شریف ماہزیب بلوچ ، زرمینہ حاکمین بلوچ
یہ سب 4th شیڈول، ECL، دہشت گردی واچ لسٹ میں مزکورہ لوگوں کی ناموں شامل کی گئیں ہیں
صرف اس لیے کہ وہ ظلم کے خلاف آواز اٹھاتی ہیں
یہ وہ خاندان جو انصاف کی تلاش میں ٹوٹ گئے
سینکڑوں مائیں، بہنیں اور بیٹیاں
اپنے پیاروں کی تصویریں ہاتھوں میں اٹھائے سڑکوں پر کھڑی ہیں۔
انصاف مانگتی ہیں تو غدار کہلائی جاتی ہیں۔
صدیوں پر محیط درد ان کے چہروں کی شکنوں میں لکھا جا چکا ہے
غیرت کے نام پر قتل ایک اور میدانِ جنگ
ریاستی خاموشی نے معاشرے کو بربریت کے حوالے کر دیا ہے۔
دشت ڈیگاری کی بانو بلوچ اس ظلم کی بدترین مثال ہے
بیچ چوراہے درجنوں مردوں کے سامنے قتل کیا گیا،
اور قاتل آج بھی آزاد گھومتے ہیں
عالمی دن… مگر بلوچ عورت کے لیے اس کا کیا مطلب؟
دنیا 25 نومبر کو تشدد کے خلاف کھڑی ہونے کا دعویٰ کرتی ہے۔
مگر بلوچستان کی عورت آج بھی
ماورائے عدالت اغوا کی جاتی ہے
لاپتہ کی جاتی ہے
تشدد اور زیادتی کا نشانہ بنتی ہے
غیرت کے نام پر قتل ہوتی ہے
ECL، چوتھے شیڈول، واچ لسٹوں اور جھوٹے مقدمات میں قید ہوتی ہے
احتجاج کرے تو غدار کہلائی جاتی ہے
اقوامِ متحدہ کے نعرے، رپورٹیں اور سیمینارز
سب کاغذی کارروائیوں سے زیادہ کچھ نہیں
اگر عالمی انسانی حقوق واقعی کوئی معنی رکھتے ہیں
تو بلوچ عورت پر ہونے والے مظالم کو انسانیت کے خلاف سنگین جرم تسلیم کیا جائے
بلوچ عورت مظلوم نہیں، مزاحمت کی علامت ہے
بلوچ عورت صرف ظلم کا شکار نہیں
وہ اس کے خلاف سب سے مضبوط اور زندہ مزاحمت ہے۔
وہ اپنے پیاروں کی تصویریں اٹھا کر سڑکوں پر کھڑی ہے
وہ جیل کی کوٹھڑی میں بھی مزاحمت ہے
وہ سفری پابندیوں میں بھی آواز ہے
وہ ہر دیوار، ہر رکاوٹ، ہر دھمکی سے ٹکرا چکی ہے
مگر جھکی نہیں، نہ کبھی جھکے گی
بلوچ عورت دراصل اس ظالمانہ نظام کے خلاف
سب سے بڑی مزاحمت، سب سے مضبوط دیوار اور سب سے گہری چیخ ہے
25 نومبر دنیا بھر میں تشدد کے خلاف یکجہتی کا دن ضرور ہے،
مگر بلوچستان کی خواتین کیلئے یہ دن
ریاستی جبر، عالمی خاموشی اور دوہرے معیار پر ایک شدید سوالیہ نشان ہے
جب تک بلوچ عورت کے زخموں کو تسلیم نہیں کیا جاتا،
اس کی چیخ کو سنا نہیں جاتا،
اور اس کی جدوجہد کو حق نہیں دیا جاتا
تب تک عالمی دن، سیمینارز، بیانات اور قراردادیں
صرف کھوکھلے نعرے رہیں گے۔
بلوچ عورت آج بھی
ظلم کے سامنے دیوار بن کر کھڑی ہے
اور اس مزاحمت کی گونج
دنیا کے ہر دروازے تک کسی نہ کسی دن ضرور پہنچے گی۔















